آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 20؍رمضان المبارک 1440ھ26؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ ہفتے میرے قریبی دوست کے چچا راجہ نصر اللہ خان جو سعودی عرب میں انگلش کے پروفیسر رہے ہیں اور انٹرنیشنل ریلیشنز (IR)کے کچھ طالبعلموں جو ڈاکٹریٹ کیلئے اپنے مقالے تیار کررہے ہیں، نے خصوصی درخواست کی کہ 11ستمبر کو قائداعظم محمد علی جناحؒ کے یوم وفات کے موقع پر پاکستان کی پہلی وفاقی کابینہ پر کالم تحریر کروں۔ میں خود بھی چاہتا تھا کہ نوجوان نسل کو یہ بتائوں کہ قائداعظم نے قیام پاکستان کے بعد میرٹ اور صرف میرٹ کی بنیاد پر کرپشن سے پاک باصلاحیت شخصیات کو اپنی کابینہ میں شامل کیا جنہوں نے انتہائی مشکل حالات میں محدود وسائل ہونے کے باوجود اپنی قابلیت سے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا۔
پاکستان کی پہلی وفاقی کابینہ نے 15 اگست 1947ء کو حلف اٹھایا اور ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو وزارت عظمیٰ کے علاوہ وزارت خارجہ، کامن ویلتھ ریلیشنز اور وزارت دفاع کی ذمہ داریاں سونپی گئیں جبکہ آئی آئی چندریگر وزیر صنعت، تجارت اور ورکس، غلام محمد وزیر خزانہ، عبدالرب نشتر وزیر مواصلات، غضنفر علی خان وزیر خوراک، زراعت اور صحت، جوگیندرا ناتھ منڈال وزیر قانون و محنت، فضل الرحمن وزیر داخلہ، اطلاعات و نشریات، تعلیم اور برطانوی راج کے سر آرچی بلڈ رونلڈ مالی مشیر مقرر کئے گئے۔ اسی طرح قائداعظم نے برطانوی راج کے کئی

ٹیکنوکریٹس جن میں مشرقی بنگال کے گورنر سر فیڈرک بورنی، مغربی پنجاب کے گورنر سر فرانسس نیوڈی، NWFP کے گورنر سرجارج کونیگم شامل تھے، کو حکومتی انتظامی امور کا حصہ بنایا جبکہ سندھ بلوچستان میں گورنر اس لئے تعینات نہیں کیا گیا کیونکہ یہ صوبے گورنر جنرل قائداعظم کے ماتحت تھے۔ قیام پاکستان کے وقت مسلح افواج کے تمام سربراہ بھی برطانوی نژاد تھے جن میں بری فوج کے سربراہ سر فرینک میسروے، ایئرفورس کے سربراہ ایئروائس مارشل پیری کینی اور پاکستان نیوی کے سربراہ ایڈمرل جیف فورڈ شامل تھے۔ 28 فروری 1948ء کو وزیر خزانہ غلام محمد نے پاکستان کا پہلا بجٹ پیش کیا اور محدود وسائل ہونے کی بناء پر حکومتی اخراجات پورے کرنے کیلئے نظام حیدرآباد نے حکومت کو 20 کروڑ روپے کا قرضہ دیا۔ اس کے علاوہ مہاتما گاندھی کی مدد سے بھارت کے مرکزی اثاثوں میں سے پاکستان کے حصے کے شیئرز کی مالی ادائیگی کی گئی جس کی وجہ سے پاکستان اپنے قیام کے چند مہینوں میں دیوالیہ ہونے سے بچ گیا۔
حکومت کی تشکیل کے بعد قائداعظم محمد علی جناح اپنی علالت کی وجہ سے صرف 11مہینے ملک کی خدمت کرسکے اور 11ستمبر 1948ء کو دار فانی سے رخصت ہوگئے جنہیں کراچی میں بندر روڈ پر نمائش کے نزدیک ایک چھوٹی سی پہاڑی پر دفن کیا گیا جہاں آج مزار قائد ہے۔ قائداعظم کی وفات کے بعد 14 ستمبر 1948ء کو برطانیہ کے کنگ جارج ششم نے رائل ڈکری کے تحت خواجہ ناظم الدین کو قائم مقام گورنر جنرل مقرر کیا۔ 1952ء میں لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین پاکستان کے دوسرے وزیراعظم بنے جبکہ غلام محمد کو گورنر جنرل نامزد کیا گیا لیکن جب خواجہ ناظم الدین نے گورنر جنرل کے اختیارات کم کرنے کی کوشش کی تو گورنر جنرل غلام محمد نے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کی حکومت برطرف کرکے اُن کی جگہ محمد علی بوگرہ کو وزیراعظم نامزد کردیا تاہم اسمبلی اراکین کی اکثریت کی حمایت نہ ملنے کی وجہ سے ان کی جگہ چوہدری محمد علی کو وزیراعظم منتخب کیا گیا۔ اسی دوران اسکندر مرزا پاکستان کے چوتھے اور آخری گورنر جنرل مقرر ہوئے۔ 2 مارچ 1956ء کو پاکستان کا پہلا دستور منظور کیا گیا جس میں ملک کو ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دیا گیا اور اسی دستور کے تحت اسکندر مرزا گورنر جنرل سے صدر بن گئے۔
چوہدری محمد علی ستمبر 1956ء تک پاکستان کے وزیراعظم رہے لیکن بعد میں اسمبلی اراکین کی اکثریت کی حمایت نہ ملنے کے باعث حسین سہروردی وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوئے تاہم صدر اسکندر مرزا نے ری پبلکن پارٹی کے فیروز خان نون کی حمایت کرنے کی بناء پر حسین سہروری کو استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جس کے بعد اسماعیل ابراہیم چندریگر کی قیادت میں مسلم لیگ کی اتحادی حکومت تشکیل دی گئی جو صرف دو ماہ رہی اور بعد ازاں فیروز خان نون کی قیادت میں ری پبلکن پارٹی نے اقتدار سنبھالا۔ اس موقع پر صدر اسکندر مرزا کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ ان کے دوبارہ صدر بننے کے کوئی امکانات نہیں، اس لئے انہوں نے 7 اکتوبر 1958ء کو منتخب حکومت برطرف کرکے آرمی چیف جنرل محمد ایوب خان کو چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر نامزد کردیا مگر جنرل ایوب خان صرف 20 دن بعد ہی اسکندر مرزا سے استعفیٰ لے کر خود پاکستان کے صدر بن گئے۔ ان پے درپے سیاسی تبدیلیوں نے حکومتوں کو تسلسل سے کام کرنے کا موقع نہیں دیا اور کرسی کے حصول کی جنگ کے باعث پاکستان کی معاشی ترقی انتہائی سست روی کا شکار رہی تاہم جنرل ایوب خان کے 11 سالہ دور میں پاکستان نے معاشی طور پر تیزی سے ترقی کی۔ پاکستان بنیادی طور پر زرعی ملک ہے لیکن اُس دور میں ملک میں صنعتوں، بینکنگ نیٹ ورک اور سروس سیکٹر کے شعبوں کے فروغ کی سخت ضرورت تھی۔ مغربی پاکستان میں کاٹن اور مشرقی پاکستان میں جوٹ اہم خام مال تھے لیکن آزادی کے وقت مجموعی 394 کاٹن ملز میں سے پاکستان کو صرف 14کاٹن ملز ملی تھیں۔ پاکستان کی دونوں بندرگاہوں کراچی اور چٹاگانگ میں جدید آلات نہ ہونے کی وجہ سے معمولی کارگو ہینڈل کیا جاتا تھا۔ سروس سیکٹر میں مالی اور بینکنگ اداروں کو چلانے کیلئے تربیت یافتہ افراد کی سخت ضرورت تھی۔ نئی ملازمتیں فراہم کرنے کیلئے ملک کو زرعی پیداوار پر مبنی صنعتوں کی ضرورت تھی جس کیلئے وفاقی کابینہ نے کئی ترقیاتی بورڈ، پلاننگ کمیشن اور پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PIDC) تشکیل دی۔ نیشنل اکانومی کمیٹی (NEC) تشکیل دی گئی جس میں 6 سالہ معاشی پلان1951-57اور پہلا پانچ سالہ پلان 1955-60) قابل ذکر ہیں۔ ہارورڈ ایڈوائزری گروپ اینڈ فورڈ فائونڈیشن نے ان معاشی پلان کو تشکیل دینے میں مدد کی جس میں زراعت، ٹرانسپورٹ، کمیونی کیشن، صنعت، مائننگ اور سماجی بہبود کی اسکیمیں شامل کی گئی تھیں لیکن بدقسمتی سے اِن منصوبوں پر موثر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔
1960ء سے 1970ء کے دوران ملک میں صنعتی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PIDC) کے تحت ملک میں بڑی صنعتیں لگائیں جن میں ہرنائی وولن ملز، لائل پور کیمیکلز، کوہ نور شوگر، قائد آباد وولن ملز، پاک امریکہ فرٹیلائزر، سوئی گیس ٹرانسمیشن، کراچی شپ یارڈ، زیل پاک سیمنٹ، چارسدہ شوگر ملز اور مشرقی پاکستان میں آدمجی جوٹ ملز کی طرز پر 10 جوٹ ملز اور شوگر ملز لگائے گئے۔ اسی دوران ملک میں کئی انڈسٹریل ڈویلپمنٹ فنانس بینک (IDFBs) جس میں پاکستان انڈسٹریل کریڈٹ کارپوریشن (PICC)، نیشنل ڈیفنس فنانس کارپوریشن (NDFC) اور انڈسٹریل ڈویلپمنٹ بینک آف پاکستان (IDBP) شامل ہیں، قائم کئے گئے جنہوں نے ملک کی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کیا لیکن بعد میں یہ ادارے سیاسی بنیادوں پر دیئے گئے اربوں روپے کے قرضوں کے نادہندہ ہونے کی وجہ سے بالآخر بند ہوگئے۔پاکستان کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے میں اُن چند اقدامات کے بارے میں بھی بتاتا چلوں جن سے ہماری معاشی ترقی کو نقصان پہنچا۔ان میں قیام پاکستان کے بعد جاگیرانہ اور وڈیرانہ نظام کا جاری رہنا، صنعتوں اور اداروں کی نیشنلائزیشن یعنی سرکاری تحویل میں لینا، ایٹمی دھماکے کے بعدفارن کرنسی بینک اکائونٹس منجمد کرنا، جمہوریت کا گلا گھونٹ کر ڈکٹیٹرز کی طویل حکمرانی اور جنرل ضیاء الحق کا پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی کو فروغ دینا شامل ہیں مگر ان تمام حالات کے باوجود پاکستان کے زیرو سے شروع ہونے والے ترقی کے سفر پر ایک پاکستانی ہونے کے ناطے ہمیں فخر کرنا چاہئے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں