ملک میں فٹ بال کے کھیل کو تباہی سے بچانے اور کھلاڑیوں کے روزگار کے تحفظ کیلئے کراچی پریس کلب پر احتجاج کیا گیا۔
احتجاجی مارچ میں کراچی کے انٹرنیشنل فٹبالرز، کوچز، آفیشلز سمیت ملک کے دیگر حصوں سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے شرکت کی۔ احتجاجی مارچ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ ہمارا ایجنڈا صرف ایک ہی ہے کہ فٹبال کو عالمی معیار پر لانے کیلئے خلوص نیت سے توجہ دینے کی ضرورت ہے تا کہ پاکستان میں فٹبال ماضی کی طرح پھر انٹرنیشنل سطح پر اپنی ایک پوزیشن بنائے۔
ریلی میں قومی فٹ بال ٹیم کے سابق کپتان محمد عیسی، غلام شبیر، محمد طارق، گلزار احمد، اونگزیب شاہد، اورنگزیب یار محمد، عبدالصمد، عبدالواحد، اعجاز کارا، قاسم سومار، وسیم احمد فیصل حسن، اکبر، عبدالغفور اور دیگر کھلاڑیوں کے علاوہ مقامی فٹ بالرز اور ننھے فٹ بال لورز کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ریلی کے شرکاء آٹھ چوک لیاری سے آرٹس کونسل پاکستان پہنچے اور وہاں سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکاء کا کسی بھی فٹبال گروپ یا فیڈریشن سے تعلق نہیں ہے جو اقتدار کی دوڑ میں شامل ہیں۔ تمام پلیئرز اور کوچز کا مقصد صرف فٹبال کی بحالی ہے۔