• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میں اس وقت چھٹی ساتویں جماعت کا طالب علم تھا جب میرے والد گرامی مولانا گلزارا حمد مظاہری صاحب نے مجھے خوش خبری دی کہ کل تمہیں ایک بڑے آدمی سے ملاقات کے لئے لاہور لے جانا ہے۔ سرگودھا سے لاہور تک میں شوق اور خوف کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اپنے ذہن میں بڑے آدمی کے نقشے بناتا رہا۔ہم 5۔اے ذیلدار پارک میں مولانا مودودی کے مطالعے کے کمرے میں داخل ہوئے تو مولانا ٹیوب والے ٹیبل لیمپ کی روشنی میں محومطالعہ تھے۔ والد صاحب نے سلام کیا تو مولانا نے کھڑے ہو کر نہایت تپاک سے اُن کے ساتھ مصافحہ کیا۔ والد صاحب نے بتایا یہ میرا بیٹا حسین احمد ہے تو مولانا نے نہایت محبت اورشفقت سےمجھ سے بھی مصافحہ کیا اور پھر میرا ہاتھ تھامے تھامے انہوں نے فرمایا کہ مولانا! یوں کہیے ناکہ یہ گلِ گلزار ہیں ۔ مولانا چند منٹوں تک نہایت شفقت کے ساتھ میری تعلیم اور دیگر دل چسپیوں کے بارے میں سوالات کرتے رہے اور پھر وہ والد صاحب کے ساتھ جماعتی وسیاسی موضوعات پرمحوِ گفتگو ہو گئے۔ اس دوران میں اُن کے کمرے کے چاروں اطراف میں نہایت ترتیب کے ساتھ رکھی ہوئی کتابوں کا جائزہ لیتا رہا اور کبھی کبھی کن اکھیوں سے اُن کے نورانی چہرے سے پھوٹتی ہوئی کرنوں کو اپنے قلب وروح میں اترتا ہوا محسوس کرتا رہا۔
میں مولانا مودودی سے پہلی ملاقات کے بعد تادیر سوچتا رہا کہ بڑا آدمی کون ہوتاہے اس وقت میرے بچگانہ ذہن نے میرے سوال کا یہ جواب دیا کہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے کہ جو بہت سی کتابیں پڑھتا ہے اور بچوں کے ساتھ شفقت ومحبت سے پیش آتا ہے۔ تاہم زندگی کی کچھ مزید منازل طے کرنے کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھنے کا ملکہ رکھتا ہے،جو لوگوں کے اندر کی روشنی کو باہر لاتا ہے ،جو لوگوں کو اپنی ذات سے بلند وبالا ہونے کا درس دیتا ہو جو دلوں کو سوز وساز آرزو اور ذوق وشوق کی حرارت سے بھر دیتا ہو ۔جو خود کسی مقصد کا دیوانہ ہوتاہے اور دوسروں میں بھی ایسی ہی دیوانگی پیدا کر دیتا ہے۔ میرے اس احساس کے مطابق بھی مولانا ؒ یقینا ایک بہت بڑے آدمی تھے۔
وقت کی کچھ اور منزلیں طے کرنے کے بعد اور کچھ مزید مطالعے اور اہل علم کی مجالس سے کسبِ فیض کرکے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ حقیقی معنوں میں بہت بڑا آدمی وہ ہوتا ہے جو کسی مقصد اور کسی مشن کے لئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔عظمت کی اس منزل کی معراج یہ ہے کہ جب بندہ اپنے رب کی رضا کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے پر دل وجان سے آمادہ ہو جائے تب وہ بندہ حقیقی معنوں میں ایک عظیم انسان بن جاتا ہے۔ انبیاءؑ نے اپنے نقوش پا سے اس راستے کی نشاندہی کر دی ہے۔ حضرتِ ابراہیم علیہ السلام خدا کی خوشنودی کے لئے اپنے لختِ جگر کی قربانی دینے کو تیار ہو گئے اور جناب رسالت مآب آقائے دو جہاں محمد مصطفی ﷺ رضائے الٰہی سے اپنے آباء واجداد کی عظیم بستی مکتہ المکرمہ کو چھوڑ کرصحرانوردی اور آبلہ پائی کرتے ہوئے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر گئے ۔ مولانا مودودی نے عظمت کی معراج کا یہ ماڈل اپنانے اور اپنی زندگی کے ایک ایک پل کو رضائے الٰہی کے لئے وقف کر دینے کا راستہ اختیار کیا۔یہ راستہ کوئی آسان راستہ نہ تھا۔ اس راستے کی مسافت میں غیروں کے ہی نہیں اپنوں کے وار بھی سہنے پڑتے ہیں۔
غیر تو غیر تھے اپنوں نے بچھائے کانٹے
مولانا مودودی نے سیدّ الانبیاء جناب مصطفی ﷺکا بتایا ہوا راستہ اختیار کیا تو انہوں نے اپنے آپ اور اپنے ساتھیوں کو یہ بھی سمجھایا کہ یہ
یہ شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
مولانا مودودی کی شخصیت اتنی ہمہ پہلو اور جامع ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ ایک شخص میں عظمت کے گوناگوں رنگ قوس وقزح کی شکل میں کیسے جمع ہو گئے۔ مولانا مودودی بیک وقت مصلح بھی تھے مبلغ بھی تھے،مفکر بھی تھے،مفسر قرآن بھی تھے،درجنوں علمی کتابوں کے مصنف بھی تھے ،مدبر بھی تھے، معلم بھی تھے اور پھر اپنے عہد کے مجتہد بھی تھے۔جب کہ ایک عالم باعمل جب اپنی روح عصر کے مطابق اور اپنے دور کے اسلوب بیان اور اپنے زمانے کے علم الکلام کی روشنی میں اسلام کی تعلیمات کو نہایت قابلِ فہم انداز میں پیش کرتا ہے تو گویا وہ ایک مجتہدانہ کارنامہ انجام دیتا ہے ۔مولانا مودودی کا سب سے عظیم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے قرآن وسنت کو ان کے اوریجنل ماخذ کے ساتھ بیسویں صدی کے اسلوب میں پیش کیا اور دنیا کو قائل کیا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ ء حیات ہے اور ساتھ ہی یہ بھی صراحت کی کہ اس ضابطہء حیات کومدینہ میں نافذ کرکے آنجنابﷺ نے دنیا کو ایک حقیقی فلاحی ریاست کی جھلک دکھا دی۔ ایک ایسی ریاست کہ جسکے طرزِ حکمرانی کی اساس شورائیت تھی۔ پیغمبر ہونے کے باوجود رسالت مآبﷺ اپنے صحابہؓ سے مشورہ کرتے تھے۔
مولانا مودودی نے ریاست مدینہ کے اس ماڈل کو دورِ جدید کے اسالیب میں اپنی کتاب ’’اسلامی ریاست ‘‘میں پیش کردیاہے۔مولانا مودودی تحریر فرماتے ہیں ۔’’ اسلام دنیا میں جو اصلاح چاہتا ہے وہ صرف وعظ وتذکیر سے نہیں ہو سکتی بلکہ اس کو عمل میں لانے کے لئے سیاسی طاقت بھی درکار ہے۔ پھر جب کہ یہ دعا ا للہ تعالیٰ نے خود اپنے نبی کو سکھائی ہے تو اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ اقامت دین اور نفاذ شریعت اور اجرائے حدود اللہ کے لئے حکومت چاہنا اور اس کے حصول کی کوشش کرنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب ومندوب ہے اور وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اسے دنیا پرستی یا دنیا طلبی سے تعبیر کرتے ہیں‘‘۔
قیام پاکستان کے بعد تو اسلامی حکومت کے قیام اور اس کے لئے سیاست میں بھی بھر پور حصہ لینے پر مولانا مودودی کا یقین اور بھی پختہ ہو گیا۔ تاہم آغاز سفر میں ہی اُن کے بعض قریبی ساتھی ماچھی گوٹھ کے طویل اجلاس کے بعد جماعت سے علیحدہ ہو گئے تھے۔جماعت کی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس1957میں منعقد ہوا تھا۔ علیحدہ ہونے والے حضرات میں مولانا امین احسن اصلاحی،مولانا عبدالغفار حسن، ڈاکٹر اسرار احمد، جناب مصطفی صادق اور جناب ارشاد احمد حقانی جیسی شخصیات شامل تھیں۔جماعت سے علیحدہ ہونے والے ان زعماء کاموقف یہ تھا کہ مولانا مودودی کو اپنا دائرہ کار علمی ،تعلیمی اور تربیتی دائرے تک محدود رکھنا چاہئے۔ جماعت اپنے ارکان کو انتخابی میدان میں نہ اتارے اُن کے بجائے دوسری جماعتوں کے ’’اچھے‘‘ لوگوں کی تائید وحمایت کرے۔ گویا ان رہنمائوں نے بھی انتخابی سیاست سے علیحدگی کی بات نہیں کی بلکہ غیر جماعتی لوگوں کو آگے لانے کی بات کی۔ جبکہ مولانا مودودی اور شوریٰ کی اکثریت کا دو ٹوک موقف یہ تھا کہ کوئی بھی تبدیلی اپنے ہی ارکان کو پارلیمنٹ میں بھیج کر لائی جا سکتی ہے۔ 1970کی اسمبلی میںجماعت اسلامی کے صفِ اوّل سے تعلق رکھنے والے چار حضرات قومی اسمبلی کے ارکان تھے۔ ان ارکان نے 1973کی آئینی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔بدلتے حالات نے مولانا مودودی کے موقف کو درست ثابت کیا۔مولانا مودودی کا نظریہ سیاست ساری اسلامی دنیا میں بہت مقبول ہوا۔ اسلامی دنیا میں انہوں نے واضح کر دیا کہ نظامِ حکومت کی تبدیلی کے لئے انتخابات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔مولانا مودودی کاتبدیلی بذریعہ انتخابات کا فلسفہ اسلامی دنیا میں بہت مقبول ہوا۔ الجزائر ،ترکی،مصر ،تیونس اور فلسطین وغیرہ میں اسلامی جماعتوں کو انتخابی سیاست میں بہت بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ مولانا مودودی کے ’’اسلامی نظریہء سیاست کے لئے آج مغرب میں ’’سیاسی اسلام‘‘ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے جبکہ مولانا مودودی سمیت مسلم مفکرین اسلام میں دین وسیاست کی کسی تفریق کے قائل نہیں۔ (22ستمبر1979کو مولانا مودودی بفیلو اسپتال امریکہ میں انتقال فرما گئے)
تازہ ترین