آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، جنرل قمر باجوہ اور افغان صدر، اشرف غنی نے طالبان کے کابل، قندھار اور دیگر مقامات پر حملوں کے بعد پیغامات کا تبادلہ کیا۔ جنرل باجوہ نے ان حملوں کی مذمت کی اور افغان صدر کو یقین دلایا کہ اسلام آباد الزام تراشی کی بجائے کابل کے ساتھ مل کر کام کرتے ہوئے طالبان کے خطرے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے ۔ صدر غنی نے بھی جنرل صاحب کی تشویش کا خیر مقدم کیا، لیکن اُنھوںنے پاکستان کے سرحدی علاقوں میں حقانی نیٹ ورک کو مبینہ طور پر حاصل محفوظ پناہ گاہوں کا ذکر کھلے الفاظ میں کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اُن کی تشویش کا باعث ہے ۔ تاہم افغان صدر نے جنرل باجوہ کی خیر سگالی کا مثبت جواب دیتے ہوئے پاکستان کے ساتھ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہرکی ۔
یہ ایک اہم پیش رفت ہے ، کیونکہ حالیہ دنوں صدر غنی اپنے پیش رو، حامد کرزئی کی طرح پاکستان پر افغانستان کے حالات خراب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے انڈیا کے ساتھ گہرے روابط قائم کررہے ہیں۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ طالبان کی دہشت گردی ، جس کا شکار دونوں ممالک ہیں، کے حوالے سے ا سی طرح کی سنجیدہ تشویش اُس وقت بھی موجود تھی جب تین سال پہلے جنرل راحیل شریف آرمی چیف بنے اور صدر اشرف غنی انڈیاکا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسلام آباد آئے اور

پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ۔ تو گزشتہ تین سال کے دوران ایسا کیاہوا جس کی وجہ سے صدر غنی پاکستان سے بدظن ہوکر انڈیا کے کیمپ میں چلے گئے ؟ مزید یہ کہ اب وہ دوبارہ پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ کیوں دکھائی دیتے ہیں؟
دسمبر 2013 ء میں صد ر اشرف غنی نے اسلام آباد کا سرکاری دورہ کیا ۔اس دورے کے دوران اُنہیں جنرل راحیل شریف اور وزیر ِاعظم نواز شریف کے ساتھ کھلے دل سے بات چیت کرنے کا موقع ملا۔ دونوں پاکستانی رہنمائوں نے اُنہیں یقین دلایا کہ افغان طالبان پر اُن کا جوبھی اثر ہے ، اُسے استعمال کرتے ہوئے انہیں کابل کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لئے آمادہ کریں گے تاکہ افغانستان میں جاری خانہ جنگی بند ہوسکے اور شراکت ِ اقتدار کاکوئی فارمولہ طے کیا جاسکے ۔ پاکستانی رہنمائوں نے اپنے تئیں پوری کوشش کی لیکن اُن کی کوششیںافغانستان میں بھارت نواز غنی مخالف عناصر نے ناکام بنادیں۔ اس مقصد کے لئے عین اُس وقت جب کابل اور طالبان نمائندوں کے مذاکرات ہونے جارہے تھے ، طالبان کے سپریم لیڈر، ملاّعمر کی وفات کی خبر افشا کردی گئی ۔ اس کی وجہ سے طالبان کی صفوں میں داخلی طور پر قیادت کے لئے جنگ شروع ہوگئی ۔ متحارب گروہوں نے کابل کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کرتے ہوئے خود کو ’’اصل اور اصول پسند طالبان ‘‘ ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح امن اور مفاہمت کے امکانات دم توڑ گئے ۔
کابل اور طالبان کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی ناکامی کے ساتھ ہی کابل اور اسلام آباد کے درمیان تنائو آگیا اور خیر سگالی اور دوستی کی فضا مکدرہوگئی اور ایک بار پھر الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ملاّعمر کی وفات کے بعد ملاّ منصور طالبان کے امیر بنے ۔ اُنھوں نے اپنی امارت کا جواز پیش کرنے اور خود کو مضبوط بنانے کے لئے کابل کی طرف سخت گیر موقف اپنایا ۔ اس صورت میں پاکستان کے لئے طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کرنا ناممکن ہوگیا۔ اس کے بعد ملاّ منصور پاکستانی علاقے میں امریکی ڈرون کا نشانہ بن کر ہلاک ہوگئے ۔ اُن کے پاس سےپاکستانی پاسپورٹ برآمد ہوا اور کہا جاتا ہے کہ وہ ایران سے پاکستانی علاقے میں داخل ہوئے تھے ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی پاکستانی اور امریکی خفیہ اداروں کے درمیان معلومات کے تبادلے کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی ۔ اپنے امیر کی پاکستانی علاقے میں ہلاکت کے بعد افغان طالبان میں داخلی طور پر تبدیلی آنا شروع ہوگئی ۔ نئی طالبان قیادت کا پاکستان کی طرف جھکائو او ر کابل کے ساتھ بات چیت پر آمادگی دیکھ کر سخت گیر موقف رکھنے والے جنگجو طالبان کی صفوں سے نکل کر زیادہ شدت پسند تنظیم، داعش کی طرف جانے لگے ۔ داعش کے افغانستان میں سراٹھانے نے پاکستان کے لئے خطرے کی گھنٹی بجادی۔ اس پر اسلام آباد کے لئے ضروری ہو گیا کہ وہ اپنی تزویراتی پالیسی تبدیل کرے ۔ اس وقت تک انڈیا صدر غنی کو اپنی طرف مائل کرنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔
اب صدر غنی اور پاکستانی فوجی قیادت کے درمیان ایک بار پھر رابطہ بحال ہوا ہے ۔ پہلی بات یہ ہے کہ صدر غنی کو احساس ہوچکا ہے کہ انڈیا طالبان کے ساتھ امن قائم کرنے کے عمل میں معاون ثابت نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی وہ طالبان کو کچل سکتے ہیں۔اس ضمن میں انڈیا کی معاشی اور فوجی طاقت کام نہیں دے سکتی۔ دوسری بات یہ کہ داعش نے سرحد کے دونوں طرف سراٹھانا شروع کردیا ہے ۔اس سے دونوں ممالک کو یکساں خطرات لاحق ہیں۔ جنرل راحیل شریف کی پاکستانی طالبان کے خلاف جنگ ایک اہم پیش رفت تھی ۔ تیسری بات یہ کہ دونوں ممالک کو سمجھ آچکی ہے کہ ایک دوسرے کے دشمن کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنا کسی کے لئے بھی سود مند نہیں۔ چوتھی یہ کہ امریکہ اور نیٹو افغانستان سے مکمل طور پر انخلا نہیں کررہے ہیں، اورنہ ہی مستقبل قریب میں اس بات کا کوئی امکان پایا جاتاہے ۔ پانچویں یہ کہ صدر ٹرمپ چاہیں گے کہ کابل ، اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان مفاہمت کا عمل پروان چڑھے۔ خطے کے معروضی حالات آگے بڑھنے کے عمل کے لئے ساز گارہیں۔ پاکستان اور افغانستان، دونوں نے دہشت گردی سے تکلیف اٹھائی ہے ۔ اگر انہوں نے اس موقع پر ہاتھ نہ ملائے تو داعش اور دیگر انتہا پسند گروہ ان کے لئے کہیں بڑا خطرہ بن جائیں گے ۔ اسی طرح پاکستان اور انڈیا کو بھی جلد ہی بات چیت کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے ۔ ان دونوں کے درمیان مشرقی سرحد پرپراکسی جنگ مغربی سرحد پر ابھرنے والے امکانات کے مواقع کو نقصان پہنچائے گی۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں