واصف علی واصف ہمارے دور کی ایک صاحب کمال شخصیت تھے۔ مجھے ان کی محفل میں بیٹھنے کا صرف دو دفعہ اتفاق ہوا ۔ایک مرتبہ اشفاق احمد کے گھر پر اور دوسری مرتبہ ایم اے او کالج میں اور یہ دوسری محفل خود میں نے سجائی تھی۔ اس کے علاوہ دسیوں مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی، وہ 1970ء کی دہائی کی ابتداء میں ایم اے او کالج میں اپنے دوستوں سے ملنے آیا کرتے اور یوں ان سے ملاقات ہوجاتی تھی، مگر اس وقت تک ان کی باطنی کیفیت کے چرچے عام نہیں ہوئے تھے۔متذکرہ ملاقاتوں کے دوران بے تکلفی پیدا نہیں ہوئی ،کیونکہ وہ اکثر خاموش بیٹھے رہتے تھے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ انہی دنوں ایک اور بڑی روحانی شخصیت پروفیسر رفیق اختر بھی ایم اے او کالج میں میرے کولیگ تھے، مگر واصف علی واصف اور رفیق اختر (رفیق اختر کو ہم جوگی کہتے تھے) دونوں اس امر سے ناواقف تھے کہ چند گز کے فاصلے پر ایک ایسی شخصیت تشریف فرما ہے جو آنے والے دنوں میں مرجع خلائق بننے والی ہے، بہرحال اشفاق صاحب کی محفل میں ملاقات کے بعد واصف صاحب سے میرا حقیقی رابطہ استوار ہوا جس کی تفصیلات میں اپنے ایک کالم میں بیان کر چکا ہوں۔
میں واصف صاحب کے علم و دانش اور ان کی بے پناہ خوبصورت گفتگو کے اسیروں میں سے ہوں ۔ میں نے اپنی زندگی میں طریقت ا ور شریعت کے حوالے سے اتنے تخلیقی جملے واصف صاحب کے سوا کسی ا ور سے نہیں سنے۔ ان کی شخصیت دلوں کو موہ لینے والی تھی۔ ان کے حلقہ ارادت میں بہت نامور دانشور بھی شامل تھے جس میں اشفاق احمد سر فہرست ہیں۔ اسی طرح حنیف رامے ، منو بھائی او ر اکرام چغتائی بھی ان کی دانش سے فیض اٹھاتے رہے ہیں۔ اکرام چغتائی سے میری دوستی بہت پرانی ہے ۔ ادبی تحقیق میں انہیں ایک ممتاز مقام حاصل ہے ،چنانچہ گزشتہ ہفتے انہوں نے اعجاز الحق صاحب کی تصنیف ”فرمائش“ مجھے عطا کی اور ساتھ ہی اس کی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کی فرمائش بھی کر ڈالی۔ اس طرح کی فرمائشوں سے میری جان جاتی ہے لیکن کتاب پڑھی تو میرا اپنا دل بھی اس پر اظہار خیال کے لئے مائل ہوا کہ یہ کتاب اپنے اندر بہت سے سوال ا ور بہت سے جواب رکھتی ہے۔”فرمائش“ واصف علی واصف کی سوانح حیات ہے۔ اپنے دوست مرزا عبدالقیوم کی طرح مجھے بھی سوانحی ادب سے بہت دلچسپی ہے، کیونکہ آپ اس کتاب کی وساطت سے بیٹھے بٹھائے وہ زندگی بھی گزار لیتے ہیں جو صاحب سوانح نے گزاری ہوتی ہے۔ ا ٓپ خود کو اس کے ساتھ چلتے پھرتے محسوس کرتے ہیں۔ اس کی باتیں سنتے ہیں ا ور اس کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوتے ہیں ،تاہم یہ سوانح ایک ایسے شخص کی تھی جو ایک صوفی کے طور پر جانے جاتے ہیں ،چنانچہ مجھے خدشہ تھا کہ کہیں اس میں بھی واصف صاحب کو ایک مافوق الفطرت شخصیت کے طور پر نہ پیش کیا گیا ہو، کیونکہ میں نے ایسی کچھ سوانح پڑھی ہیں جن میں صاحب سوانح کرامتوں کے بوجھ تلے دب کر رہ گئے تھے لیکن اعجاز الحق صاحب نے واصف صاحب کو اپنی اس تصنیف میں ویسا ہی پیش کیا ہے جیسے وہ تھے۔ علم و دانش کے پیکر، انسانوں سے محبت کرنے والے، ان کی رہنمائی کرنے والے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سے عشق کرنے والے۔ مجھے یاد ہے جب میں نے ایم اے او کالج میں انہیں مدعو کیا تو وہاں انہوں نے جو گفتگو کی اس میں دو باتیں مجھے خصوصاً بہت خوبصورت لگیں ۔ پہلی بات یہ کہ پاکستان نور ہے اور نور کو زوال نہیں، دوسری بات بھی بے پناہ خوبصورت تھی”خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہے“ میں نے اپنے اخبار کے کلرڈ ایڈیشن میں یہ گفتگو شائع کی جس کی شہ سرخی پاکستان کے نور ہونے کے حوالے ہی سے تھی۔
اعجاز الحق صاحب نے اپنی زیر نظر کتاب میں روایات کے حوالے سے کافی حد تک احتیاط برتی ہے، چنانچہ انہوں نے سنی سنائی باتیں نہیں کہیں ، اگر کہیں ان کا ذکر بھی کیا ہے تو اس کے ساتھ اپنا وضاحتی نوٹ لکھ دیا ہے ، تاہم اس کتاب میں مجھے دو تین باتیں کھٹکی ہیں جو دو واقعات کے حوالے سے ہیں، چونکہ اعجاز صاحب نے ان واقعات کا راوی خود واصف صاحب کو قرار دیا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اعجاز صاحب اپنے ذہن پر زور دیتے ہوئے یاد کرنے کی کوشش کریں کہ آیا وہ واقعہ ویسا ہی تھا جیسے انہوں نے بیان کیا ہے یا انہیں سننے یا سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔ ان میں سے ایک واقعہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی سے واصف صاحب کی ”ملاقات“ کا ہے اور دوسرے کا تعلق حضرت داتا گنج بخش سے ہے۔ ان واقعات کی تفصیل میں جانا مناسب نہیں ،کیونکہ بزرگان دین کی بابت کچھ لکھتے ہوئے بے حد احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ امید ہے اعجاز صاحب ان دو واقعات کے ضمن میں اپنی یاد داشت کو از سر نو بروئے کار لائیں گے۔ اسی طرح ایک قول اعجاز صاحب نے قبلہ واصف صاحب سے منسوب کیا ہے جو کچھ یوں ہے کہ ”میرے لئے کما کر کھانا حرام ہے اور تمہارے لئے مانگ کر کھانا جائز نہیں“ یہ قول دوسری وجوہات کے علاوہ اس لئے بھی محل نظر ہے کہ میں واصف صاحب کی اس جدوجہد کا چشم دید گواہ ہوں جو انہوں نے ایک طویل عرصے تک رزق حلال کے حصول کے لئے جاری رکھی بلکہ اعجاز صاحب نے خود بھی اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ اسی طرح کی ایک دو روایات ا ور بھی مجھے کھٹکی تھیں جو اس وقت یاد نہیں آرہی، تاہم ان باتوں کی نشاندہی ضروری تھی کہ اعجاز الحق صاحب نے زیر نظر کتاب کی تصنیف پر بے حد محنت کی ہے اور تحقیق کے ا صولوں کو حتی الامکان نظر انداز نہیں کیا ۔ وہ ان بے شمار لوگوں میں سے ایک ہیں جو اپنے مرشد واصف علی واصف سے محبت نہیں عشق کرتے ہیں اور یہ عشق لہو کی طرح ”فرمائش“ کی رگ رگ میں بھی رواں دواں نظر آتا ہے جس سے اس کتاب کی حیثیت ایک زندہ وجود کی مانند ہوگئی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ واصف علی واصف کے سدا بہار ذکر کے ساتھ ساتھ یہ کتاب خود بھی سدا بہار ہوگئی ہے اور یوں آنے والے محققین واصف صاحب کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے اسے نظر انداز نہیں کرسکیں گے۔
ایک بار پھر شکریہ
میری درخواست پر قارئین کی طرف سے میرے کالموں کے تراشے بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ یہ تعداد اتنی زیادہ ہے کہ فرداً فرداً سب کا شکریہ ادا کرنا ممکن نہیں، تاہم خصوصی شکریہ افتخار عالم صاحب ڈی ایچ اے کراچی کا کہ انہوں نے کتابوں کی فوٹو کاپی مجلہ کرکے مجھے ارسال کی جو ایک ضخیم کتاب کے برابر ہے۔ اب مجھے مزید کالم درکار نہیں ہیں۔ ایک بار پھر آپ سب دوستوں کا بہت بہت شکریہ