پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی چند ممتاز ترین افواج میں ہوتا ہے۔ ڈسپلن، تربیت اور فنی مہارت میں پاکستانی فوج کو بہرحال اقوام عالم میں خصوصی مقام حاصل ہے اور اس مقام کے پانے میں جہاں عمومی طور پر تمام ادارے کا کردار ہے وہیں مختلف ادوار میں کمان کرنے والوں کو بھی فراموش نہیں کیاجاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض کمان کرنے والوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور فوج کی کمان کرنے کے ساتھ ہی ساتھ ملکی انتظام کی کمان بھی اپنے ہاتھ میں لے لی۔مرحوم سابق صدر جنرل محمد ایوب خان وہ پہلے فوجی سربراہ تھے جنہوں نے فوجی طاقت سے سول حکومت کے تختہ کو الٹا اور خود ہر قسم کے اختیارات کے مالک بن گئے۔ بعض لوگوں کایہ کہنا ہے کہ عوامی فلاح وبہبود اور ملکی ترقی کے حوالہ سے ان کا مجموعی کام قابل ستائش تھا مگر جمہوریت کوآمریت میں بدلنے کا اعزاز انہیں کو حاصل تھا۔ سابق صدر جنرل محمد ایوب خان کے اپنے ہی لاڈلے وزیرمرحوم ذوالفقار علی بھٹو ان کے زوال کا سبب بنے۔ پیپلزپارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ایوب کے خلاف اس طرح مضبوطی کے ساتھ میدان میں اترے کہ بالآخر انہوں نے اقتدار جنرل محمد یحییٰ کے سپرد کیا اور خود رخصت ہوگئے۔ جنرل محمد ایوب خان کے جانشین جنرل محمد یحییٰ خان نے انتخابات کروائےمگر دوسری طرف آدھے پاکستان کو الگ کرنے کے ذمہ دار بھی ٹھہرے۔ مشرقی پاکستان جنرل محمد یحییٰ خان کے دوراقتدار میں بنگلہ دیش بنا تھا اور پوری قوم کو یہ ناقابل فراموش صدمہ قبول کرنا پڑا حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان کے لوگ ہی تحریک پاکستان کی اساس تھے۔ مسلم لیگ کا قیام مشرقی پاکستان میں ہی ہوا تھا جس کی بعدازاں قیادت قائداعظم محمدعلی جناح مرحوم نے کی۔ جنرل ایوب خان مرحوم اور جنرل محمد یحییٰ خان کے بعد جنرل محمد ضیاءالحق مرحوم نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف قومی اتحاد کی تحریک کو جواز بناکر حالات کی اصلاح کی غرض سے حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور پھر کوئی گیارہ سال تک اقتدار سے وابستہ رہے یہاں تک کے جہاز کا حادثہ انہیں اقتدار کی کرسی سے الگ کرسکا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے دور میں ہی پاکستان کی بعض خوبیوں کا اقوام عالم کو اعتراف ہوا جن میں سے ایک تو بھارت کو جنگ سے باز رکھنے کا تھا اور دوسرا افغانستان میں روسی مداخلت اور جارحیت کا سدباب تھا۔ افغانستان میں روسی مداخلت کا آئندہ کا ٹارگٹ پاکستان تھا لہذا جنرل محمد ضیاءالحق کا یہ فیصلہ کہ وہ روسی مداخلت کے خلاف برسرپیکار لوگوں کی مدد کرے گا کوئی زیادہ غلط فیصلہ نہیں تھا۔جنرل محمد ضیاالحق مرحوم کے بعد جنرل محمد اسلم بیگ کے بھی ارادے کچھ اچھے نہیں تھے مگر حالات کے دباؤ کی وجہ سے وہ اپنے لئے اقتدار کا حصول آسان نہیں بناسکے۔ تاہم جن غیرعسکری قوتوں کو اس وقت استعمال کیا گیا ان میں سے بعض قوتیں خود بعد میں پاکستان کیلئے آزمائش بن گئیں۔ تاہم آمریت کے بعد جمہوریت کی بحالی کے ساتھ ہی جمہوری وزیراعظم کو یہ اختیار مل گیا کہ وہ چیف آف آرمی سٹاف کا تقرر کرے چنانچہ اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف مقرر کیا لیکن جنرل پرویز مشرف سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے جنرل ضیاء الدین کو لانے کی کوشش کی مگر جنرل پرویز مشرف نے میاں محمد نوازشریف کا تختہ الٹ دیا اور خود اقتدارپر قبضہ کرلیا۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں جہاں وہ قوتیں متحرک اور منظم ہوئیں جنہوں نے پاکستان کے اندر بدامنی کو جنم دیا اور وہ بہت ہی مضبوط ہوئیں،وہیں متحدہ قومی موومنٹ نے بھی مکمل آزادی کے ساتھ کام کیا اور ان کے کام کو صدر پرویز مشرف اپنا کام دکھاتے تھے۔ متحدہ قومی موومنٹ نے بڑے فخر کے ساتھ کراچی میں فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا کیونکہ ان کے نزدیک تحریک طالبان پاکستان ہی تمام حالات کی خرابی کی ذمہ دار تھی۔ اللہ کا شکر ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے اس بار اقتدار میں آنے کے بعد اپنے اہم ترین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ یہ کیا کہ فوج کی کمان انہوں نے ایک محب وطن اور خالص فوجی یعنی جنرل راحیل شریف کے سپرد کی اور پھر جنرل راحیل شریف کے تعاون سے بعض بہت اہم کام سرانجام دیئے۔ معاشی ترقی میں سی پیک منصوبے کو اساسی اہمیت حاصل ہے اور یہ منصوبہ جنرل راحیل شریف کی ذاتی دلچسپی کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ خیبرپختونخوا اور خصوصاً بلوچستان کے علاقوں میں فوج کی قربانیوں کے بغیر سی پیک کا کام ممکن نہیں تھا۔ بلوچستان کو الگ کرنے کے منصوبے پر کام بھارت اور چند دیگر طاقتوں کی طرف سے مکمل تھا اسے بھی جنرل راحیل شریف نے خاک میں ملایا۔ جنوبی وزیرستان کے بعد شمالی وزیرستان اور تحریک طالبان پاکستان اور بھارتی مداخلت کے منصوبوں کے خلاف ضرب عضب کی کمان کرکے جنرل راحیل شریف نے اپنی قیادت کا لوہا بھی منوایا اور خود پاکستان کو بھی محفوظ کیا۔ کراچی جو مکمل طور پر مقتل میں تبدیل ہوچکا تھا اسے پھر سے امن کا شہر بنانے کیلئے بھی میاں محمد نوازشریف کی خواہشوں کو پوراکرنے جو شخص کھڑا ہوا وہ بھی جنرل راحیل شریف تھا۔ کشمیر کے حوالہ سے بھارتی جارحیت کیلئے بھی سدسکندری بننے والے انسان کا نام بھی جنرل راحیل شریف ہے۔ یہ تمام کام اپنی جگہ بڑے کارنامے ہیں اور ناقابل فراموش ہیں لیکن ان سب کارناموں میں سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ بعض لوگوں کی خواہشوں کے باوجود جنرل راحیل شریف نے جمہوری حکومت کی بساط نہیں الٹی اور یہ ثابت کیا اور یہ تاریخ رقم کی کہ فوج کا کام حکومتی نظام میں مداخلت نہیں۔ جنرل ایوب خان، جنرل محمد یحییٰ خان، جنرل محمد ضیاءالحق اور جنرل پرویز مشرف کے برعکس حالات کے جواز کے باوجود جنرل راحیل شریف نے اقتدار کے ایوانوں سے الگ رہنے کے فیصلہ سے یہ ثابت کیا کہ وہ واقعی پاکستان کی تاریخ کا وہ درخشندہ ستارہ ہےجس کی روشنی فوج کے سربراہ کے طور پر ختم ہونے کے بعد بھی قائم رہے گی۔ ساری قوم کی طرف سے جنرل راحیل شریف اپنے تین سالہ دور کیلئے ان گنت محبتوں بھرے سلام کے مستحق ہیں۔ جنرل راحیل شریف زندہ باد، پاک فوج زندہ باد۔
.