آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ8؍ ربیع الثانی 1441ھ 6؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
اگر کسی کووضاحت کی ضرورت ہو کہ ایک ملک ، اس کے قوانین اور اس کی ریاستی مشینری کو کس طرح ایک مذاق بنایا جاسکتا ہے ، تو وہ حکومت کی طرف سے صحافی سرل المیڈا کا نام ای سی ایل میں ڈالنے اور کسی اورکا تحفظ کر نے کے اقدام کو دیکھ لے ۔ مسٹر المیڈا کو ہراساں کرنے اور ڈان کو قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی پریس نے متفقہ طور پر مذمت کی ۔ اس کی وجہ بہت سادہ ہے ۔ سرل المیڈ ا اپنا کام کررہے تھے ، وہ کوئی خبرساز نہیں ، بطور ایک کالم نگار اُن کا شمار ہمارے بہترین لکھنے والوں میں ہوتا ہے ، اور پھر وہ ایسے ایک اخبار کے لئے کام کرتے ہیں جسے ظفر عباس جیسے کھرے اور قابل ِاعتماد صحافی چلارہے ہیں۔
اگر کہانی جھوٹی تھی تو حکومت اس کی تردید کرسکتی تھی، جو اس نے کی بھی اور اسے نمایاں طور پر شائع کیا گیا۔ سرل اور ڈان البتہ کہانی کی حقانیت کے دعوے پر قائم رہے ۔ اگر حکومت کو یقین تھا کہ کہانی میں توہین کا پہلو نکلتا ہے توجس کی دل آزاری ہوئی تھی، وہ مصنف اور پبلشر کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ دائر کردیتا۔ اگر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف وزری کی گئی تھی، کہ کہانی تو درست لیکن غیر قانونی طور پر حاصل کی گئی تھی ، تو جس کسی نے بھی اسے افشا کیا اُسے ،نہ کہ صحافی کو، گرفتار کیا جانا چاہئے تھا۔ سرل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ اختیارات کے غلط

استعمال کی کھلی مثال ہے ۔ ایگزٹ کنٹرول آرڈیننس ریاست کو اختیار دیتا ہے کہ وہ کسی کو بھی پاکستان سے باہر جانے سے روک سکے۔ اس اختیار کو ریگولیٹ کرنے والے قوانین اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ کن وجوہ کی بنیاد پر کس طریق ِ کار کے مطابق کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جاسکتا ہے ۔ عدالتیں اس بات کی وضاحت کرچکی ہیںکہ آرٹیکلز 9( زندگی اور آزادی کا حق)، 10A (باقاعدہ طریق کار) اور 15(حرکت کی آزادی)کے ہوتے ہوئے کسی کا نام ای سی ایل میں من مانی کرتے ہوئے نہیں ڈالا جاسکتا ۔
کسی کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے لئے موجودہ قوانین میں سے ایک یہ ہے کہ وہ قومی سلامتی کوخطرے میں ڈالنے والی کسی سرگرمی میں ملوث ہو۔ سرل کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے وزارت ِ داخلہ نے دلیل دی کہ ڈان کی کہانی نے دشمن کے بیانیے کو آگے بڑھایا۔ تو کیا حکومت کی پوزیشن یہ ہے کہ ایک صحافی نے اس کی کہانی کی رپورٹنگ کرتے ہوئے قومی سلامتی کوخطرے میں ڈال دیا ؟اگر ایسا ہی ہے تو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح اس ریاست کی سیکورٹی کے کیا کہنے جو ایک رپورٹ ظاہر ہوجانے پر خطرے میں پڑ جاتی ہے ، اور یہ رپورٹ بھی کوئی لرزہ خیز انکشاف نہیں، لوگ ان باتوں کو پہلے سے ہی جانتے تھے ۔ قومی سلامتی کے نام نہاد محافظ، ’غیرت بریگیڈ‘ کا کہنا ہے کہ ڈان نے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی کی ، جو کہتا ہے…’’ہر شہر ی کو آزادی ٔ اظہار کا حق ، اور پریس کو حاصل آزادی پاکستان کی سیکورٹی کا دفاع کے پیش ِ نظر قانون کی قائم کردہ حدود تک ہوگی…‘‘ یہاں پاکستان کی سیکورٹی کے مفاد کاتحفظ کرنے والے قانون کی وضع کردہ کس شق کی پامالی ہوئی ہے ؟ کیا پاکستان میں کوئی ایسا قانون موجود ہے جو یہ طے کرتا ہو کہ ایک تحریر ،جس سے دشمن خوش ہو، غیر قانونی قرار پائے گی ؟
کہانی کے مواد پر توجہ دیتے ہوئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس کے کس حصے نے حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور ’غیرت بریگیڈ‘ کو مشتعل کردیا ہے ؟ بیان کردہ کہانی کے مطابق دنیا میں سفارتی سطح پر ہمارے کشمیر موقف کوزیادہ پذیرائی حاصل نہیں۔ مزید یہ کہ امریکہ اور انڈیا حقانی نیٹ ورک اور جیش ِ محمد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں، اور اگرچہ چین ہمارے ساتھ کھڑا ہے ، لیکن وہ بے چینی محسوس کررہا ہے ۔ اس وقت ہر کسی کا اپنا موقف ہے کہ کیا پاکستان عالمی تنہائی سے دوچار ہونے کے راستے پر گامزن ہے ، یا صورت ِحال اس کے برعکس ہے ۔ اہم دارالحکومتوں میں تعینات سفارت کار آپ کو آف دی ریکارڈ بتائیں گے کہ دنیا کو کشمیرپر پاکستان کا موقف سمجھانا مشکل ہوتا جارہاہے ۔ یہ کوئی سرکاری راز نہیں ۔ کہانی کو باربار پڑھنے سے تاثر ملتا ہے کہ اس کا ’’باغیانہ حصہ‘‘غالباً یہ ہے کہ ’’ شریف فیملی کے ایک ’نوجوان فرد ‘نے شکایت کی کہ جب بھی سویلین حکام مخصوص گروہوںکے خلاف ایکشن لیتے ہیں، سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ پس ِ پردہ کام کرتے ہوئے گرفتار شدہ افراد کو رہاکرادیتی ہے ۔ ‘‘
یہ باغیانہ حصہ وزیر ِاعظم کا کھلا تبصرہ بھی رہا ہے ۔ اُنھوں نے متعدد مواقع پر کہا ہے کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ انتہا پسند گروہوںکی سرپرستی کرتی تھی، نیز ’’ماضی میں ریاست کی پالیسیاں ریاست کی مشترکہ ذمہ داری‘‘ تھیں۔ تاہم کہانی ڈی جی آئی کی پوزیشن کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ ہماری اسٹیبلشمنٹ انتہا پسند گروہوں میں تمیز نہیں کرتی، اور یہ کہ پاکستان کو ایسے کوئی اقدامات نہیں اٹھانے چاہئیں جن سے یہ تاثر گہرا ہو کہ پاکستان بھارتی دبائو کی وجہ سے اپنے کشمیر موقف سے دستبردار ہورہا ہے ۔ کوئی مریخ سے آنے والا اجنبی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ کہانی کی وجہ سے بپا ہونے والا اشتعال آرٹیکل 243 کی طرف اشارہ کرتا دکھائی دیتا ہے ۔اس آرٹیکل کے مطابق…’’وفاقی حکومت کے پاس مسلح افواج کا کمان اینڈکنٹرول ہوگا۔‘‘اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ اگرچہ ڈی جی آئی ایس آئی ایک حاضر سروس لیفٹیننٹ جنرل ہیں لیکن اُنہیں وزیر ِ اعظم کو براہ ِراست رپورٹ پیش کرنی چاہئے ۔ تو پھر یہ بات بھی پوچھی جاسکتی ہے کہ کسی میٹنگ میں وزیر ِاعظم کی طرف سے کیا یہ بات نہیں پوچھی جاسکتی کہ انتہا پسندوں کو کچلنے میں ناکامی کی کیا وجوہ ہیں؟ کیا یہ بات یا اس کی رپورٹنگ غداری کے زمرے میں آتی ہے ؟تو یقینا مریخ سے آنے والا ایسا اجنبی غیر تحریری قوانین سے ناواقف ہوگا۔
سر ل المیڈا کو قربانی کا بکر ا بناتے ہوئے نواز شریف حکومت ان غیر تحریری قوانین کی توثیق کرنے کی کوشش میں ہے ۔ ہمارے غیر تحریری قوانین کا لب لباب یہ ہے کہ قومی سلامتی صرف اور صرف فوج کی ذمہ داری ہے ، نیز سویلین کے پاس نہ تو اس چیز کی اہلیت ہے اور نہ ہی سیکورٹی پالیسی میں اُن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے ۔ ایک غیرتحریری قانون یہ بھی ہے کہ آپ حساس اداروں کے خلاف بات تک نہیں کرسکتے، باز پرس کا تو سوال ہی پیدا نہیں پیدا ہوتا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم انتہا پسند گروہوں کے حوالے سے مبہم پالیسی رکھتے ہیں۔ اگر ہماری بیان کردہ پالیسی یہ ہے کہ تمام انتہا پسند تنظیموں کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر یہ سوال اپنی جگہ پر موجود ہے کہ جماعت الدعوۃ اور جیش ِ محمد کیوں فعال ہیں؟ایک حالیہ آرٹیکل میں سابق آئی جی طارق کھوسہ لکھتے ہیں…’’ قانون نافذ کرنے کا چار عشروں کا تجربہ رکھتے ہوئے میں پورے اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ اندرونی اور بیرونی دیدہ یا نادیدہ ہاتھ کے تعاون کے بغیر کوئی ریاستی عناصر اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتے ۔ ‘‘
بھارتی الزامات کے پس ِ منظر میں جو سوالات پوچھے جارہے ہیں، وہ یہ ہیں کہ جو بن لادن کے پاکستان سے ملنے سے پہلے پوچھے جارہے تھے ۔ تو جب امریکی فورسز نے بن لادن کو ایبٹ آباد سے ڈھونڈنکالا تو ہم نے ’’نااہلی‘‘ کا سہار ا لے لیاکہ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ یہاں موجود تھا۔ تاہم ، ہم انڈیا کے مقابلے میں اپنی نااہلی کا اعتراف نہیں کرسکتے ۔ تو طے یہ پایا کہ ریاست نااہل نہیں ، اور اس کی پالیسی تمام انتہا پسندوں کو ختم کرنا ہے ، تو پھر ایسا نہ کرنے پر ناکامی کی ذمہ داری کون اٹھائے گا؟اگر یہ فرض کیا گیا ہے کہ پاکستان کا مفاد اس میں ہے کہ اس وقت کشمیر میں کارروائی کرنے والے غیرریاستی عناصر کو نہ چھیڑا جائے تو کیا سویلین ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ وطن کی خاطر آگے بڑھ کر اپنے اوپر الزام لے لیں کہ وہ جیش محمدیا لشکر طیبہ کو ختم کرنے میں لاچار ہیں؟آزادی اظہار اور پریس کی آزادی اس لئے اہم نہیں کہ ان کی تمام باتیں اچھی ہوتی ہیں، بلکہ اس لئے کہ وہ اختلاف رائے اور ناپسندیدہ باتوںکو بھی برملا بیان کرسکتے ہیں۔ اور دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ اختلاف رائے ریاست اور معاشرے کو توانا کرتے ہیں۔


.