آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 7؍ربیع الثانی 1440ھ 15 ؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شادی شدہ جوڑوں کی اکثریت طے شدہ شادی کے حق میں ہے، جامعہ کراچی شعبہ ابلاغ عامہ کے تحت سروے

کراچی(سیدمحمدعسکری+ اسٹاف رپورٹر) کراچی میں رہاش پذیر شادی شدہ جوڑوں کی بڑی اکثریت طے شدہ شادی کے حق میں ہے اور جوائنٹ فیملی کے طور پر رہنا پسند کرتی ہے شادی کے بعد 65 فیصد مرد اپنے دوستوں کووقت دینا ختم کردیتے ہیں جبکہ 80 فیصد کا خیال ہے کہ شادی کے بعد بیوی اچھی طرح گھرچلاسکتی ہے ان خیالات کا اظہار شادی شدہ جوڑوں نے ایک سروے کے دوران کیا۔ یہ سروے شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی کے طلبہ کی جانب سے کیاگیا سروے کے لیے ان جوڑوں کا انتخاب کیا گیا جن کی شادی گذشتہ 15 سال کے دوران ہوئی ہیں۔ ارینج اور پسند کی شادی سے متعلق سوال پر70فیصد  نے ارینج شادی کو درست قرار دیا جبکہ 30 فیصد  نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا ان کے نزدیک پسند کی شادی بہتر ہے ایک سوال یہ کیا گیا کہ آپ کی بیوی آپ کتنی عزت کرتی ہے اور آپ کی باتوں پر کتنا عمل کرتی ہےکے جواب میں 100 فیصد  نے کہاکہ باتوں پر عمل بھی اورعزت بھی کرتی ہے۔ ایک سوال جب بچوں کی پرورش سے متعلق کیا کہ پرورش کی ذمے داری زیادہ کس کی ہوتی ہے تو 60فیصد جوڑوں نے کہاکہ عورت کی جبکہ 30 فیصد نے کہاں مرد کی اور 10 فیصد نے کہاکہ دونوں کی ذمے داری ہے جوائنٹ فیملی سے متعلق سوال پر 75 فیصد جوڑوں نے کہاکہ جوائنٹ فیملی جبکہ 25 فیصد نے علیحدہ رہنے کو ترجیحی دی۔ ایک سوال یہ کیا گیا کہ گھر کا خرچ بیوی اچھا

چلاسکتی ہے یا مردتو80فیصد نے کہاکہ بیوی 20 فیصد نے کہامرد۔ ایک سوال مردوں سے یہ کہاگیا کہ شادی کے بعد آپ نے اپنی ذمے داریوں میں سے ایم ذے داری کون سے سمجھی تو ان کا جواب تھا کہ بیوی اور بچوں کی ذمے داری۔ ایک سوال اور مردوں سے کیا گیا کہ اپنے شادی کے بعددوستوں کو وقت دینا ختم کیا یا نہیں۔ تو اس پر 65 فیصد لوگوں کا کہناتھا ختم کیا جبکہ 35فیصد لوگوں نے کہاکہ وقت دینا ختم نہیں کیا۔ ایک  اہم سوال یہ بھی کیا گیا کہ شادی کے بعد ساس اور نند کا کیاکردار ہونا چاہیئے تو 100 فیصد لوگوں کا یہ کہنا تھا ساس کو اپنی بہو کو بیٹی اور نند کو اپنی بھابھی کو بہن کی طرح سمجھنا چاہیئے اور اس کو ساتھ لے کر چلنا چاہیئے ایک یہ سوال خواتین سے کیا گیا کہ گھر بنانے کے لیے عورتوں کو کتنی قربانیاں دینا پڑھتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ بہت زیادہ قربانیاں۔   مرد کا دل جتنے سے متعلق سوال پر کہ کے لیےعورتوں کو اس کے لئے کیا کرناچاہیئے تو70فیصد نے کہاکہ محبت سے پیش آناچاہیئے۔جبکہ 15فیصد نے کہاکہ ان کو ہر خواہش پوری کرنا چاہیئے جبکہ 15 فیصد نے کہاکہ ان کے پسند کےکھانے کھلانے چاہیئے۔ آپس میں لڑائی  سے متعلق سوال پر کہ پہلے کون مانتا ہے 50فیصد نے کہاکہ بیوی جبکہ 30 فیصد نے کہاکہ مرد اور 20فیصد نے کہاکہ کوئی بھی منالیتا ہے ایک سوال یہ بھی خواتین سے کیا گیا کہ آپ کے شوہر آپ کو کتنی بار باہر کھانا کھلانے لیکرجاتے ہیں تو50فیصد نے کہاکہ 2 سے 3 بار 40 فیصد نے کہا1 بار 5فیصد نے کہا4 بار جبکہ 5فیصد نے کہاکہ ایک بار بھی نہیں آخر میں یہ سوال کیا گیا کہ آپ کے نزدیک شادی کس رشتے کا نام ہے توسب کا جواب ایک ہی تھا بس ان کے انداز الگ تھے ان کا کہناتھا کہ شادی محبت کے رشتے کا نام ہے بھروسے کا نام ہے اور آپس میں سب کو جوڑنے کا ۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں