آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور میں جس حیوانیت اور شیطانیت کا مظاہرہ ہوا اس پر دل اور دماغ ابھی تک صدمے کی حالت میں ہیں۔ پوری قوم خالقِ کائنات سے دعا کررہی ہے کہ معصوم شہیدوں کے والدین اور عزیزوں کو صبر عطا فرمائیں اور ان کے زخموں پر اپنے خاص فضل وکرم کا مرہم رکھ کر انہیں سکون دے دیں اور ننھے فرشتوں کے قاتلوں، ان کے منصوبہ سازوںاور مدگاروں کو دنیا میں عبرت کا نشان اور آخرت میں جہنم کا ایندھن بنادیں(آمین)۔ ہر بڑے سانحے سے بڑے امکانات جنم لیتے ہیں۔ پشاور کے سانحۂ عظیم سے بھی ایسا ہی ہوگا۔ ہم اپنے دکھ کو قوت میں بدل سکتے ہیں۔ یہ کیا کم ہے معصوم شہیدوں کی قربانی نے پوری قوم کو اکٹھا کردیا ہے۔ آج پوری قوم درندگی اور جہالت کے علمبرداروں کے خلاف جنگ کرنے اور ملک کو اس لعنت سے پاک کرنے میں پُر عزم ہے۔ صدمے سے نکل کر اس کے تمام پہلوؤں اور اس سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت ِ عملی پر تفصیل سے لکھوں گا۔
پولیس یونیفارم میں شاید یہ آخری تحریرہے۔ اس لئے پولیسنگ کے اہم ترین پہلو پر اپنے خیالات اور تجربات قارئین سے shareکررہا ہوں۔ پولیس کا اہم ترین پہلو اس کا تاریک ترین پہلو بھی ہے___ تھانے کا ماحول اور کلچر ۔
تھانہ کلچر کی اصطلاح اگرچہ گھس پِٹ چکی ہے مگر اسے استعمال کرنے والوں کی اکثریت آج بھی اس کے معنی و مفہوم سے نا آشنا ہے۔ ویسے تو تھانے

کے ساتھ پٹوارخانے اور پھر عدالت،کچہری، سیاست اور صحافت کا مروّجہ کلچر بھی تبدیل ہونا چاہیے مگر ہمار اموضوع صرف تھانہ کلچر ہے۔
تھانہ کلچر کیا ہے؟کیا تبدیل ہونا چاہیے اور کیوں تبدیل ہونا چاہیے؟پولیس کے جونیئر افسران پوچھتے ہیں تو انہیں بتاتا ہوں کہ ’’تھانے کا موجودہ کلچر Pro-criminalہے۔ مجرم اور بدمعاش تھانے میں اپنے آپ کو comfortable محسوس کرتے ہیں اور victim، مظلوم اور بے سہارا کیلئے تھانے کا پوراماحول بڑا unfriendly اور غیر ہمدردانہ ہے اور وہ اس میں اپنے آپ کو uncomfortableمحسوس کرتا ہے۔ صورتِ حال اس کے برعکس ہونی چاہیے___مگر اس کیلئے بڑی جدّوجہد اور تپسّیاکی ضرورت ہے ۔ صرف بیان دینے یا directiveجاری کرنے سے تھانوں میں تبدیلی نہیں آسکتی اس کیلئے بہت دردِسرلینا پڑتا ہے۔ خونِ جگر جلانا پڑتا ہے۔ اس کیلئے کمانڈر یا لیڈر کا اپنا کیریکٹر اور ارادہ (will)سب سے اہم ہے۔ملک کے کئی باخبر رائٹر اور دانشور لکھ چکے ہیں کہ تھانے کا ماحول اور کلچر تبدیل کرنے کی اگر کہیں سنجیدہ کوشش ہوئی اور اس کیلئے پورا زور لگایا گیا تو وہ گوجرانوالہ میں ہوا۔ اسی لئے گوجرانوالہ ماڈل کی پیروی کرنے پر زور دیا گیا۔ وہاں کیا اور کیسے ہوا.....یہ بھی سن لیں!
گوجرانوالہ 2006ء سے2008ء تک خطرناک ترین مجرموں کے منظّم گروہوں کا گڑھ بن چکا تھا۔ تاوان اور بھتہ لینے کے جرائم ایک انڈسٹری کی حیثیت اختیار کرچکے تھے۔ صنعت تجارت سے تعلق رکھنے والے لوگ خوف اور عدمِ تحفظ کے باعث اپنی جائیدادیں بیچ کر یورپ اور مڈل ایسٹ شفٹ ہورہے تھے۔ نئے انتخابات کے نتیجے میںمیاں شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ بنے تو انہوں نے اِنہیں حالات کے پیش ِنظرناچیز کو گوجرانوالہ کاپولیس چیف مقرر کردیا۔ وہاں پہنچتے ہی ایمانداراور بہادر افسروں پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ان کا مورال اور حوصلہ بلند کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر کوئی شہری سیکیورٹی نہ ملنے پر شہر یا ملک چھوڑجاتا ہے تو ہم ذمہ دار ہی نہیں مجرم ہیں___قومی مجرم!!___ محافظوں نے چیلنج قبول کیا۔ جذبوں سے سرشار ٹیم میدان میں اتری تو اس نے پانسہ پلٹ کر رکھ دیا۔ لاقانونیت اور بدمعاشی کو کچل دیا گیا۔ عوام نے سکھ کا سانس لیا۔ صرف صنعتکار ہی نہیںعام دکاندار، ٹیچرز،لیڈی ڈاکٹرز، ریڑھی والے، شہر میں رکشہ اور گاؤں میں ہَل چلانے والے کسان بھی اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے لگے۔ عوام کو تحفّظ اور پولیس کوعزّت اوراعتبار ملا۔ اس کامیابی کے بعد گوجرانوالہ پولیس کی سینئر کمانڈ نے پولیسنگ کے میدان میں مشکل ترین ٹارگٹ حاصل کرنے کا فیصلہ کیا۔
پولیس کمانڈر نے تمام افسروں کی میٹنگ بلائی اور مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’اﷲتعالیٰ کا شکر ہے کہ پہلی جنگ میں آپ فتحیاب ہوئے ہیں۔ لاقانونیت کا خاتمہ ہوا ہے اور عوام کو امن اور سکون میسّر آیا ہے مگر ہمارا اگلا ٹارگٹ اس سے بھی مشکل ہے___ تھانے کے ماحول اور کلچر کی مکمل تبدیلی۔۔۔complete transformation۔ تھانوں میں تعینات عملے سے عوام نالاں اور ناخوش ہیں شہری سمجھتے ہیں کہ تھانے کے اہلکار کرپٹ بھی ہیں اور بدتمیز بھی۔ ان کے دل میں مظلوم کیلئے ہمدردی اور شریف شہری کیلئے عزّت نہیں ہے___پولیس اہلکاروں کی یہ فرسودہ اور گھناؤنی سوچ جَڑ سے کھرچ کر نکال باہر پھینکنی ہوگی۔ تھانے میں ایمانداری، خوش اخلاقی اور ہمدردی کے کلچر کو پروان چڑھانا ہے۔ انسانی سوچ کی تبدیلی مشکل ہے مگر ناممکن نہیں ہے اور ہم نے یہ ہرقیمت پر کرنا ہے۔ آپ سب اس پر سوچ وبچار کریں کہ اسے ممکن بنانے کیلئے کیا طریقۂ کار اور کیا حکمت ِعملی اختیار کی جائے‘‘۔
تمام افسران کو سوچنے کیلئے ایک مہینے کا وقت دیا گیا۔ ایک مہینے کے بعد سینئر افسران سرجوڑ کر بیٹھے اس کے ہر پہلو پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ٹھوس تجاویز سامنے آئیں جن کی روشنی میں حکمت ِعملی طے کی گئی اور اقدامات کی ترتیب مقرّر ہوئی۔ ہدف واضح تھا کہ پولیس کو ایماندار، خوش اخلاق اور عوام کی ہمدرد بنانا ہے۔اس کیلئے تمام آپشنز استعمال کئے گئے۔
پولیس سربراہ کی جانب سے دوٹوک انداز میں وارننگ دے دی گئی کہ ’’ہررینک کے افسر کان کھول کر سن لیں، جو حرام خوری سے باز نہ آیا وہ برخاست ہوکر گھر جائے گایا گرفتار ہوکر جیل جائے گا‘‘۔ واضح طور پر ہدایت دی گئی کہ کوئی بھی سائل یا درخواست گزار آئے تو ایس ایچ او اور محرر پر لازم ہے کہ وہ کھڑا ہوکر ملے، عزّت کے ساتھ اسے کرسی پر بٹھائے اور ٹھنڈے پانی کی پیشکش کرے۔ پولیس اہلکار وں کو سمجھایا گیاکہ کسی دفتر میں تمہارا بھائی یا والد کسی کام سے جائے اور وہاں بیٹھا ہوا بابو اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرے تو تمہیں کتنا برا لگے گا۔ اگر چاہتے ہوکہ دوسرے دفتروں میں تمہیں اور تمہارے عزیزوں کو عزّت ملے تو دوسروں کو بھی عزّت دو‘‘۔
جہاں رشوت خور برخاست یا معطل ہوئے وہاں رزقِ حلال کھانے والے ایماندار اہلکاروں کو بے تحاشہ انعامات بھی دئیے گئے اور عزّت بھی! انہیں بڑی تقریب منعقد کرکے معززینِ شہر کے سامنے سٹیج پر بلاکر بڑی فیاضی سے ہزاروں اور لاکھوں روپے کے انعامات دئیے گئے جس سے ان کے حوصلے آسمان کو چھونے لگے۔
بہت سے بدنام رشوت خور اہلکاروں کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا، کئی راشی تھانیدار گرفتار کرکے جیل میں بند کئے گئے جس سے باقی محتاط ہوگئے اور پھر مشکل ترین کام شروع ہوا۔ایس پی، ایس ایس پی اور خودڈی آئی جی تھانوں میں جاکرگھنٹوں پولیس اہلکاروں کے ساتھ تبادلۂ خیال کرتے، ان سے ان کے مسائل پوچھتے۔۔۔ تھانے کی maintenanceپر ہونے والے اخراجات کا حساب لگایا گیاجو آٹھ سے بارہ ہزار روپے ماہوار بنتا تھا۔ فیصلہ ہوگیا کہ یہ خرچہ محکمہ دے گا۔ تھانے کے اہم ترین افسروں یعنی ایس ایچ او، محرر، تفتیشی افسران اور ڈیوٹی افسران کے علیحدہ علیحدہ ٹریننگ کورس کروائے گئے۔ ماہرینِ نفسیات بلائے گئے جنہوں نے لیکچر دئیے۔ پوری ڈویژن کے ایماندار اور نیک نامSHOs کو بلایا گیا جنہوں نے اپنے ساتھیوں کوبتایا کہ ہم بغیر کرپشن کے تھانے چلاسکتے ہیںتو آپ کیوں نہیں چلاسکتے‘‘؟ جیّد، جینوئن اور باعمل علمائے کرام کو مدعو کیا گیا جنہوں نے پولیس افسروں کو رزقِ حلال کی فضیلت اور فوائد اور حرام کے متعلق اﷲ اور رسول کریمﷺ کے احکامات سے آگاہ کیا۔ اعلیٰ کردار کے باعمل سکالرز نے جب آقائے دوجہاں ﷺ کی سادہ ترین خوراک، لباس اور رہائش کے متعلق تاریخی حقائق بتائے تو بڑے بڑے سنگدل تھانیداروں کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوگئیں اور وہ اپنے اندر ایک guiltمحسوس کرنے لگے۔ وہ سوچنے لگے کہ وہ جس ہستی سے محبّت کا دعویٰ کرتے ہیںان کے پاس پہننے کیلئے دوسری قمیض نہیں ہوتی تھی۔ روٹی کے ساتھ سالن نہیں ہوتا تھا اور ہم جائیدادیں بنارہے ہیں۔ ان کا guiltانہیں کچوکے لگانے لگا اور ان میں سے اکثر تبدیل ہونے پر آمادہ ہوگئے۔ پولیس افسروں میں Sense of Prideپیدا کیا گیا کہ دوسروں سے پیسے لینے والا تو فقیر اور منگتا ہوتا ہے۔ یہ محافظ کے شایانِ شان نہیں ہے۔ محافظ تو عوام کو تحفظ دیتا ہے، انصاف دیتا ہے اور ضرورت پڑے تو دوسروں کیلئے جان بھی دے دیتا ہے___محافظ قوم کا ہیرو ہوتا ہے۔ آپ نے گداگر نہیں ہیرو بننا ہے۔ یہ بات بھی ان کے دل میں اترنے لگی۔
کئی مہینوں تک سینئر افسران تھانوں میں جاتے رہے اور پولیس اہلکاروں کی کونسلنگ اور Motivation کرتے رہے۔ مسلسل کی جانے والی ان کوششوں سے پولیس اہلکاروں میں تبدیلی کے آثار نمودار ہونے لگے ۔ ان میں کرپشن سے نفرت اور رزقِ حلال کیلئے پسندیدگی پیدا ہوئی ۔ہر تھانے کی سطح پر ایمانداری اور خوش اخلاقی کے موضوع پر تقریری مقابلوں کا اہتمام کیا گیا۔ پہلا مقابلہ ’’ایمانداری ہمارا ایمان ہے‘‘کے موضوع پر ہوا ۔ دوسرے کا موضوع چُنا گیا ’’خوش اخلاقی محافظ کی پہچان ہے‘‘۔ کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک پولیس افسروں نے ایمانداری اور خوش اخلاقی کے بارے میں زیادہ سے زیادہ پڑھنا، سننا اور بولنا شروع کیا تو وہ اور ان کے ساتھی ان اوصاف کی اہمیّت اور فضیلت سے مزیدروشناس ہوئے۔ جب بہتری نظرآنے لگی تو پولیس سربراہ نے ہرتھانے میں کھلی کچہری لگاکر تمام اہلکاروں سے عوام کے سامنے حلف لیا کہ وہ ہمیشہ رزقِ حلال کھائیں گے اور کسی صورت میں حرام نہیں کھائیں گے۔ تھانوں کو کرپشن فری بنانے کیلئے ضروری تھا کہ پولیس اہلکاروں کے مسائل بھی حل کئے جاتے اور ان کی ویلفیئر پر بھی توجہ دی جاتی۔ تھانوں میں ان کی رہائش کیلئے نئی بیرکیں تعمیر کرائی گئیں۔ گندے باتھ روموں کی جگہ ٹائلوں والے نئے باتھ روم بنوائے گئے۔ ایس ایچ اوز کی رہائش گاہیں بنائی گئیں تاکہ وہ کسی چوہدری وڈیرے یا صنعت کار سے رہائش مانگنے کے محتاج نہ رہیں۔ جونیئر اہلکاروں کے لئے رہائشی فلیٹس بنائے گئے۔ ان کے بیوی بچوں اور والدین کے علاج کیلئے اور بچوں کی شادیوں کیلئے مالی امداد دی گئی اور مکان بنانے کیلئے قرضے دئیے گئے۔ فورس کی ویلفیئر کیلئے وسائل میں اضافہ درکارتھا۔ اس کیلئے ’’محافظ مارکٹیں ‘‘تعمیر کی گئیں جن سے ملنے والی کرائے کی رقم فورس کی ویلفیئر پر خرچ کی جانے لگی۔ جب تھانوں کے انچارج ذہنی طور پر تبدیلی کیلئے تیار ہوگئے تو تھانے کے باقی ماندہ عملے کی ذہنی تبدیلی کا ٹاسک خود انہیں سونپا گیا اور انہیں بتادیا گیا کہ اب اگر تھانے کے کسی ملازم نے رشوت لی یا کسی شہری سے بدتمیزی کی تو تھانے کے انچارج یا لیڈر کی حیثیت سے ایس ایچ او ذمہ دارہوگا۔ ایس ایچ او پہلے اپنی تقرری کو صرف تعیناتی سمجھتے تھے اب ان میں لیڈرشپ کا احساس پیداہوا ۔ اس احساسِ تفاخر نے انہیں مزید Motivateکیا کہ وہ اپنے تھانے کے ماحول کو بہترین بنادیں اور جب وہ مرحلہ بھی آگیا تو ہر تھانے میں سینکڑوں شہریوں کی موجودگی میں ایس ایچ اوز نے یہ اعلان کیا ’’آج کے بعد اگر اس پولیس اسٹیشن کے کسی تھانیدار کسی تفتیشی افسر یا کسی ملازم نے کسی شخص سے رشوت مانگی یا قبول کی یا کسی شریف شہری سے بدتمیزی کی تو اس کا ذمہ دار میں ہوں گا‘‘۔ اس منظر سے متاثر ہوکر عوام نے بھی حلف اٹھایا کہ ’’ہم بھی آئندہ پولیس کے کسی ملازم کو رشوت دینے کا جرم نہیں کریں گے‘‘۔ رشوت اور بداخلاقی کے گھناؤنے کلچر کا خاتمہ ہونے لگا اور ماحول میں خوشگوار تبدیلی کی خوشبو پھیلنے لگی۔ چندماہ بعد عوام سے پوچھا گیا اور غیر جانبدار تنظیموں سے سروے کروایا گیاتو انہوں نے بتایا کہ تیس تھانوں میں سے اٹھائیس تھانوں میں کسی بھی کام کے سلسلے میں اور تفتیش کے کسی بھی مرحلے پر کسی شہری (مدعی ہو یا ملزم) سے رشوت نہیں لی جاتی اور لوگوں کے ساتھ ملازموں کا طرزِ عمل بہت بہتر ہوگیا ہے۔ دوسال پہلے پنجاب میں ماڈل تھانے بنانے کے نام پر تھانوں میں رنگ روغن کروائے گئے۔ ماڈل تھانوں کے نام پر بہت سے پولیس افسر صنعتکاروں سے مال بٹورتے رہے۔ اس قسم کی تجاویز دینے والے دانشور چونکہ پولیسنگ کا ادراک نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ یہ نہ جان سکے کہ تھانے کی عمارت نہیں عملے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ مکان بدلنے سے نہیں مکینوں کا ذہن بدلنے سے کلچر تبدیل ہوتا ہے۔ انسانی ذہن کی تبدیلی مشکل ترین کام ہے اس کیلئے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے سختی بھی، نرمی بھی، سزا بھی، جزابھی، ڈراوا بھی، دلیل بھی، کاؤنسلنگ بھی،موٹیویشن بھی، لیکچربھی اور سب سے بڑھ کر کمانڈکرنے اور لیڈکرنے والوں کاذاتی کردار اور عملی مثال ۔۔تھانوں کا کلچر بدل دینا مشکل ہے مگر یہ کیا جاسکتا ہے___اور یہ کرکے دکھایا گیا ہے!!نوٹ:ریٹائرمنٹ کے بعد انشاء اﷲ کچھ وقت چیریٹی کودوں گا ۔ معیاری تعلیم کا فروغ میری ترجیح ِ اوّل ہے اس کے علاوہ وطنِ عزیزمیں اچھی گورننس اور قانون کی حکمرانی کیلئے قلم اور زبان کے ذریعے جدوجہد جاری رہے گی۔ قارئین سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ اﷲ حافظ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں