تارکین وطن کیخلاف جاری کریک ڈاؤن اور نئی پالیسیوں کے تحت سیکرٹری داخلہ شبانہ محمود جو ان اقدامات سے تقریباً 10 بلین پاؤنڈز کی خطیر رقم بچانے کی دعویدار ہیں، کے بارے نئے تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ کیا وہ تمام تر راست اقدامات کے باوجود 6 سو ملین پاؤنڈ کی بچت یقینی بنا سکیں گی۔
لیبر کی امیگریشن کریک ڈاؤن پالیسی کے تحت نئی اصلاحات میں زیادہ تر لوگوں کو سیٹلڈ اسٹیٹس کے لیے اہل ہونے کے لیے 10 سال انتظار کرنا پڑے گا جو موجودہ قوانین کے مطابق پانچ سال مختص ہے۔
معلومات کی آزادی کے قوانین کے تحت جاری کردہ مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی کے اعداد و شمار کے مطابق سیکرٹری داخلہ کے دعوؤں کے برعکس ان اقدامات سے بہت کم بچت ہوگی۔
سیکرٹری داخلہ نے گزشتہ ماہ انکشاف کیا تھا کہ صحت اور سماجی نگہداشت کے ویزوں پر برطانیہ میں مقیم کم ہنر مند اور زیر کفالت تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد افراد اگلے پانچ سال کے دوران سیٹلڈ اسٹیٹس کے لیے اہل ہونے والے ہیں جس سے انہیں فوائد، سماجی رہائش اور این ایچ ایس علاج تک رسائی ملے گی۔ ملکی تاریخ میں کبھی بھی اتنے کم وقت میں اتنی کم ہنر مند ہجرت نہیں دیکھی۔
مائیگریشن ایڈوائزری کمیٹی کے نتائج کی بنیاد پر ٹیکس دہندگان کا تقریباً 10بلین پاؤنڈز کا بوجھ کم ہوگا تاہم نئے تجزیوں میں یہ رقم بہت کم بچت پر رہے گی۔