سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے انمول عرف پنکی کیس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ڈی جی اے این ایف کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ مکمل رپورٹ پیش کی جائے کہ انمول عرف پنکی کن افراد کو منشیات فراہم کر رہی تھی۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی فیصل سلیم نے اجلاس میں کہا ہے کہ ڈی جی اے این ایف آ کر بتائیں کہ انمول عرف پنکی کس کس کو منشیات سپلائی کر رہی تھی اور آیا اس میں کسی جج، بیوروکریٹ یا پارلیمنٹیرین کا نام شامل ہے؟
فیصل سلیم نے مزید کہا کہ اگر میرے پاس اختیار ہوتا تو میں اس جج کا بھی چیک اپ کروانے کا کہتا جس نے انمول کو ضمانت دی۔
اُنہوں نے کہا کہ یقینی بنائیں گے کہ جن افراد کو انمول نے منشیات فراہم کیں انہیں بحالی مراکز میں بھیجا جائے۔
اجلاس کے دوران سینیٹر ثمینہ زہری نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج صبح خبروں میں دیکھا کہ وہ جرائم پیشہ خاتون دھڑلے سے عدالت جا رہی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ چور، ڈاکو اور منشیات فروش کھلے عام گھوم رہے ہیں اور ہم یہاں مرنے کے لیے بیٹھے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ عامر اعوان قتل کیس پر ہونے والی بحث کے دوران زیرِ غور آیا۔