• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی آئینی عدالت نے کے پی ٹی کے برطرف افسر کی بحالی کیخلاف اپیل خارج کر دی

وفاقی آئینی عدالت نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کی کرپشن پر برطرف افسر کی بحالی کیخلاف اپیل خارج کر دی۔ 

وکیل کے پی ٹی رفاقت شاہ کے مطابق سابق ایچ آر منیجر انس ارباب کو غیرقانونی بھرتیوں پر برطرف کیا گیا، ایف آئی اے نے بھرتیوں کی فائلیں انس ارباب کے گھر سے برآمد کیں۔ 

کے پی ٹی کے وکیل کا مزید کہنا تھا کہ انس ارباب کی اپنی بھرتی کے دور کی فائلیں بھی غائب ہیں، انس ارباب کی 1989 میں ایڈہاک بھرتی ہوئی اگلے سال خراب کارکردگی پر برطرف ہوا اور 1990 میں وزیر مواصلات کی مداخلت پر بحال اور مستقل کیا گیا۔ 

اس موقع پر وفاقی آئینی عدالت کے جج جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ آپ کیوں نہیں پڑھ رہے، کسی کو ٹرائل کیے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ 

جسٹس عامر فاروق نے مزید کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے مطابق ملزم کیخلاف کوئی انکوائری ہی نہیں ہوئی۔ کے پی ٹی نے فیکٹ فائنڈنگ کروائی جسے انکوائری نہیں کہا جا سکتا، دوبارہ انکوائری اس لیے نہیں ہوسکتی کہ ایچ آر منیجر ریٹائر ہوچکا ہے۔  عدالت قانون سے بالاتر کوئی کام نہیں کرسکتی۔ 

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کے پی ٹی کی اپیل پر سماعت کی۔ 

ایچ آر منیجر انس ارباب کو کے پی ٹی نے کرپشن الزامات پر برطرف کر دیا تھا۔ 

سندھ ہائیکورٹ نے برطرفی کالعدم قرار دی اور ریٹائرمنٹ کی عمر ہونے پر پینشن و مراعات دینے کا حکم دیا تھا۔ کے پی ٹی نے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ آئینی عدالت میں چیلنج کیا تھا۔

قومی خبریں سے مزید