آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خیبر پختونخوا یا بلوچستان میں دہشت گردی کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو بجا طور پر یہ شور اٹھتا ہے کہ یہ اقتصادی راہداری منصوبے پر حملہ ہے ، لاہور میں بم دھماکہ ہوا تو بجا طور پر یہ کہا گیا کہ یہ پاکستان سپر لیگ پر حملہ ہے ، کیونکہ یہ کھیل کے میدان میں پاکستان کو عالمی برادری سے کاٹنے کا ایک آسان ہدف تھا۔ لیکن دور اندیشی سے کام کیوں نہیں لیا جاتا ؟ یہ کیوں نہیں کہا جاتا کہ یہ پاکستان پر حملہ ہے ، پاکستان کی ترقی پر حملہ ہے ، پاکستان کی سلامتی پر حملہ ہے ، پاکستان کے بیٹے بیٹیوں پر حملہ ہے ۔جب تک ہماری سوچ انفرادی سے اجتماعی نہیں ہوتی ہم اپنے مسائل اور مشکلات کے مکمل خاتمے کی طرف نہیں بڑھ سکتے ۔انسانی جان کی جو حرمت لاہور میں ہے وہ پشاور،کوئٹہ،کراچی ،سیہون ، قبائلی علاقوں اور پاکستان کے ہر حصے میں بھی قائم رہتی ہے ۔پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں عام شہریوں کے علاوہ پولیس اور فوج کے جوانوں اور افسروں کی قربانیاں بھی دے چکا ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہماری ان قربانیوں کا اب عالمی سطح پر بھی اعتراف کیا جانے لگا ہے لیکن جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ۔ گزشتہ تین برس میں حاصل کی جانے والی کامیابیاں بلاشبہ غیر معمولی ہیں لیکن یہ جنگ کا آخری مرحلہ ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ہمیں پہلے سے زیادہ چوکنا ہونے کی ضرورت ہے کہ

دشمن ہماری کامیابیوں کا اثر زائل نہ کر سکے تاآنکہ پاکستان قوم مکمل امن کی منزل سے ہمکنارہو اور ترقی کی طرف تیز رفتاری سے پیش قدمی کرے ۔ ریاست بلاشبہ پوری طاقت سے دہشتگردی کے خلاف نبرد آزما ہے لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ کمی کہاں باقی ہے ؟کیوں ہم اتنی قربانیوں کے باوجود اب تک اس لعنت سے چھٹکارا نہیںپاسکے۔افغانستان کے ساتھ پاکستانی سرحدی علاقوں میں حالات گزشتہ تین برس میں بہت بہتر ہوئے ہیں لیکن افغانستان میں دہشتگردوں کی محفوظ پنا ہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جاسکا ۔ پاکستان افغٖانستان میں امن کا خواہاں ہے لیکن افغانستان کو بھی یہ بات باور کرانے کی اشد ضرورت ہے کہ خیر سگالی کی یہ ٹریفک یک طرفہ نہیں چل سکتی۔افغان فوج ابھی اس قابل نہیں کہ وہ پاکستان کے ساتھ سرحدی علاقوں میں موجود دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو ختم کر سکے اس لئے افغانستان میں موجود امریکی فوج کو یہ فریضہ سرانجام دینا ہوگا۔ اس تناظر میں پاک فوج کے سپہ سالار نے افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر کو جو ٹیلی فون کیا ہے وہ بالکل بروقت تھا اور امریکہ کو یہ باور کرانا بہت ضروری ہے کہ وہ خطے میں امن کے لئے اپنے کردار سے منہ نہیں موڑ سکتا ۔ اقوام عالم کو بھی سفارتی سطح پر یہ بات اچھی طرح باور کرانی ہوگی کہ خطے میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک افغانستان سلگ رہا ہے اور اس سے بھی زیادہ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ افغانستان میں امن کا راستہ پاکستان سے ہوکر جاتا ہے ۔ پاکستان خطے کا ایک اہم ملک ہے جس کے منفرد جغرافیے کو اس کی طاقت بنانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ دہشتگردی کے خاتمے کے لئے پاکستان جتنی کاوشیں کر رہا ہے افغانستان کو اس میں تعاون کرنا ہوگا کہ اس میں اس کا بھی بھلا ہے ۔پاکستان میں ترقی و خوشحالی ہو گی تو لازم ہے کہ اس کے اثرات افغانستان پر بھی مرتب ہوںکیونکہ پاکستان اور افغانستان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں ۔ بین الاقوامی تعلقات عامہ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے میں یہ سمجھتا ہوں کہ طالبان حکومت کے خاتمے کے ساتھ ساتھ امریکی امداد اور بھارتی شہہ کے باوجود افغانستان کا پاکستان پر انحصار کچھ زیاد ہ کم نہیں ہوسکا، اس کی سب سے بڑی مثال پاکستان میں لاکھوں رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان مہاجرین ہیں افغانستان ابھی تک ان کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوسکا۔ کابل کے حالات میں قدرے بہتری اور عالمی امداد کے باوجود نہ تو افغان ریاست ان مہاجرین کی واپسی کے بندوبست پر تیار ہے اور نہ ہی یہ خود واپس جانے پر رضامند ہیں ،تاہم اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان ان افغان مہاجرین سے جان چھڑا لے ۔ سب سے پیچیدہ اور مشکل مرحلہ پاک افغان سرحد پر عالمی معیار کے مطابق نظم و ضبط قائم کرنا ہے لیکن گزشتہ چالیس برس میں آر پار آنے جانے والے اس نظم و ضبط کو ماننے کو تیار نہیں ہیں ۔ یہ وہ جھول ہے جو پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔صرف طورخم سرحد کو بند کرنا کافی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کو مل کر طویل سرحدی پٹی کے دونوں اطراف حالات کو مکمل طور پر قابو کرنا ہوگا۔ پاکستان توسرحدی نظام کو مؤثر بنانے کے لئے پر عزم نظر آتا ہے لیکن کابل میں اس عزم کی کمی واضح طورپر دیکھنے میں آرہی ہے ۔ دوسری طرف اگر ہم یہ بات تسلیم کر لیں کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے تو سوال یہ ہے کہ لاہور ،کراچی ،پشاور یا کوئٹہ اور افغانستان کے درمیان سہولت کاری کی شکل میں ایسا کون سا پل موجود ہے جو دہشتگردوں کے رابطوں اور ان کی سرگرمیوں کو مکمل طو ر پر ختم نہیں کرسکا۔پاکستانی ریاستی اداروں کو سہولت کاری اور رابطہ کاری کے نیٹ ورک کا یہ پل ہر صورت توڑنا ہوگااور افغانستا ن کو بھی چاہئے کہ وہ اس پل کو توڑنے میں پاکستان کی مدد کرے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان سے ملحقہ افغان سرحدی علاقوں میں ایک بھرپور فوجی آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں کا مکمل طور پر خاتمہ کر دیا جائے ۔
سب سے بڑا اور اہم کام معاشی اور تعلیمی شعبوں میں کرنے کا ہے۔ جب تک معیشت کی بہتری کی صورت میں نوجوانوں کو روزگار کے وافر ذرائع میسر نہیں ہوں گے تب تک ان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے خطرا ت مکمل طو ر پر ختم نہیں کئے جاسکتے ۔ تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس میں ہمہ گیر اصلاحات اور ان پر تیز رفتار عمل کے بغیر دہشت گردی کے ناسور کو مکمل طو رپر پائیداری کے ساتھ ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ریاست کے ساتھ جذباتی وابستگی اور غیر متزلزل وفاداری اور بلامذہب وملت ہر دوسرے فرد کے احترام کو یقینی بنانے کے لئے ہمیں اپنے بچوں کو یہ پڑھانا اور سمجھانا ہوگاکہ پاکستان ہمارا گھر ہے اور اس گھر کی حفاظت اور تقدس کو قائم رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔
وقت کی انتہائی اہم ضرورت ریاست پاکستان کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کی عوامی پشت پناہی ہے۔ یہ عوام ہی ہوتے ہیں جن کی طاقت کے سبب ایک حکومت اپنے اختیارات بروئے کار لاتی ہے اور یہ عوام ہی ہوتے ہیں جو اپنی حمایت واپس لے لیں تو دنیا کے کسی ملک میں کوئی حکومت کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ باوجود اس کے کہ پاکستان میں پولیس کے محکمے کوعوامی سطح پر وہ پذیرائی میسر نہیں جو کسی بھی ترقی یافتہ یا متمد ن ملک میں حاصل ہوتی ہے اور اس کی وجہ پولیس کے محکمے میں موجود بعض کالی بھیڑیں بھی ہیں ۔ اس بات سے بھی انکار ممکن نہیں کہ پولیس میں سیاسی دخل اندازی کی وجہ سے یہ ادارہ انحطاط کا شکا ر ہوا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پولیس کی قربانیوں سے انکار کیا جائے ۔ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے سامنے حالیہ بم دھماکے میں بھی بظاہر نشانہ پولیس ہی نظر آئی ۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومتی سطح پر پولیس کی قربانیوں کے اعتراف کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی پاکستانی عوام دہشت گردی کے خلاف پولیس کی قربانیوں کو سراہنے کیلئے عملی طور پر آگے آئیں۔اس سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عوامی ملکیت ملے گی بلکہ پولیس کے ایماندار اور محنتی اہلکاروں اور افسروں کا مورال بھی بلند ہوگااور پاکستانی قوم یک جا ہو کر دہشت گردی کے خلاف حتمی کامیابی حاصل کر سکے گی۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں