• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اوور سیز پاکستانیز، 2018ء کے الیکشن میں ووٹ نہیں ڈال سکیں گے

Overseas Pakistanis Will Not Be Able To Vote In The 2018 Election
انتخابی اصلاحاتی کمیٹی برائے پارلیمانی کسی قسم کا حل نکالنے میں ناکام جس کے تحت بیرونی ممالک میں رہنے والے پاکستانی اب 2018ء کے الیکشن میں بھی وہاں بیٹھے ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔

اب تک کوئی ایسا سسٹم نہیں متعارف کرایا گیا جو تمام اقسام کی خرابیوں سے پاک ہو جو قابل استعمال ہو سکے تمام پاکستانیوں کیلئے جو بیرونی ممالک میں مقیم ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اس کیلئے ٹیسٹ پراجیکٹ 2015ء میں کئے تھے مگر وہ کارفرما نہیں ہو سکے۔

حال ہی میں نادرا نے انتخابی اصلاحاتی کمیٹی برائے پارلیمان کی خواہش پر ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا ہے جو انٹرنیٹ ووٹنگ دکھاتا ہے، یہ نظام ہیکرز سے پاک نہیں اور کسی بھی وقت ہیک ہو سکتا ہے۔

واضح رہے کہ روسی ہیکرز نے فرانسیسی صدارتی الیکشن کو ہیک کرکے پورے نظام کو مشکوک بنا دیا ہے۔ بی بی سی اور فرانس24 کے مطابق روسی ہیکرز نے فرانسیسی آن لائن ووٹنگ مہم اور پولیٹکل پارٹی کی ویب سائٹس ہیک کرکے تمام ڈیٹا ضائع کردیا اور ان کے انتخابی عمل میں داخل ہو گئے۔

یہ بات قابل حیران کن ہے کہ روسی ہیکروں نے حال ہی میں امریکی صدارتی الیکشن اور جرمن چانسلر کے الیکشن کی بھی جاسوسی اور ٹیک کرلیا تھا، ان تمام خطرات کو جانچتے ہوئے دنیا کے آئی ٹی اور الیکشن کے ایکسپرٹ سرجوڑ کر بیٹھے اور تمام کے تمام اس نتیجہ پر اتفاق کیا کہ الیکشن میں کسی بھی قسم کی آن لائن ویب سسٹم کو استعمال نہیں کیا جائے کیونکہ ٹیکس ہونے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے اور اس کا استعمال مناسب نہیں ہے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن آف پاکستان اس بابت جائزہ لے رہا ہےا ور پائلٹ پروجیکٹ کو ٹیسٹ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہاں یہ بات بہت اہم ہے کہ پلڈاٹ اور فافن کے سربراہوں نے انٹرنیٹ ووٹنگ کو پہلے ہی مسترد کردیا ہےا ور کہا ہے کہ دنیا میں یہ نظام کہیں بھی لاگو نہیں ہے جس کے ہیک ہونے کا خطرہ ہر وقت موجود ہے۔
تازہ ترین