آپ نے بھی استاد غلام علی خان کی یہ مدہوش غزل کئی بار سنی ہوگی ۔ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہےڈاکہ تو نہیں ڈالا، چوری تو نہیں کئی ہےلیکن اسلام آباد والے ہنگامہ کا تعلق چوری ڈاکے سے ہی ہے۔ جہاں دیکھو عمران خان کی وارننگ، زیر بحث ہے کہ احتساب، استعفیٰ یا محاصرہ؟ دانش وروں کا لشکر جرار اسلام آباد کے محاصرہ پر مصروف، اس کی مختلف جہتوں پر بخیہ گیری میں مصروف ہے۔ بہت سے پارٹ ٹائم دانش ور اور سینئر تجزیہ کار تو ایسے بھی ہیںجو اپنی تقیل لیکن دلیل سے عاری گفتگوئوں میں اسلام آباد کو ’’دارالخلافہ‘‘ اور ’’دارالسلطنت‘‘ قرار دیتے ہوئے بھول جاتے ہیں کہ ’’دارالخلافہ‘‘ وہ ہوتا ہے جہاں ’’خلیفہ‘‘ا ور ’’دارالسلطنت‘‘وہ ہوتا ہے جہاں ’’سلطان‘‘ براجمان ہو۔ ہمارے ہاں دو نمبر جمہوریت کی وجہ سے اسلام آباد صرف ’’دارالحکومت‘‘ ہے یہ علیحدہ سوال کہ حکومت بھی ہے یا نہیں اور اگر ہے تو کس کی ہے؟اسلام آباد کو بند کردینے کے حوالہ سے جو سطحی قسم کی گفتگو جگہ جگہ ہو رہی ہے، اس کی ’’ہائی لائیٹس‘‘ کچھ اس طرح کی ہیں۔ ایسا کرنا ’’غیر جمہوری‘‘ ہوگا۔ اس طرح انارکی پھیل سکتی ہے۔احتجاج کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔ شہر کو بند کرنے سے عوام کو تکلیف ہوگی۔ لوگ کام پر نہ جاسکیں گے، بچے سکول نہ پہنچ پائیں گے، بیماروں کو ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہوگی۔ اس طرح حقوق مانگنے کا مطلب تو یہ ہے کہ ہر کوئی اسی انداز میں حقوق کا مطالبہ شروع کردے گا۔ اگر اسی طرح انصاف لینا ہے تو پورے ملک کو اٹھنا ہوگا ۔قارئین!میں کوشش کروں گا کہ ان تبصروں، تجزیوں پر باری باری تھوڑی بہت روشنی یا اندھیرا ڈال سکوں۔پہلی بات یہ کہ اگر اسلام آباد کو بند کرنا غیر جمہوری ہے تو کیا پاناما سے لے کر کوٹیکنا اور سرے محل تک سب کچھ جمہوری ہے؟ سیاسی جماعتوں کا ’’سول پروپرائٹر شپ‘‘ طرز پر چلانا جمہوری ہے یا عوامی مقامی حکومتوں (لوکل باڈیز) کو معذور کرنا جمہوری ہے؟ اگر یہ سب جمہوری ہے تو ’’احتجاجی محاصرہ‘‘ بھی سو فیصد جمہوری ہے کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹ سکتا ہے۔ جیسے کو تیسا ہی جچتا ہے۔ کہتے ہیں اس طرح تو انارکی پھیل جائے گی تو حضور! بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ اکائونٹیبلٹی کے بغیر ڈیموکریسی بدترین انارکی ہے اور آج کا پاکستان اس جیتی جاگتی انارکی کا شہکار ہے جو خیانت کرنے والوں کے لئے کسی جنت سے کم نہیں۔ پلی بارگین سے پاناما تک ’’کھلا کھلائو تے ننگے نہائو‘‘ کی اس سے عمدہ مثال دنیا میں کہیں ہوتو پیش کی جائے۔ جہاں تک تعلق ہے احتجاج کو آئین اور قانون کے دائرے میںر کھنے کا تو کھربوں روپے کی لوٹ مار سے لے کر رشوت رسیلی پوسٹنگز پر تعیناتی، قدم قدم پر رولز ریلیکس کرنے کا کلچر، بیوروکریسی کو دیمک کی طرح چاٹ جانا، الیکشن کو ٹیکنالوجی کا درجہ دینا، ترقیاتی کاموں کی آڑ میں عوام کا پیسہ عوام کے خلاف استعمال کرنا، جیسی ہزاروں لعنتیں اگر ’’آئینی‘‘ اور ’’قانونی‘‘ہیں تو انہیں باقاعدہ آئین کا حصہ بنائو اور قانون کا درجہ دو، ایک تیر سے کئی شکار کے ساتھ چپڑی ہوئی اور دو دو والی دوا سے ’’مریض‘‘ صحت یاب نہیں ہوں گے۔ رہ گیا یہ اعتراض کہ اس طرح کے احتجاجوں سے شہریوں کو تکلیف ہوتی ہے تو پچھلے دنوں رائے ونڈ والے احتجاج پر میں بھی بری طرح اس تکلیف سے گزرا ہوں کیونکہ جہاں یہ احتجاج ہوا وہ مقام ہمارے دو گھروں کے تقریباً درمیان میں ہے یعنی سندر رائے روڈ ’’بیلی پور‘‘ والے فارم ہائوس سے جوہر ٹائون والے گھر کے درمیان لیکن مجھے اس تکلیف پر راحت محسوس ہوئی کیونکہ اس ملک کی کروڑوں آبادی عشروں سے اذیت میں مبتلا ہے، ابھی گزشتہ کالم میں عرض کیا کہ کتنے کروڑ پاکستانی خطِ غربت اور کم خوراکی کا شکار ہیں، کتنے کروڑ بچے سکولوں کے باہر ’’چھوٹے‘‘ بن کر اس ملک کے بددیانت ’’بڑوں‘‘ کو اپنی زندگیاں بھینٹ کر رہے ہیں۔ جب یہ کہتے ہیں ۔’’لوگ کام پر نہیں جاسکیں گے‘‘ تو میرا دھیان کروڑوں بے روزگار نوجوانوں کی طرف جاتا ہے جنہیں کام ملتا ہی نہیں۔ جب یہ کہتے ہیں ’’بچےا سکول نہ پہنچ پائیں گے‘‘ تو میں ان بچوں کا سوچتا ہوں جو کبھی سکول گئے ہی نہیں کیونکہ ان کے اور سکولوں کے درمیان ’’عدم احتساب‘‘ کی دیوار چین حائل ہے۔جب یہ کہتےہیں۔’’بیماروں کو ہسپتالوں تک رسائی مشکل ہوگی‘‘ تو مجھے سلاٹر ہائوسز جیسے سرکاری ہسپتال یاد آتے ہیں، ہیپاٹائٹس سے مرنے والے کروڑوں پاکستانی یاد آتے ہیں، 1000انسانوں کے لئے ڈاکٹروں کی شرمناک تعداد یاد آتی ہے، ہسپتالوں کے فضلے کی نیلامیاں یاد آتی ہیں۔ممکن ہو تو صورتحال کو تیسری آنکھ سے دیکھنے اور دماغ کی بجائے دل سے سوچنے کی کوشش کیجئے۔رہ گیا ’’عوام کا اٹھنا‘‘ تو اسی ’’طوفان نوح‘‘ سے خوف آتا ہے۔ سب ہی ’’تحریک انصاف‘‘ ہوگئے تو سب کچھ صاف ہو جائےگا۔ ایک آدھ شہر کے ’’محاصرے‘‘ سے پورے ملک کو آزادی مل جائے تو سمجھو بہت سستے چھوٹ گئے۔راستے بند کئے دیتے ہو دیوانوں کےڈھیر لگ جائیں گے بستی میں گریبانوں کےایک آدھ ’’گلی‘‘ کے بند ہونے سے پوری ’’بستی‘‘ بچتی ہے تو بچالو، ورنہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی بہت پستا ہے۔ احتساب یا بڑے عذاب میں سے ایک چن لو اور یہ جملہ بھی میں نے ہی لکھا تھا کہ .....’’جیب میں چوری کا مال نہیں تو سرعام جیب الٹنے میں کیا برائی ہے۔‘‘
.