اخبار نویسوں کو رنجیدہ نہ ہونا چاہیے۔ عدلیہ سرفراز ہو گی، کالے کوٹوں کو بدنا م کرنے والے رُوسیاہ ہوں گے اور آزاد میڈیا انشا ء اللہ آنے والے زمانوں کے لیے وہ گیت لکھے گا ، جو دائم گایا جائے گا۔ ابدیت سفر کو ہے ، مسافر کو نہیں اور دوام صداقت کو ہے ، باطل کو نہیں ۔
سفّاک پرویز مشرف کا احتساب انشا ء اللہ ہو کر رہے گا، میڈیا انشا ء اللہ آزاد ہی رہے گا اور وہ وقت بھی آئے گا ، جب بد عنوانوں پر زمین تنگ ہونے لگے گی۔ شاہی خاندانوں میں سے ایک کے خلاف مقدمے کی تیاریاں ہیں ۔ نک سک سے درست دستاویزات موجود ہیں ۔ الیکشن کے میدان سے انہیں باہر نکلنا ہوگا کہ ثبوت مکمل ہیں ۔ جس نے جو بویا ہے ، وہ اسے کاٹنا ہوگا ، جن کے دامن صاف ہیں ، انہیں کیا فکر؛البتہ کون ہے، جس نے عدل کا پر چم اٹھایا ہو اور کردار کشی کا ہدف نہ بنا ہو۔ برادرم پرویز رشید خوب جانتے ہیں کہ ان کاجی جان سے احترام ہے مگر کیسے بھروسا کیا جائے کہ پنجاب حکومت اخبار نویسوں کی حفاظت کرے گی ۔ لاہور میں کیا ہوا اور اٹک میں کیا ہوا؟نون لیگ کے سب لوگوں کو انہوں نے اپنے جیسا کیوں سمجھ لیا۔ ان کے موقف کو من وعن مان لیا تھا، ان کے احترام میں سر جھکا دیا لیکن یہ کیونکر ہے کہ ایک بے وقار چھوٹی سی ویب سائٹ نے صحافیوں کی کردار کشی کا مشغلہ نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس کارِ خیر کا دائرہ اور بھی وسیع کر دیا۔ میرے پاس معلومات کا ایک انبار ہے مگر مکافاتِ عمل کے خدائی قانون اور مجبوری ہوئی توکچھ آنے والے دنوں کے لیے اٹھا رکھا ہے ۔ جناب پرویز رشید تحقیق فرمائیں کہ صرف پوٹھوہار میں قاف لیگ کے کتنے جرائم پیشہ ، نون لیگ میں گھس آئے ہیں اور کیسے کیسے کارنامے انجام دے رہے ہیں ۔ پٹواریوں اور پولیس افسروں کی تقرریاں کس طرح ہوتی ہیں۔ کیا یہ بات قابلِ فہم ہے کہ میاں شہباز شریف جو پنجابی محاورے کے مطابق اوپر کی زمین نیچے اور نیچے کی اوپر کردینے کی شہرت رکھتے ہیں ، ساکھ سے محروم ایک معمولی سی ویب سائٹ کو آزاد اخبار نویسوں کی کردار کشی سے روک نہیں سکتے ۔ ہماری بلا سے مت روکیں ۔ اگر کبھی ان سے ملاقات ہوئی تو چند باتیں عرض کر دوں گا۔ ذاتی جھگڑوں میں ہم کتنا وقت برباد کریں کہ قوم کا سفینہ گرداب میں ہے ۔ ذات نہیں بلکہ بلند اور برتر مقاصد ملحوظ رہنے چاہیئیں کہ حیات کا حسن تبھی فروغ پاتا ہے۔
کوئی قافلہ نہیں جو سُوئے منزل روانہ ہو اور اسے بھٹکانے کی کوشش نہ کی جائے ۔ ہر طرح کے لوگ ہوتے ہیں ۔ ذاتی مفادات کی گندگی میں آلودہ رہنے والے طفیلی کیڑے۔ کردار کی پستی کے طفیل ، مستقل طور پر مایوسی میں مبتلا رہنے والے ادنیٰ کردار، عظیم الشان قربانیوں کے طفیل سرخرو ہونے والے اہلِ ایثار کے حاسد اور کرائے کے کارندے ۔ کیا لوگ دیکھتے نہیں کہ گاہے علی احمد کرد ایسے بے ریا اور کھرے آدمی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی جاتی ہے اور پرویز مشرف ایسے مجرم کے حق میں دلائل تراشے جاتے ہیں ۔ کیسی شاندار دلیل ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ،جنرل مشرف کے خلاف کارروائی نہ ہونے دیں گے ۔ کیوں نہ ہونے دیں گے ؟ اپنے منصبی فرائض کی نوعیت کے سبب وہ اخباری بیان جاری نہیں کر سکتے ؛چنانچہ کوئی بھی چیز ان سے منسوب کر دی جاتی ہے ۔ وہ کبھی مشرف کی شبانہ محفلوں میں شریک نہیں تھے اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف مشرف کی سازشوں کا حصہ بننے سے انہوں نے گریز کیا۔ ان کے مزاج میں البتہ ایک وضع داری ہے ، جسے غلط معنی پہنانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
فوج اب نیک نامی بحال کرنے کی تڑپ رکھتی ہے اور قومی استحکام ، جس کی سب سے بڑی تمنا ہے کہ اس کے بنا فروغ تو کیا،ملک اور اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ سوات میں جو قربانی فوج نے دی ہے ، عسکری تاریخ میں ا س کی مثال مشکل سے ملے گی۔ جنگوں میں جوانوں اور افسروں کے جانی نقصان کا تناسب زیادہ سے زیادہ ایک اور تیس کا ہوتا ہے ۔ سوات میں یہ ایک اور سات ہوگیا۔ کیا یہ محض اتفاق ہے ؟کیا یہ عسکری قیادت کے غیر معمولی احساسِ ذمہ داری کے بغیر ہے کہ مالاکنڈ میں جو کامیابی برسوں کے فاصلے پر دکھائی دیتی تھی، وہ صرف تین ماہ میں حاصل کر لی گئی؛ اگرچہ استحکام کا انحصار سیاست دانوں ، عوام اور انتظامیہ پہ ہے ۔
یہ مفروضہ بنیادی طور پرغلط ہے کہ پاک فوج ایک متعصب برادری کی طرح بروئے کار آئے گی اور جنرل پرویز مشرف کو بچانے کے لئے اپنی نیک نامی داؤ پر لگا دے گی ۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کو ان کے نامزد کردہ یحییٰ خان نے بچایا تھا ، فوج نے نہیں اور یحییٰ خان کو ذوالفقار علی بھٹو نے ۔ جنرل محمد ضیاء الحق اور ان کے ساتھی ہوائی حادثے میں چلے گئے ؛ لہٰذا ان کے احتساب کا سوال کیاتھا۔ کیا میاں محمد نوازشریف نے بحریہ کے سربراہ کو بر طرف نہ کردیا تھا۔ کیا انہیں گرفتار نہ کیا گیا اور کیا انہیں سزا نہ سنائی گئی ۔ اپنے چیف آف آرمی سٹاف کے خلاف ان کا اقدام اس لئے نتیجہ خیز نہ ہو سکا کہ تب وہ نامقبول ہو چکے تھے ۔ بہت سے محاذ انہوں نے کھولے تھے ۔ صدر کے خلاف ،چیف جسٹس کے خلاف اور سب سے زیادہ آزاد پریس کے خلاف ۔ عدلیہ کو انہوں نے اپاہج کر دیا تھا وراپنے حریفوں کو تباہ کرنے پر تلے تھے ۔ پھر یہ کہ فوج کو زیرِ دام لانے کے لئے ایک ادنیٰ آدمی پر انہوں نے بھروسہ کیا اور ادنیٰ لوگ وہی کیا کرتے ہیں جو اس شخص نے کیا۔ فوج ہو، صحافت یا عدلیہ کرائے کے کارندے کسی کے نہیں ہوتے ۔ کیا شریف خاندان کو اس حقیقت کا پورا ادراک ہے اور کیا انہیں اندازہ ہے کہ آزاد پریس سیاسی جماعتوں کی جمہوری تشکیل پہ اصراراور کالی بھیڑوں کی نشان دہی کرتا ہے تو ان کی خیر خواہی میں ۔ شہباز شریف کی برطرفی کے ہنگام آزاد اخبار نویسوں نے خیرہ کن ترغیبات پر تھوک کر جمہوری سیاست کی حمایت کی اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے؛اگرچہ وہ گالی کا ہدف ہیں۔ پرویز مشرف کے مستقبل کا فیصلہ بہرحال فوجی قیادت اور انکل سام نہیں ، پاکستانی عوام کو کرنا ہے ، جس طرح چیف جسٹس کے باب میں انہوں نے کیا۔کمالِ جراَت اور پوری مستقل مزاجی کے ساتھ ۔ اعلیٰ قومی مقاصد کی جنگیں مایوسی نہیں ، امید کے ساتھ لڑی جاتی ہیں اور غیر ضروری مباحث سے گریز کیاجاتا ہے ۔ فوج کو بتایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہے کہ اسی میں وقار ، بہتری اور فروغ ہے ۔ ملک و ملت کا استحکام بھی اسی میں ہے ۔میاں محمد نواز شریف ، سیّد منور حسن ، عمران خان اور اخبار نویس اگر ڈٹے رہے تو جنرل پرویز مشرف اپنے انجام کو پہنچیں گے۔ جمعیت علماء اسلام اور اے این پی نے تائید کر دی ہے ۔ قاف لیگ متذبذب ہے اور بہانے تراش رہی ہے ۔ وہ ہوا کا رخ پہچانتے ہیں ۔ ایک معتوب اور بدنام آدمی کے لیے وہ خود کو داؤ پر نہ لگائیں گے ۔ ہمارے محترم دوست ریاض پیر زادہ جب یہ کہتے ہیں کہ ٹی وی کے بعض میزبان غیر ملکی ایجنٹ ہیں تو وہ جانتے ہیں کہ اس میں رتّی برابر صداقت بھی نہیں ۔ محض خوف اور اندیشوں سے یہ الزام پھوٹتا ہے کہ کہیں خوشہ چین بھی دھرنہ لئے جائیں ۔ جب پیر زادہ نے روپیہ نہیں بنایا اور وہ چوہدریوں کے کاسہ لیس نہیں تھے توپھر وہ خوف زدہ کیوں ہیں ؟ شہرت کی بلندیوں پر کسی شخص کے کردار کا کوئی پہلو پوشیدہ نہیں رہتا۔ ٹی وی میزبانوں میں اگر اس طرح کا کوئی آدمی ہوتا تو چھپا کیسے رہتا۔
یہ برسات کے دن ہیں او ربرسات میں فضا ہر طرح کے کیڑے مکوڑوں سے بھر جاتی ہے ۔ قومی زندگی میں جب تلاطم ہوتا ہے تو ہر قماش کے لوگ سامنے آتے ہیں ۔ گندے اور اتھلے پانیوں میں مچھلیاں پکڑ نے والے بھی ۔ تاریخ اپنے سینے میں کوئی راز بہت دن چھپا کرنہیں رکھتی اورقومیں جب بروئے کار آتی ہیں جیسے ہماری قوم آچکی تو فیصلہ ہو کر رہتا ہے ۔ مایوسی اور ژولیدہ فکری نہیں، امید ، اعتماد ، یکسوئی اور جدو جہد۔
اصول یہ ہے کہ آخر کار عدل ہی غالب آتا ہے خاص طور پر اس وقت جب منزل کی شناخت کر لی گئی ہو ، راستہ معلوم ہو اور آنکھیں کھلی۔ اخبار نویسوں کو رنجیدہ نہ ہونا چاہیے ۔ عدلیہ سرفراز ہو گی ، کالے کوٹوں کو بدنا م کرنے والے روسیاہ ہوں گے اور آزاد میڈیا انشا ء اللہ آنے والے زمانوں کے لیے وہ گیت لکھے گا ، جو دائم گایا جائے گا۔ ابدیت سفر کو ہے ، مسافر کو نہیں اور دوام صداقت کو ہے ، باطل کو نہیں ۔۔۔ اور فیصلے کا وقت قریب آلگا۔