آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍ذوالقعدہ1439ھ 20؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسلز (نیوز ڈیسک) یورپی یونین نے ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد صرف6ہزار تارکین وطن کو ترکی سے لاکر اپنے ہاں پناہ دی ہے۔ یہ تغاوت یونان میں سیاسی پناہ کی درخواستوں کو نمٹانے میں سست روی کا نتیجہ ہے۔ جرمن اخبار نے یورپی کمیشن کی جانب سے جاری کردہ نئے اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ21مارچ2016ء میں یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک معاہدے کے بعد اب تک تقریباً1200مہاجرین کو یونان سے ترکی واپس بھیجا گیا ہے۔ تقریباً اسی مدت میں ترکی سے6ہزار250 سے زائد شامی تارکین وطن کو یورپی بلاک کی مختلف ریاستوں میں منتقل کیا گیا ہے، جبکہ معاہدے کی رو سے ایک اور ایک کے تناسب سے تارکین وطن کو منتقل کیا جانا تھا۔ یعنی یونان سے ترکی واپس بھیجے جانے والے ہر مہاجر کے بدلے ترکی سے ایک شامی تارک وطن کو یورپی بلاک میں لیا جانا تھا۔ اس معاہدے کا مقصد یونان اور ترکی دونوں ممالک پر پڑنے والے بوجھ کو جہاں مہاجرین کی ریکارڈ آآمد ہوئی، برابر بانٹنا تھا۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ یونان میں مہاجرین کی پناہ کی درخواستوں پر عملدرآمد سست ہونے کی وجہ سے ترکی واپس بھیجے جانے والے تارین وطن کی تعداد بھی کم ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں