آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جو کچھ کیا گیا برا کیا، اور اس میں بہت کچھ شامل ہے، نیب کا قانون ختم کرنا حال ہی کا ایک واقعہ ہے، افسوسناک اور قطعی ناقابل تعریف۔ اچھی حکمرانی کیا ہے؟ بدعنوانی کا خاتمہ اور حکمرانوں کا اس میں ملوث نہ ہونا۔ یہ نہیں ہو رہا، سندھ میں تو بالکل نہیں، کافی عرصے سے۔ اور جو کچھ ہو رہا ہے، کسی سے پوشیدہ نہیں، یہ ایک کھلا راز ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے یہاں کیا ہو رہا ہے۔ حکومت کون چلا رہا ہے، زمینیں کون الاٹ کررہا ہے، کس کو دی جارہی ہیں اور اس کا فائدہ کون اٹھا رہا ہے۔ پورے صوبے میں کہیں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں ہو رہا۔ ترقیاتی کام ہوں یا تقرریاں، ہر جگہ بے قاعدگی ہے، اور اس کی راہ میں آنے والے، خواہ افراد ہوں یا قانون، حکمرانوں کو پسند نہیں آتے۔ سندھ کے انسپکٹر جنرل کا معاملہ ابھی تک عدالت میں لٹکا ہوا ہے۔ اپیکس کمیٹی میں چیف آف آرمی اسٹاف نے اگر کہا کہ سندھ پولیس کی اندرونی کارکردگی بہتر کی جائے اور اہلیت کی بنیاد پر بھرتیاں کی جائیں، تو یہ ایک رسمی سی بات نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر ہوتا رہتا ہے، کہا جاتا رہتا ہے۔ اس کے پیچھے وہ حقائق ہیں جن سے سی او اے ایس پوری طرح آگاہ ہوں گے اور انہیں اچھی طرح علم ہے کہ یہاں ہو کیا رہا ہے، حکومت آئی جی کو ہٹانے پر بضد کیوں ہے، اور بھرتیاں کس طرح ہورہی ہیں۔ اپیکس کمیٹی کا اجلاس

کوئی چھ ماہ بعد ہوا، اور اس بار بری فوج کے سربراہ کی قیادت میں۔ ماضی میں کم ہی ایسا ہوا ہے کہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں فوج کے سربراہ شریک ہوں اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل بھی۔ فوج کی ایک پریس ریلیز کے مطابق سی او اے ایس نے ہدایت کی ہے کہ عوامی نمائندوں کا احتساب کیا جائے۔ اس کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس لئے کہ بدھ کو دن میں اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے پہلے یا تقریباً اُسی وقت، سندھ حکومت نے نیب کا قانون ختم کرنے کا بل صوبائی اسمبلی سے منظور کروا لیا تھا، اپنی اکثریت کے زور پر۔ نیب کے اس قانون میں بہت سی خامیاں ہوں گی، یہ بنا ہی ایک آمر کے دور میں تھا۔ مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسے اچانک ختم کردیا جائے۔ اگر اس میں خامیاں ہیں تو انہیں دور کیا جا سکتا ہے، اور کیا جانا چاہئے۔ لیکن یوں ختم کرنا بہت سے شبہات کو جنم دیتا ہے، جنم کیا دیتا ہے، سب کو پتا ہے کہ کن لوگوں کو بچانے کے لئے اس قانون کو ختم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ قانون تو شاید ختم نہ ہو، ہاں وفاق اور صوبے میں کچھ کشیدگی مزیدبڑھ جانے کا خطرہ ضرور پیدا ہو گیا ہے۔ نیب کا یہ قانون وفاقی قانون ہے اور صوبے کسی بھی ایسے قانون کو ختم نہیں کرسکتے جن کا اطلاق تمام صوبوں میں ہوتا ہو۔
اس صوبے کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ یہاں بدعنوانی کا خاتمہ ہی نہیں ہو پاتا۔ خاتمہ تو خیر کیا ہوگا، جس طرح اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اس کی مثالیں کم ہی ملیں گی۔ جس جانب دیکھیں، لوٹ مار کا سلسلہ جاری ہے بلکہ اس کی سرپرستی بھی کی جاتی ہے۔ سارے حقائق تو شاید ہی کبھی سامنے لائے جا سکیں، مگر ہر اقدام کے پیچھے ایک کہانی ہے، مکروہ۔ قانون کو ایک کھلواڑ بنادیا گیا ہے۔ اسمبلی جس پر قانون کی تشکیل اور اس کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، خود قانون سے مسلسل کھیل رہی ہے۔ بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی مگر آخر نیب کے قانون کو ختم کرنے کا کیا جواز ہے، اور اب ہی کیوں؟ پیپلز پارٹی پانچ برس تک مرکز اور صوبے میں برسرِ اقتدار رہی، صوبہ سندھ میں تو اب بھی ہے، گزشتہ نو برس سے۔ مگر اسے نیب کا قانون منسوخ کرنے کا خیال اُس وقت نہیں آیا۔ اب ایسا کیا ہو گیاہے کہ ایک دم حکمران جماعت کو نیب کا قانون ختم کرنے کی جلدی ہوئی۔ آخر کیوں؟ ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ ایسے بہت سے لوگوں کے خلاف نیب کی تحقیقات ہورہی ہیں جن پر زمینوں پر قبضوں کے الزامات ہیں، اور ان کے بہت قریبی تعلقات پارٹی کے کرتا دھرتا افراد سے ہیں۔ یہ بڑے لوگ ہیں، بدقسمتی سے ان کے خلاف ذرائع ابلاغ بھی اکثر خاموش رہتے ہیں۔ ایک ٹی وی پروگرام میں سندھ نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے اس جانب اشارہ بھی کیا کہ اگر زمینوں پر قبضے ہوتے رہیں گے تو یہ نہیں ہوسکتا کہ ان بد عنوان لوگوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے۔ دوسری و جوہات میں یہ بات بھی شامل ہے کہ سندھ حکومت کے بہت سے اہلکاروں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ یہ خود کتنی حیرانی کی بات ہے کہ صوبائی وزیر قانون ایک معاملے میں عدالت سے ضمانت کرواکر، اسمبلی میں آئے اور نیب کی منسوخی کے قانون کا بل پیش کردیا؟ یا للعجب۔ ایسا پہلے شاید ہی کبھی ہوا ہو۔ مگر ایسا بھی شاید ہی کبھی ہوا ہو کہ موجودہ اور سابق وزیروں سمیت پانچ سو افراد کے خلاف بد عنوانی کی تحقیقات ہورہی ہوں۔ اگر صرف ارکان کے بارے میں بات کی جائے تو 54 ایسے ارکان ہیں جن کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ بدعنوانی میں ملوث ہیں۔
معاملات، خاص طور پر حکومتی معاملات اس طرح نہیں چل سکتے، نہیں چلائے جاسکتے۔ پیپلز پارٹی شدید تضادات کا شکار ہے۔ ایک طرف تو وہ صوبائی خودمختاری کی بات کرتی ہے، اٹھارویں ترمیم کا حوالہ دیتے اس کے لیڈروں کی زبان نہیں تھکتی۔ دوسری جانب سارے اختیارات صوبائی حکومت خود اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔ سندھ میں ایک بلڈنگ کنٹرول آرڈیننس ہوا کرتا تھا۔ اس کے مطابق ہر شہر کی اپنی ایک بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ہوتی تھی۔ اس قانون میں ترمیم کرکے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنادی گئی، یعنی، سارے اختیارات صوبائی حکومت کے پاس آگئے، خواہ کام سکھر کا ہو یا کراچی کا،ہو گا کراچی میں اور یہاں سندھ حکومت کی سرپرستی میں ایسے لوگ تعینات کئے گئے جنہوں نے چند برسوں میں کروڑوں نہیں اربوں روپے بنائے۔ سب نے اس شخص کا نام سن لیا ہے جو فلاں کاکا کے نام سے مشہور تھا اور بدعنوانی کے حوالے سے بہت بدنام۔ وہ کہاں گیا؟ کیا سندھ حکومت نے اس کے خلاف کوئی کارروائی کی؟ کچھ بھی نہیں۔ اس کا نقصان کیا ہوا؟ کئی نقصان ہوئے۔ اور یہ صرف کراچی میں نہیں ہوئے، پورے سندھ میں ہوئے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ اگر کراچی شہر میں بلند و بالا عمارتوں کے جنگل اُگ آئے ہیں تو کون اس کا ذمہ دار ہے؟ کس نے نقشے منظور کئے؟ اور کس نے اس طرف توجہ نہیں دی؟ ایسا ہی کئی اور شہروں میں بھی ہوا۔ اونچی اونچی عمارتیںتعمیر ہونے دی گئیں، اور اپنی جیبیں بھری گئیں۔ اس طرح جو کچھ ہوا اس میں ایک بڑی خرابی یہ بھی ہے کہ ان علاقوں میں شہری سہولتوں، مثلاً، پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کی سہولتوں پر بہت زیادہ دبائو بڑھ گیا۔ زمین کے جس ٹکڑے پر پہلے آٹھ دس لوگوں کا ایک خاندان آباد تھا، اب وہاں پچاس ساٹھ، بلکہ اس سے بھی زیادہ، خاندان رہ رہے ہیں۔ انہیں پانی چاہئے اور نکاسی آب کی سہولت۔ وہ کون فراہم کرے گا؟ کیسے فراہم کرے گا؟ یہ کسی نے نہیں سوچا۔ یہ خراب حکمرانی کی بہت سی مثالوں میں سے ایک ہے۔
دوسری طرف یہ کہنا کہ نیب کی جگہ انسداد بد عنوانی کا محکمہ، یا اینٹی کرپشن ڈپارٹمنٹ کام کرے گا، کافی لوگوں کو مطمئن نہیں کر پارہا۔ یہ محکمہ ہمیشہ سے بدنام رہا ہے اور اس میں متعین کئی افراد پر بدعنوانیوں میں ملوث ہونے کا الزام تھا اور ہے۔ آج بھی اس محکمہ کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر کے خلاف ایسا ہی ایک مقدمہ موجود ہے۔ سندھ حکومت اگر واقعی بد عنوانی کا خاتمہ چاہتی ہے تو چند ایک سوالوں کا جواب دیدے۔ اب تک بدعنوان لوگوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ زمینوں کی الاٹمنٹ میں ہونے والی گڑبڑ کیوں ختم نہیں جاسکی؟ میگا منصوبوں میں خوردبرد پر قابو کیوں نہیں پایا جاسکا؟ اور اگر یہ اور ایسا ہی بہت کچھ ماضی میں نہیں ہوسکا تو اب یہ یقین کیسے کیا جائے کہ آئندہ کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی؟ جبکہ اب توآپ نیب بھی ختم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں