• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد اقوام عالم بے چینی کا شکار ہے۔سات ممالک پر سفری پابندی نے نئے امریکی صدر کے ارادے واضح کردئیے ہیں۔پاکستان نے بھی امریکی صدر کے انتہائی اقدامات سے خود کو محفوظ رکھنے کے لئے احتیاطی تدابیر شروع کردی ہیں۔مگر بدقسمتی ہے کہ آج کے دن تک مسلم ممالک کے خلاف جارحانہ حکمت عملی پر کسی اسلامی ملک کے سربراہ کا کوئی مذمتی بیان سامنے نہیں آیا۔صورتحال ایسی ہے کہ جن ممالک پر پابندی لگی ہے وہ دباؤ کی وجہ سے خاموش ہیں اور جو ابھی پابندی کی زد سے باہر ہیں تو وہ یہ سوچ کر خاموش ہیں کہ کہیں کوئی بیان دینے سے توپوں کا رخ ہماری طرف نہ مڑ جائے۔گزشتہ روز ایران کے وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے مگر ایران کی تنقید کے ساتھ ساتھ اس معاملے پرا مت مسلمہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔منافقت کا عالم تو یہاں تک ہے کہ پابندی کا شکار ہونے والے عراق کے وزیراعظم نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امریکہ کی پابندی کے باوجود ان کے اتحادی رہیں گے۔جبکہ دوسری جانب امریکی زرخیز دماغوں کی پالیسیوں پر بھی حیرانی ہوتی ہے کہ جس ملک میں طویل جنگ کرکے آپ نے اپنی حکومت بنائی ہے ،اسی عراق پر بغیر سوچے سمجھے پابندی لگادی گئی۔بہرحال یہ جو سلسلہ چل پڑا ہے اس کے دو رس نتائج بہت خوفنا ک ہونگے۔
امریکہ کی بات کی جائے تو دنیا کی واحد سپر پاور کی مضبوطی کی وجہ اس کے پناہ گزین رہے ہیں۔ لبرٹی،Fraternity(بھائی چارہ) اور برابری کی وجہ سے مشہور امریکی آئین نے ہمیشہ دنیا بھر کے لوگوں کو قبول کرنے کا درس دیا ہے۔مجسمہ آزادی پچھلی کئی دہائیوں سے دنیا بھر کے انسانوں کو اپنی طرف کھینچتارہا ہے۔کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی اصل پاور اس کے جوہری اثاثے،تیل کے ذخائر یا پھر معاشی مضبوطی نہیں ہے بلکہ دنیا بھر کی اقوام کا وہاں موجود ہونا امریکہ کی اصل مضبوطی ہے۔میری تحقیق کے مطابق 18ویں صدی کے آخر میں امریکی آئین بننے کے بعد سے لے کر آج تک مختلف امریکی صدور نے 13ہزار ایگزیکٹو آرڈر جاری کئے ہیں۔ مگر آج تک کوئی ایک بھی ایسا صدارتی حکم نامہ جاری نہیں ہوا ،جس کی عملداری پر رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑجائے۔حتی کہ کبھی امریکی عدالتوں نے بھی اپنے صدر کے ایگزیکٹو آرڈرز کو اس طرح آڑے ہاتھوں نہیں لیا ،جس طرح ٹرمپ کے احکامات کو لیا جارہا ہے۔وزرات خارجہ کے کئی درجن افسران کا سخت مزاحمت کرنا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ امریکی عوام اس امریکہ بننے کے حامی نہیں ہیں ،جو اسے ڈونلڈ ٹرمپ بنانا چاہتے ہیں۔بہر حال صورتحال انتہائی گمبھیر ہے۔گزشتہ ہفتے کے دوران برطانیہ اور یورپ میں کئی سفارت کاروں اور ارکان پارلیمنٹ سے نشست رہی۔سب حیران پریشان بیٹھے ہیں کہ آخر ٹرمپ جیسا امریکی صدر ہمارے ساتھ کیا کرے گا۔برطانیہ سے زیادہ یورپی یونین شدید اضطراب کا شکار ہے کہ امریکی صد ر کے عزائم یورپ کے تشخص کے لئے خطرنا ک ہوسکتے ہیں۔جبکہ دنیا کی ابھرتی ہوئی معاشی سپر پاور چین بھی حالیہ تبدیلیوں پر خوش نہیں ہے۔قارئین کے علم میں ہوگا کہ امریکہ نے دنیا میں سب سے زیادہ قرضہ جس ملک کا دینا ہے وہ چین ہے۔انتہائی ذمہ داری سے بتا سکتا ہوں کہ امریکہ اس وقت چین کا ایک ہزار ارب روپے سے زیادہ کا مقروض ہے۔ ایسی صورتحال میں چین بھی سخت دباؤ کا شکار ہے کہ جن بڑی امریکی کمپنیوں کے پلانٹ چین میں لگائے گئے تھے اور چین کی معیشت کا بڑا حصہ اس پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرمپ کے انتہائی اقدامات ان کمپنیوں کو کہیں دوبارہ فلوریڈا اور لانس ویگاس کا رخ نہ دکھا دیں۔جاپان کی صورتحال سب کے سامنے ہے۔ہیرو شیما اور ناگاساکی پر ایٹمی حملے کے بعد اوباما پہلے صدر تھے ،جنہوں نے جاپان کا دورہ کرکے تلخ ماضی کو بھلانے کی کوشش کی تھی مگر اطلاعات ہیں کہ ٹرمپ سب کچھ بدلیں گے۔روس کی بات کی جائے تو گزشتہ چند دہائیوں سے روس ہمیشہ امریکہ کا حریف رہا ہے۔خاص طور پرکولڈوار کے بعدسے لے کر جتنے بھی امریکی صدر آئے کسی کی بھی روس سے کچھ خاص نہیں بن سکی۔اس لئے روس کو کوئی خاص فرق نہیں پڑتا تھا کہ نئے امریکی صدر کی پالیسیاں کیا ہونگی مگر روس خوش قسمت رہا ہے کہ ٹرمپ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی بلندیوں کے سلسلے کا آغاز کرنا چاہتے ہیں۔جبکہ بھارت کے حوالے سے ٹرمپ کے نظریات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔چونکہ امریکی صدارتی مہم کے دوران بھارتیوں نے ٹرمپ کی اپنے اکثریتی آبادی والے علاقوں میں خوب آؤ بھگت کی اور مسلمانوں کے خلاف مزاحمت میں ان کے شانہ بشانہ رہے تو ٹرمپ اقتدار میں آنے سے پہلے ہی بھارتیوں کے حامی بن چکے تھے۔یہ ممکن نہیں ہے کہ جو شخص بھارت کا حامی ہو وہ بیک وقت پاکستان کا بھی خیر خواہ نکلے۔اس لئے پاکستانی ارباب و اختیار ٹرمپ کے آنے سے کافی پریشان ہیں۔وزارت خارجہ کے بھی کئی سینئر افسران سے حالیہ صورتحال پر گفتگو ہوئی مگر سب تذبذب کی کیفیت کا شکار ہیں۔
ایسی صورتحال کے دوران ایک مذہبی تنظیم جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کی نظر بندی کو امریکی دباؤ سے مشروط کیا جارہا ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ امریکی میں ہونے والی حالیہ سیاسی تبدیلی کے بعد اس قسم کے فیصلے کا سامنے آنا فطری بات ہے۔کوئی بھی ملک سپر پاور سے ٹکر مول لے کر ان افراد کو اپنے کندھوں پر نہیں لا د سکتا۔جبکہ اس کے ساتھ ساتھ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امریکہ کی تو خیر اور بات ہے ،ہمارا دوست ملک چین بھی ہماری ان پالیسیوں سے کچھ خوش نہیں تھا۔حتی کہ ایک مذہبی رہنما کے نام پر گزشتہ ویٹو کے بعد چین نے پاکستان کو واضح پیغام دیا تھا کہ وہ مسعود اظہر کے معاملے پر لمبے عرصے تک اسٹینڈ نہیں لے سکیں گے جبکہ چین چند عرصہ قبل اپنے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد بھی شدید تحفظات کا اظہار کرچکا تھا۔چین کی رائے تھی کہ ان رہنماؤں کی سپورٹ سے چینی عوام میں یہ تاثر جاتا ہے کہ چین ان رہنماؤں کا حامی ہے اور پاکستان میں شدت پسند رہنماؤں کا حمایتی ہے۔جبکہ چین سی پیک کے حوالے سے بھی ان عناصر کو خطرناک سمجھتا ہے۔ذاتی رائے ہے کہ اب پاکستان کو روز روز بین الاقوامی دباؤ،نظر بندی،دہشت گردی کے الزامات سے خود کو چھٹکارا دلانا ہوگا۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کا Baggage Carryکرنا ریاست کے بس کی بات نہیں رہتی۔مضبوط اور بہتر پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ اب ہمیں اپنے اوپر سے یہ چھاپ اتروانا ہوگی اور دنیا کو پرامن پاکستان کی تصویر پیش کرنا ہوگی۔



.
تازہ ترین