رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
چیف جسٹس سپریم کورٹ:کیا ہمیشہ بھیک مانگ کر ہی گزارہ کیا جائے گا، ملک قرضوں پر چلایا جا رہا ہے۔
غالب کا ایک کمال ہے کہ ان کو پاکستان بننے کا بھی پیشگی علم ہو گیا تھا، اور بننے کے بعد اس میں ہونے والی خرمستیوں کا بھی پتہ چل گیا تھا ورنہ وہ یوں کیوں کہتے؎
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
ایک چیف جسٹس صاحب قبلہ ہی نہیں ملک کا ہر پیر وجواں بلکہ اب تو بچے بھی یہی سمجھتے ہیں جو انہوں نے کہہ دیا ہے، اگر یہ قرض پہ قرض ہمارے لئے لیا جاتا تو آج یہ ملک ترقی یافتہ ملکوں کی صف میں سر اٹھا کے کھڑا ہوتا، مگر قرض تو ہمارے نام پر لیا جاتا ہے اپنے لئے، اس لئے ہم زمین میں دھنستے جا رہے ہیں اور 68برسوں سے مقتدر طبقے کا قد اس قدر بڑھ گیا ہے کہ سر آسمان کو چھونے لگا ہے۔ شاید اب انہیں سمندر میں چلنا پڑے کہ سر فلک ِ پیر سے ٹکرا نہ جائے اور وہ ان پر ٹوٹ نہ پڑے۔ دولت اچھی چیز ہے مگر جب ایک کے پاس دو کی دولت آ جائے تو اسراف اور زیادتی کی سرحدیں شروع ہو جاتی ہیں؎
یہ ملک یوں قرضوں سے چلایا نہ جائے گا
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
چپکے چپکے اور مہنگائی کا آنا یاد ہے !
درآمدی پھل، سبزی، دہی، مکھن، ڈبل روٹی، مشروبات، شیمپو سمیت 313اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ، 40ارب روپے کا ٹیکس خسارہ پورا کیا جائے گا۔ 3104ارب کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لئے آئی ایم ایف سے وعدہ کیا گیا تھا، پارلیمنٹ سے منظوری لینے کا خیال ترک کر دیا گیا۔
ہم نے صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے چند ایک ضرورت کی اشیاء کا ذکر کیا ورنہ روئے زمین پر کوئی ایسی انسانوں کے کام آنے والی چیز نہیں جس پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھانے کے باوجود مزید اضافہ نہ کر دیا گیا ہو۔ صدارتی آرڈیننس سے کنی کتراتے ہوئے اسمبلی کی منظوری سے بھی پرہیز کیا کہ کہیں آئی ایم ایف سے کیا ہوا وعدہ قوم سے کئے گئے وعدوں پر غالب نظر نہ آئے۔ اکبر الٰہ آبادی کو کروٹ کروٹ جنت نصیب ہو وعدہ خلافی سے متعلق کیا عمدہ شعر کہا
اس وعدہ خلافی پر کرو غور کسی دن
ہر روز یہ کہہ دیتے ہو اب اور کسی دن
یہ کس ہاتھی قبیلے نے اپنے ٹیکس ادا نہیں کئے کہ اب ٹیکس خسارہ عوام کو پورا کرنا ہو گا۔ بہرحال شیر حکومت ہے، اور شیر ہی حکمران، جو چاہیں کریں۔ ہارسنگھار کی اشیاء اتنی مہنگی کر دی گئی ہیں کہ اس کے اثرات قبول ہے قبول ہے پر بھی پڑیں گے اور اب تو کوئی منچلا یہ بھی نہ کہہ سکے گا
مشاطہ را بگو کہ بر اسبابِ حسنِ یار
چیزے فزوں کند کہ تماشا بما رسید
(بیوٹی پارلر والی سے کہو کہ محبوب کے میک اپ میں کچھ آئٹم بڑھا دے کہ تماشا ہم تک آ پہنچا ہے) کیا ہمیں منصوبے چلانا اور قرض بڑھانا زیب دیتا ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
سیاسی تنہائی کے آنگن میں مصلحت کی شہنائی
تحریک انصاف کو سیاسی تنہائی کا کرب، پیپلز پارٹی سے مصلحت کی شادی پرآمادہ، کوئی مانے یا نہ مانے پیپلز پارٹی کے نکاح خواں تو پہلے ہی سے تحریک انصاف میں موجود ہیں اور ہمیں پوری توقع تھی کہ یہ ایک روز ضرور دونوں پارٹیوں کا ولیمہ کر کے رہیں گے۔ اچھی خبر ہے اور ہم تو چاہتے ہیں کہ ملک میں دو ہی بڑی سیاسی جماعتیں ہوں تاکہ یہ سیاسی ہڑبونگ ختم ہوجائے اور جمہوریت یکسوئی کے ساتھ پھلے پھولے۔ہم نے فال بھی نکالی، نیک فال ہی نکلی، اور دونوں کا قارورہ بھی کسی حاذق حکیم سے چیک کرایا، بالکل ملتا جلتا ہے، درد دونوں کا ایک ہے۔ سینہ چاکان سیاست جب ملیں گے تو سارے چاک سل جائیں گے اور دونوں کو ایک دوسرے کو ٹھیک کرنے کا موقع بھی ملے گا، پارٹی چونکہ مونث ہوتی ہے اس لئے اسے بیاہِ مصلحت بھی کہہ سکتے ہیں۔ اصل مقصد تو دونوں کی تنہائیوں کا خاتمہ کرنا ہے لیکن ایک انجانا ڈر بھی ہے کہ کہیں پیپلز پارٹی تحریک انصاف کو نگل نہ جائے۔ ہمیں بلاول اور پھر آصفہ کے چچا عمران سے باہم پیغام رسانی اور مبارکبادیوں ہی سے اندازہ ہو گیا تھا کہ زمین پر دو ستاروں کا ملن ہونے کو ہے اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں۔ مصلحت کا جھوٹ ،مصلحت کی شادی، مصلحت کی سیاسی آشنائی نئی کھلتی کلی جیسی ہے کہ
یہ پھول اپنی نزاکت کی داد پا نہ سکا
کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرا نہ سکا
اکثر قبروں پر یہ شعر لکھا ہوتا ہے۔ مصلحت کی شادی ہے دونوں کو کچھ نہ کچھ افاقہ ضرور ہو گا اور سیاسی تنہائی کے آنگن میں شہنائی کوئی رنگ لائے گی۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
خامہ خونچکاں اپنا!
٭ سرینگر:رکن اسمبلی انجینئر رشید ہندو انتہا پسندوں کے حملہ میںشدید زخمی۔
ہم کیا کر سکتے ہیں کہ ہمارا تو یہ حال ہے کہ خود ہی اپنے اندر سے سنگسار ہو رہے ہیں اور اہل قلم کا یہ حال کہ ؎
خامہ خونچکاں اپنا انگلیاں فگار اپنی
ان دنوں اعلیٰ عدلیہ اور اہل قلم ایک پیچ پر ہیں۔
٭ اس ملک میں ہر روز ایان ہی عیاں ہوتی ہے وہ کیوں نہیں ہوتے جنہوں نے اسے عیاں کر دیا ؟
٭ شیخ رشید:افتخار چوہدری کا کوئی مستقبل نہیں، ان کی پارٹی چند وکلاء کا ٹولہ ہو گا۔
شیخ جی اپنی ٹلی بجا رہے ہیں، اب وہ نواز شریف کا مقولہ بھی ساتھ گایا کریں
’’پلے نئیں دھیلا تے کر دی میلہ میلہ‘‘
٭ خواجہ آصف:بھارتی جارحیت کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت ہے۔
یہ بیان تو پاک فوج کا ہے جسے بیان وزیر دفاع کر رہے ہیں، مگر یہ جو گڈ گورننس کی توپیں حکومت پر چل رہی ہیں ان کا دفاع کون کرے گا؟
٭ لوگ پُرامید رہیں، حکومت ہم پر ہماری طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالے گی۔
٭ ایک حرام خور نے دوسرے سے پوچھا اگر تمہارا گھر قرقی ہو گیا تو کہاں جائو گے؟
ظاہر ہے تیرے گھر آئوں گا، اور پہلا بڑبڑایا: کاش میں پوچھتا ہی ناں۔
٭ شہید فلائنگ افسر مریم:’’میں ایم ایم عالم ہوں‘‘
جنت میں ایک دوسرے کو دیکھ کر کتنے خوش ہوئے ہوں گے۔ شہید مریم کا اٹھ جانا ہمارا بہت بڑا نقصان ہے، ان کے نقش قدم پر چلنے والی کسی غازیہ کی ضرورت ہے۔
٭ ٭ ٭ ٭ ٭