• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تاریخ یہ کہتی ہے....ناتمام…ہارون الرشید

تاریخ یہ کہتی ہے کہ اقلیت کبھی تادیر اکثریت پہ حکومت نہیں کیا کرتی، لہٰذا شائستگی اور وقار مگر جرأت و استقلال کے ساتھ نظام انصاف کی تحریک جاری رہنی چاہئے وہ سرخرو ہو گی کہ کامیابی کے سوا اس تحریک کا کوئی دوسرا انجام نہیں گاہے دانشور زندگی بھر ظلمتوں میں بھٹکتے ہیں، حکمت عملیوں اور ان کی پیچیدگیوں پر غور کرتے، حیات کی بساط سے اٹھ جاتے اور پسماندگان کے دلوں میں ایک حسرت چھوڑ جاتے ہیں۔ کاش، وہ دیوار پہ لکھا پڑھ سکتا۔ کاش وہ جانتا کہ اصل چیز سچائی ہے، خلوص ہے، تدبیر بھی ہے، حسن بیاں بھی، حکمت بھی مگر ساری تدبیر، سارا حسن بیاں اور تمام تر ریاضت و آبیاری بیکار رہے گی، اگر سچائی کا بیج نہ ہو تو بوٹا نہ اگے گا۔ میرا دوست بار بار، اب اس کا نام کیا لکھوں، سبھی جانتے ہیں کہ وہ کون ہے، وہ کہتا ہے دوام سچائی کو ہے، اللہ حق ہے اور حق کی پرورش و نمو کرتا ہے۔
جسٹس خلیل الرحمن رمدے کس شان سے، ہمارے قومی منظر پہ ابھر رہے ہیں کھری بات کہتے ہیں اور ایثار پر آمادہ ہیں سچی بات یہ ہے کہ ملک کو آزاد عدلیہ درکار ہے۔ یہ کسی کی نوکری کا مسئلہ نہیں۔ وہ کہتے ہیں، لیجئے میں اپنے منصب سے دستبردار ہوتا ہوں۔ ملک کو آزاد عدالتیں دیجئے، میں منصف کی اونچی کرسی پر نہیں بیٹھوں گا، خورسند اور شادمان ، اپنے گھر چلا جاؤں گا۔ پھر وہ یاد دلاتے ہیں کہ وکلاء کی تحریک کا مقصد حکومت کی اکھاڑ پچھاڑ نہیں۔ ہونا ہی نہیں چاہئے۔ اس کی غایت تو اجلے اور شفاف نظام عدل کا قیام ہے۔ سابق فوجیوں کی تنظیم پوری یکسوئی سے اس تحریک کی حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ نواز شریف بھی تائید کرتے ہیں، اگرچہ دھرنے پر اب بھی مخمصے کا شکار ہیں۔ عمران خان کہتا ہے کہ وہ جم کر کھڑا ہو گا اور کھڑا رہے گا، ایک لاکھ حامیوں کو شاہراہ دستور تک لے جائے گا مگر چوہدری شجاعت حسین؟
چوہدری شجاعت حسین، پرویز الٰہی نہیں۔ ساری کوتاہیوں کے باوجود ان کے سینے میں دل ہی ہے، پتھر نہیں۔ درسی کتابوں کی تدوین، لال مسجد ہو یا پاسپورٹ کے خانے میں مذہب کے اندراج کا معاملہ ، کبھی اس دل میں احساس کی کونپل پھوٹ پڑتی ہے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ تاجر آدمی ہیں اور مجبوریاں بہت پال لی ہیں۔ سیاسی، کاروباری اور خاندانی مسائل کے طفیل چوہدری پرویز الٰہی سے اشتراک عمل کا خاتمہ نہیں کر سکتے۔ وہ کہتے ہیں : خلیل رمدے کی طرح جسٹس افتخار محمد چوہدری بھی دستبردار ہونے کا اعلان کر دیں۔ واہ چوہدری صاحب! حاتم طائی کے بغیر طلسم ہفت در کیسے کھلے گا؟ رانجھے کا ذکر کئے بغیر ہیر کی کہانی کیسے کہی جائے گی۔ اگر آپ کے مرحوم و محترم دادا جان، سرپرستی کے ہنگام، سوہنی مہینوال کا قصہ لکھنے والے سے یہ فرمائش فرماتے کہ اس داستان میں مہینوال کا نام نہ آنے پائے؟ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بغیر قیام عدل کی تحریک؟
پاپوش میں لگائی کرن آفتاب کی
جو بات کی خدا کی قسم لاجواب کی
طالب علم، سیّد ابو الاعلیٰ مودودی کی خدمت میں حاضر تھا۔ بوڑھا، گنواروں کا ستایا ہوا، ریاضت کیش اور نجیب سکالر ذوالفقار علی بھٹو کا عہد ستم تھا نہ سوال وصل نہ عرض غم، نہ حکایتیں شکایتیں، دلِ زار کا کوئی اختیار باقی نہ تھا۔ مال روڈ کا رخ کرنے والے طالب علموں پر پولیس کی لاٹھیاں برسیں اور اس بری طرح برسیں کہ خون کے چشمے ہی نہ پھوٹے لباس بھی تار تار کر دیئے گئے۔ اب جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو گرفتار کرنے کا منصوبہ تھا۔ فقط سیّد صاحب کو مستثنیٰ کرنے کا ارادہ تھا کہ ایک مفکر کے طور پر عالم اسلام میں ان کا بہت اکرام تھا اور عرب ممالک کے علمی حلقوں میں خاص طور پر ردعمل کا اندیشہ تھا۔ ابو الاعلیٰ نے بات سنی تو کڑے لہجے میں یہ کہا ”اس سانپ کا ڈنک میں ہوں ، جب تک مجھے گرفتار نہیں کیا جاتا، جماعت اسلامی کو مجروح نہیں کیا جا سکتا“۔ جہاندیدہ سیاستدان نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ یہ نہ کہا کہ انہیں گرفتار کرنے کی سکت قہرمان بھٹو میں ہرگز نہیں جو اگلے برسوں میں خود قضا کا لقمہ ہونے والے تھے۔
جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرف سے انکار سے پہلے، ایک ایک کر کے ساری قندیلیں بجھ گئی تھیں۔ خاکی وردی پہنے پرویز مشرف کوس لمن الملک بجاتے تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف جلا وطنی، جناب زرداری نیو یارک میں آسودہ، اخبارات میں ”پڑھا لکھا پنجاب“ کے اشتہار اور دانشور کئی طرح ان اشتہاروں سے فیض یاب۔ پھر محترمہ نے امریکیوں کے ایما پر برطانوی وزارت خارجہ سے خفیہ مذاکرات کا آغاز کیا اور مہرے بن کر شاد رہنے والے عرب شہزادے اس کھیل میں کود گئے۔ فروری 2007ء کو شیخافاطمہ کے محل میں ہونے والی ملاقات میں محترمہ، جنرل پرویز مشرف کو وردی سمیت قبول کرنے پر آمادہ تھیں۔ یہ 9مارچ کا دن تھا کہ بساط الٹ گئی اور اس لئے الٹ گئی کہ جنرلوں کے نرغے میں ایک جج نے اپنی عزت نفس پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ جان چکا تھا کہ ان کی طاقت جعلی ہے اور صداقت کا سامنا نہیں کر سکتی۔
تین ماہ ہوتے ہیں، طالب علم اس جستجو کے ساتھ چیف جسٹس کی خدمت میں حاضر ہوا کہ آخر اس آدمی میں وہ کون سی خاص بات ہے جو اسے سب دوسروں سے ممتاز کرتی ہے۔ کس چیز نے اسے اتنی ریاضت پر آمادہ کیا کہ سپریم کورٹ میں پڑے ہزاروں مقدمات اس نے نمٹا دیئے۔ کیا یہ انسانی ہمدردی کا غیرمعمولی جذبہ تھا کہ سینکڑوں مظلوموں کی براہ راست اس نے داد رسی کی یا کچھ اس کے سوا بھی۔ اللہ کے آخری رسول کا فرمان یاد رہے تو سمجھ میں آتا ہے کہ زندگی گزارنے کے دو طریقے ہیں، ایک تو یہ کہ حیات آدمی پر سوار ہو اور دوسرے یہ کہ آدمی حیات پر سوار ہو جائے۔ خطائیں اپنی جگہ مگر وہ اپنے باطن میں مخلص آدمی تھا۔ ریاضت اور ہمدردی ہی نہیں، اس نے طے کر لیا اور زندگی کے گھوڑے پر سوار ہو گیا۔ سرپٹ اس نے اسے دوڑایا اور منزلوں پر منزلیں سرکیں وہ اس نظام کے اندر رہ کر لوگوں کو انصاف مہیا کرتا کہ وہ کوئی انقلابی تو نہیں تھا بلکہ ایک اعتبار سے سرکاری ملازم۔ اہل حکم مگر تاب نہ لا سکے اور انہوں نے اسے رخصت کرنے کا ارادہ کر لیا۔ کیسے مگر وہ کر پاتے۔ سچی بات زمین میں پھیلی ہوئی جڑوں کی طرح ہوتی ہے، کتنا ہی شجر کاٹا جائے، وہ پھر سے ہرا ہو جائے گا۔
جو رکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا
چوہدری شجاعت حسین نے کیا بادشاہوں والی بات کی ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری دستبردار ہو جائیں۔ وہ کیوں ہو جائیں۔ یہ اتنا ہی مضحکہ خیز مطالبہ ہے، جیسے تحریک پاکستان سے پریشان آل انڈیا کانگرس یہ تقاضاکرتی کہ قائد اعظم مسلم لیگی قیادت سے الگ ہوں ہر عوامی تحریک کا ایک مظہر، نشان، علم اور محور ہوتا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنی خیرہ کن شجاعت کے ساتھ نظام عدل کی تحریک کا پرچم، بادبان اور لنگر ہیں۔ 83 فیصد پاکستانی ان کی بحالی کے حامی ہیں۔ اخبارات اور بے مثال قربانیاں دینے والے وکلاء کا کردار ہے مگر جسٹس افتخار محمد چوہدری، اگر آج ایک عوامی عصبیت بن چکے تو اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے کردار اور اصول میں محترم ہیں۔ حصول انصاف کی تمنا جو ہر دل میں تڑپ رہی ہے۔ خلق خدا نے انصاف ہوتے ہوئے دیکھا اور اب وہ زندگی کے ہر گوشے میں نور کا جلوہ چاہتی ہے۔ اس بھید کو لوگوں نے پا لیا ہے کہ نظام انصاف ہی سے ظلم کا خاتمہ ہو گا اور قومی حیات نمو پذیر ہونے لگے گی۔ ادھر لیڈر لوگ ہیں کہ ان کی بقا زر و ظلم کے اس نظام سے وابستہ ہے۔ وہ اس کے طفیل ہیں اور طفیلی ہیں، لہٰذا اگر وہ چیف جسٹس سے گریزاں نہ ہوں تو اور کیا ہوں؟
سچی بات تو یہ ہے کہ جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حرفِ انکار نے اس قوم کو دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ ایک انصاف کے آرزو مند، دوسرے اس کے منکر۔ دوسرے اقلیت میں ہیں لیکن ابھی وہ طاقتور ہیں۔ حیلے سے، جبر سے، چالبازی سے، عالمی قوتوں کی سرپرستی میں، ابھی وہ مقتدر ہیں مگر کب تک رہیں گے؟ تاریخ یہ کہتی ہے کہ اقلیت تادیر اکثریت پر حکومت نہیں کیا کرتی، لہٰذا شائستگی سے، وقار سے مگر عزم و استقلال کے ساتھ نظام انصاف کی تحریک جاری رہنی چاہئے۔ وہ سرخرو ہو کر رہے گی۔ کامیابی کے سوا اس تحریک کا کوئی دوسرا انجام نہیں، انشاء اللہ۔
تازہ ترین