اسلام آباد (طارق بٹ) ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر پولیس کے چھاپے اور گرفتاری کے ہنگامے کی وجہ سے حکومت سندھ کو شدید شرمندگی اٹھانی پڑی ہے۔ اس سے نہ صرف انتظامیہ کے مختلف اداروں کے درمیان رابطے کے شدید فقدان کی عکاسی ہوتی ہے، بلکہ کراچی آپریشن میں اس طرح کی کارروائیوں پر کئی سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ اس ہنگامے کی وجہ سے ایم کیو ایم پاکستان کی مشکلات میں اور اضافہ ہوگیا ہے، اگرچہ ایم کیو ایم میں کافی تبدیلی آئی ہے، اس نے 22 اگست کو پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کے بعد الطاف حسین سے مکمل قطع تعلق کرلیا ہے اور ریاست کے تمام اداروں سے نرم رویوں کی امیدیں لگائے بیٹھی ہے۔ اس نے خود پر جبر کرکے جو تبدیلی کی ہے، اس کے بعد بھی اس کی مشکلات میں کمی کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ ایس ایس پی راؤ انوار کی قیادت میں پولیس پارٹی نے چھاپہ عین اس وقت مارا جب اظہار الحسن ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات کررہے تھے۔ اس سارے معاملے میں رینجرز کا کردار نظر نہیں آیا۔ نہ تو وزیر اعلیٰ اور نہ ہی آئی جی پولیس اے ڈی خواجہ کو اس آپریشن کا پتہ تھا۔ اسپیکر سندھ اسمبلی آغاز سراج درانی بھی اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار کی گرفتاری سے لاعلم تھے۔ قانون کے تحت کسی رکن اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کو پہلے اطلاع کرنی ضروری ہے۔ اس کارروائی پر آغاز سراج درانی بھی برہم ہوئے اور انہوں نے چیف سیکرٹری کو خط لکھنے کا اعلان کیا۔ بلاشبہ اس سب سے پتہ چلتا ہے کہ راؤ انوار کی کارروائی وزیر اعلی یا آئی جی سندھ کے حکم پر نہیں کی گئی۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ راؤ انوار نے کسی طاقتور حلقے کی رضامندی کے بغیر خود سے ہی چھاپہ مارا ہو۔ مراد علی شاہ اتنے شرمندہ اور برہم ہوئے کہ فورا ہی راؤ انوار کی معطلی کا حکم جاری کردیا۔ اسی اثنا میں ڈی آئی جی ایسٹ ڈاکٹر کامران فضل کو بھی چھاپے سے بے خبر ہونے کی وجہ سے ہٹا دیا گیا، کیونکہ راؤ انوار ان کی کمان اور دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے بذات خود میڈیا پر راؤ انوار کی معطلی اور ان کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا۔ انہوں نے واضح پیغام دیا ہے کہ صوبے کی حکومت وہ چلا رہے ہیں اور وہی آرڈر دے سکتے ہیں۔ یقینا انہیں بغیر اطلاع اس سخت کارروائی پر غصہ آیا ہوگا۔ راؤ انوار پر الزام لگتا ہے کہ وہ ڈیوٹی کے دوران بیرون ملک جاتے رہتے ہیں۔ انہیں پی پی پی کے رہنما آصف زرداری اور بعض بااثر حلقوں کی تائید بھی حاصل ہے۔ جبھی تو ڈاکٹر فاروق ستار نے زرداری پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کا حکم دبئی سے آرہا ہے۔ تاہم یہ کہنا غلط ہوگا کہ خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ اور گرفتاری راؤ انوار کا اپنا ذاتی فیصلہ تھا۔ جس طرح انہیں دن دیہاڑے شدید مزاحمت کے باوجود گھر سے گرفتار کیا گیا، ہتھکڑیاں لگائی گئیں، اور بکتر بند گاڑی میں ڈال کر لے جایا گیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ انہیں بااثر طاقتوں کی حمایت حاصل تھی۔ راؤ انوار ماضی میں اپنے متعدد مشکوک اقدامات سے بچ نکلتے آئے ہیں۔ لیکن اس بار لگتا ہے کہ وہ برے پھنسے ہیں، کیونکہ وزیر اعظم نے بھی نوٹس لے لیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ کو فون کرکے معاملے کی تفصیلات پوچھی ہیں اور ہر قیمت پر قانون کی بالادستی یقینی بنانے اور جرم کا مرتکب قرار پانے پر راؤ انوار کو سخت سزا دینے کا حکم دیا ۔ راؤ انوار نے ہٹ دھرمی اورف سرکشی کا مظاہرہ کرکے اور اپنے خلاف وزیر اعلیٰ کی کارروائی کو مسترد کرکے اور اپنے سینئرز کو دھمکیاں دے کر اپنی مشکلات میں اضافہ کرلیا۔ پچھلے سال بھی سندھ حکومت نے راؤ انوار کو معطل کردیا تھا، جب انہوں نے ایم کیو ایم کے را سے گٹھ جوڑ پر پریس کانفرنس کی تھی۔ جس پر سیاسی طوفان کھڑا ہوگیا تھا۔ لیکن کچھ عرصے بعد بعض حلقوں کی مداخلت کے بعد انہیں خاموشی سے بحال کردیا گیا۔ یہی حلقے ہیں جو ہمہ وقت راؤ انوار کی پشت پناہی کرتے ہیں۔ پھر کسی اور الزام پر انہیں دوبارہ ہٹایا گیا لیکن کچھ ہی دیر میں دوبارہ بحال کردیا گیا۔ ان کے بڑے اونچے تعلقات ہیں جنہوں نے ہمیشہ انہیں بچایا اور وہ عرصے سے ایس ایس پی ملیر بنے ہوئے ہیں۔ یہ عہدہ مختلف وجوہات کی وجہ سے انعام سمجھا جاتا ہے جبھی ان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ راؤ انوار نے 12 مئی 2007 کے سانحے میں ملوث ہونے کے الزام میں اظہار الحسن کو گرفتار کیا ہے، جس میں کراچی میں 50 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا، جب پرویز مشرف کی حکومت تھی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کو مشرف مخالف مہم کے لیے کراچی آنے سے روکنے کے لیے وہ خونریز ہنگامہ ہوا تھا۔ اس روز کراچی میں جو کچھ ہوا مشرف کی آشیرباد سے ہوا۔ میئر کراچی وسیم اختر اس وقت محکمہ داخلہ سندھ کے انچارج تھے۔ 12 مئی کے سانحے میں اب وہ جیل میں ہیں اور ان سمیت بعض لوگوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں، مگر مشرف سے کوئی تفتیش نہیں کی گئی اور انہیں ملک سے باہر جانے دیا گیا۔