آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
صبح کاذب تھی جب ہم تینوں بھائی بیدار ہوئے۔
نرم بستر سے جدا ہونا ہی مجاہدہ ہے۔ سو ہم اُٹھے، وضو کیا، نمازِ تہجد ادا کی، پھر مسجد گئے۔ فجر کی نماز باجماعت پڑھی۔ وہیں بیٹھے رہے، تلاوت کی، وظائف پڑھے، اوراد کئے، یہاں تک کہ اشراق کا وقت ہو گیا۔
اشراق سے فارغ ہو کر مسجد سے نکلنے لگے تو وہ بھی ساتھ ہو لیا۔ ہم نے منع کیا۔ اس نے ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ بالآخر ہمارا انکار غالب آیا۔ ہم نے اسے کہا کہ وہ مسجد ہی میں رہے۔ ہم ظہر کے وقت پھر آن ملیں گے۔ وہ بادلِ نخواستہ مان گیا۔ غالباً اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ ہم نے اسے گلے سے لگایا اور چٹائی پر بٹھا کر مسجد سے نکل آئے!
ہم میں سے ایک بھائی اپنی دکان پر گیا۔ تسبیح ہاتھ میں تھی، ذکر ِ خدا لب پر تھا، ملازم دکان کھول کر فٹ پاتھ پر سامان لگا رہا تھا۔ دکان کے سامنے، سڑک سے اس طرف، دو ریڑھی والے بھی آ چکے تھے۔ دونوں ہمارے بھائی کو اس جگہ کا کرایہ دیتے ہیں۔ یہ جگہ اور فٹ پاتھ ___ اس کی ملکیت نہیں، لیکن پیسہ آ رہا ہو تو یہ غیر ضروری سوال ذہن سے جھٹکنے پڑتے ہیں، کچھ سودا ملاوٹ والا بھی بیچنا پڑتا ہے۔ مثلاً ادویات، بچوں کا دودھ اور چند غذائی اشیاء۔ ایک بار ملازم نے ایک گاہک کو بتا دیا کہ یہ ملاوٹ والی چیزیں ہیں۔ مجبوراً اُس ملازم کو نکالنا پڑا۔ دوپہر کو ٹیکس انسپکٹر آ

گیا۔ اسے اصل رجسٹر کے بجائے جعلی رجسٹر دکھایا گیا اور کچھ دیگر معاملات بھی طے کئے۔ ہمارے بھائی نے کچھ اصول بنا رکھے ہیں مثلاً فروخت کرتے وقت شے کی خوب تعریف کرتا ہے جس میں کچھ مبالغہ آرائی بھی ہوتی ہے۔ غیر حقیقت پسند لوگ اس مبالغہ آرائی کو جھوٹ کہتے ہیں لیکن یہ زیادتی ہے۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں کرتا۔ گاہک کے حقوق اس سے متاثر ہوتے ہیں لیکن یہ ایک اور مسئلہ ہے جس پر مزید گفتگو پھر کبھی کریں گے۔
بھائی نے جمعرات کو دیگیں پکوا کر کھانا تقسیم کرنا ہے، اس کا انتظام کیا۔ مسجد کے مولوی صاحب کو چندہ بھجوایا۔ دو ہفتے بعد چلّہ بھی شروع کرے گا۔ اس کی تیاری الگ کرنی ہے۔ دو گاہک شکوہ کرنے آئے کہ خریدا ہوا سودا ناقص تھا۔ ایک کو اس نے چائے پلا کر چپ کرا دیا، دوسرا ذرا زیادہ بول رہا تھا، اسے صاف کہہ دیا کہ جائو، عدالت میں چلے جائو، کیا کر لو گے؟ ہم میں سے دوسرا بھائی اشراق کی نماز کے بعد اپنے سرکاری دفتر گیا۔ وقت تو دفتر لگنے کا آٹھ بجے ہے مگر وہ دس بجے پہنچتا ہے۔ سبھی دیر سے آتے ہیں۔ ایک صاحب میرے بھائی کو طعنہ دے رہے تھے کہ تم تو نمازی پرہیز گار انسان ہو، وقت پر آیا کرو۔ اب نمازی پرہیزگار ہونے کا یہ مطلب بھی نہیں کہ آدمی عام روش سے بالکل ہی ہٹ جائے۔ اپنے دو ماتحتوں کو بھائی نے گھر بھیجا کہ ہماری بھتیجی کی آنے والی شادی کی تیاری میں مدد دیں۔ یہ دونوں ماتحت، شادی تک ڈیوٹی ہمارے گھر ہی میں دیں گے۔ پھر بھائی اُٹھ کر باس کے پاس گیا اور وہاں سے باس کے ذاتی کام کے لئے کہیں باہر چلا گیا۔ سائل بہت سے آئے ہوئے تھے، کچھ کی فائلیں مل ہی نہیں رہی تھیں۔ بہرطور، سب کو یہی کہا گیا کہ صاحب میٹنگ میں ہیں۔ بھائی کو سرکاری گاڑی کے بجائے نوے ہزار روپے ماہانہ کار الائونس ملتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ سرکاری گاڑی بھی استعمال ہو رہی ہے اور اس جرم کا، اگر یہ جرم ہے تو، صرف میرا بھائی نہیں، افسروں کی کثیر تعداد ارتکاب کر رہی ہے۔ ایک صاحب میرے بھائی کو طعنہ دے رہے تھے کہ تم نمازی پرہیزگار افسر ہو، کیوں آمدنی کو مشکوک کر رہے ہو، لیکن ایسے حضرات خواہ مخواہ ہر چیز کو خوردبین لگا کر دیکھتے ہیں۔
ہم میں سے تیسرا بھائی سیاستدان ہے۔ اشراق کی ادائیگی کے بعد وہ پارٹی کے سربراہ سے ملنے گیا۔ اس کی ڈیوٹی آج کل ذرا مشکل سی ہے۔ اسے حریف سیاسی جماعت کے ارکان توڑ کر اس طرف لانے ہیں۔ اس کے لئے بیچارے کو جھوٹ بھی بولنا پڑتا ہے، غلط وعدے بھی کرنا پڑتے ہیں اور خوشامد بھی کرنا پڑتی ہے۔ اس نے بہت سے ووٹروں سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کے بیروزگار بچوں کو نوکری دلوائے گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ نوکری صرف اُن کو دلوائے گا جو مالی معاملات طے کر سکیں گے۔ دو سرکاری ملازم بیرونِ ملک تعیناتی چاہتے ہیں ان کا کام کرانے کے لئے بہت اوپر تک جانا پڑے گا۔ ہیں بھی دونوں نااہل۔ سیاست دان یوں تو میرٹ کا بہت ذکر کرتے ہیں لیکن اگر میرٹ کا زمانہ آ گیا تو ان کی چودہراہٹ ختم ہو جائے گی۔ میرے بھائی نے مقامی پولیس اور دیگر افسر شاہی کو مٹھی میں رکھا ہوا ہے۔ کئی مجرموں کو چھڑوا چکا ہے اور کئی بے گناہوں کو اندر کرا چکا ہے۔
اپنے اپنے کام سے فارغ ہو کر ہم تینوں بھائی ظہر کی نماز پڑھنے مسجد گئے۔ اندر داخل ہوئے تو اسلام سے ملاقات ہوئی۔ وہ وہیں چٹائی پر بیٹھا تھا۔ سخت ناراض! ہم نے باری باری اس سے معانقہ کیا۔ اس کی پیشانی کو چوما۔ ہم نے اسے یقین دلایا کہ ہمارے دل اس کی محبت سے لبریز ہیں۔ ہم اس کے شیدائی ہیں اور اس پر مر مٹنے کو تیار ہیں۔ وہ بار بار ایک ہی بات کہتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ جانا چاہتا تھا۔ بازار میں دن بھر تمہارے ساتھ رہنا چاہتا تھا۔ سرکاری دفتر کو اور سیاسی جماعت کے ہیڈ کوارٹر کو دیکھنا چاہتا تھا لیکن تم عجیب لوگ ہو۔ میری محبت کا دم بھرتے ہو مگر ساتھ ہی یہ چاہتے ہو کہ میں مسجد سے نہ نکلوں اور تمہارے روزمرہ کے کاموں میں مرا کوئی عمل دخل نہ ہو۔ اسلام کا یہ اصرار کہ وہ بازار، دفتر اور سیاسی جماعت کے ہیڈ کوارٹر جیسی جگہوں میں آنا چاہتا ہے، ایک ناقابلِ عمل خواہش ہے۔ یہ مطالبہ ہمارے کلچر اور ماحول سے بھی مناسبت نہیں رکھتا۔ ہمیں جو اسلام سکھایا گیا ہے وہ تہجد، تلاوت، ذکر، اوراد، وظائف، نماز، روزے اور حج سے عبارت ہے۔ اس میں صدقات اور خیرات کا اہتمام ہے چنانچہ ہم باقاعدگی سے دیگیں پکوا کر کھانا تقسیم کرتے ہیں، مسجدوں میں چندہ دیتے ہیں، ہر سال گندم کی ایک سو بوریاں مدرسہ کو بھیجتے ہیں، چلے کاٹتے ہیں، یتیم خانوں کی امداد کرتے ہیں۔ ختم قرآنِ پاک کی محافل منعقد کرتے ہیں، میلاد کا اہتمام کرتے ہیں، تعزیہ نکالتے ہیں۔ ہمارا ایک بھائی تو اپنے ہاتھ سے مسجد میں جھاڑو بھی دیتا ہے۔ ہم اپنے اس کردار سے مطمئن ہیں۔ اسلام کو بھی ہماری ان خدمات سے خوش ہونا چاہئے لیکن وہ نمازِ فجر سے لے کر ظہر اور مغرب کی نمازوں تک ہمارے ساتھ ہمارے دنیوی مشاغل میں شریک ہونا چاہتا ہے۔ یہ عملی طور پر ممکن نہیں۔ ہم جو کچھ دن بھر بازاروں، دفتروں، کھیتوں، کارخانوں، اسمبلیوں اور گھروں میں کرتے ہیں، اگر اس میں بھی اسلام کا عمل دخل در آ گیا تو معاملات ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ دراصل مذہب کے معاملات الگ ہیں اور دنیا کا خانہ الگ ہے۔ ہمارے جو بھائی کاریں چوری کرواتے ہیں اور اغوا برائے تاوان میں ملوث ہیں، وہ بھی نمازی اور پرہیز گار ہیں۔ کئی لوگ جو اپنی کاریں چھڑوانے علاقہ غیر گئے، انہوں نے پوچھا کہ تم نمازیں بھی پڑھتے ہو اور ہماری ہی کاریں چوری کروا کر ہم ہی سے بھاری رقم لے کر کاریں واپس کرتے ہو، آخر یہ کون سا اسلام ہے۔ ان کا جواب تھا کہ ’’یہ تو ہماری اور ہمارے بچوں کی محنت ہے۔‘‘
ہم سمجھتے ہیں کہ دین اور دنیا کے تعلق کو اس سے بہتر انداز میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اصول صرف کاریں چوری کروانے والوں کا نہیں، غور سے دیکھا جائے تو ہم سب اسی اصول پر عمل پیرا ہیں۔ اسی سے زندگی میں توازن ہے! اگر اسلام کو ہم گلے سے لگا کر مسجد میں بٹھا آتے ہیں اور دن کے کام دھندے آزادی سے نمٹا لیتے ہیں تو اس میں اسلام کو کیا اعتراض ہے؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں