حقانی صاحب ان لوگوں میں سے تھے جوصحیح معنوں میں تمام تر سنجیدگی کے ساتھ ملکی مستقبل بارے فکرمند رہتے اور معاشرے کے انحطاط پرکڑھتے سو اس حوالہ سے دیکھیں توان کا رخصت ہونا ہمارے لئے نقصان دہ لیکن خود ان کے لئے باعث آسودگی ہوگا کہ اس اذیت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نجات پا گئے جس میں آدمی روز جیتا اور روزمرتا ہے۔ حقانی صاحب سے پہلی ملاقات اپنی تمام تر جزئیات کے ساتھ مجھے آج بھی یادہے۔ آدھ پون گھنٹے کی گپ شپ کے بعداچانک موضوع بدل کر مسکراتے ہوئے بولے… ”اس ملاقات سے پہلے میں آپ کو خاصا غصیل، مردم بیزار، چڑچڑا اور ٹینس آدمی سمجھتا تھا لیکن آپ تو بہت ریلیکسڈ اور خوشگوار ہیں۔“ بعدازاں اس قسم کی رائے کااظہار انہوں نے میرے کالموں کے مجموعہ کے فلیپ پر بھی کیا۔ میں کبھی کبھی ”کالے قول“ کے عنوان سے سنگل لائنز پرمشتمل کالم لکھا کرتا ہوں جو حقانی صاحب کو بہت پسند تھے۔ آپ نے کئی بارکہاکہ مجھے ”کالے قول“ زیادہ تسلسل کے ساتھ لکھنے چاہئیں اور میں نے ہمیشہ یہی عرض کیا کہ جی تو میرا بھی چاہتا ہے کہ ”کالے قول“ میں زیادہ وقفہ نہ آنے پائے لیکن یہ مرے بس میں نہیں کیونکہ ان کا تعلق ”آمد“ ٹائپ شے سے ہے۔
آج اس روشن دماغ اور روشن دل شخص کی یاد میں پھر کچھ کالے قول اس اک دعا کے ساتھ کہ…
”آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے“
……oooo……
انسان مرغوب نہیں ممنوع کی طرف کشش رکھتا ہے۔
……oooo……
جس کا اپنا انجن خراب ہے وہ ریلوے کاوزیر، جو تاجر ہے وزارت دفاع چلا رہا ہے اور گدی نشین امور ِ خارجہ کاذمہ دارہے۔
……oooo……
آٹے دال کے لئے دھکے لگیں گے تو دوپٹے سروں سے ضرور پھسلیں گے۔
……oooo……
امن کانوبل پرائز حاصل کرنے کے لئے ایک نسخہ یہ بھی ہے کہ ساری دنیا کا امن تہہ و بالا کردو۔
……oooo……
کبھی ماں کی دعا جنت کی ہوا تھی، اب مہنگائی کی وبا نے اسے جہنم کی ہوا میں تحلیل کردیا ہے۔
……oooo……
تسبیح اور گندم کے دانوں میں کیا فرق ہے۔
……oooo……
ننانوے فیصد انتخابی امیدواروں کے نشان کچھ ایسے ہونا ضروری ہے… بوتل، قینچی، استرا، نقاب، چھرا وغیرہ (الیکشن کمیشن غور فرمائے)
……oooo……
کیا ہمیں اس بات کی خبر ہے کہ ہماری پیدا کردہ آلودگی کے باعث بہت سے پرندے بانجھ ہو کر انڈے دینے سے محروم ہوچکے، شہد کی مکھیاں چھتوں کا راستوں بھولنے کے مرض میں مبتلا ہیں اور تتلیوں کی افزائش کب کی رک چکی؟
……oooo……
جو ٹانگے اور ریڑھیاں چلانے کے قابل نہیں… انہیں پورا ملک چلانے کی اجازت دینے کا نام ہے جمہوریت۔ آؤ جمہوریت کے استحکام میں اپنا اپنا حصہ ڈالیں۔
……oooo……
کوئی کہتا ہے … سب سے پہلے پاکستان
کسی کا خیال ہے… سب کے بعد پاکستان
لیکن بیچارے پاکستانی نہ پہلے نہ بعد میں۔ نہ 3میں نہ 13میں۔
……oooo……
سوائن فلو کا مارا سیاسی سسٹم دھند کی سرنگ میں داخل ہوچکا اور یہ دھند اندھا دھند گہری ہوتی جارہی ہے۔
……oooo……
اٹھارہ سو کے قریب مردہ ضمیر
اٹھارہ کروڑ کے لگ بھگ زندہ لاشیں۔
……oooo……
کہیں استخارہ کہیں گزارہ کہیں بالکل بے سہارا۔
……oooo……
جنہیں مدتوں سے مال کھاتے دیکھ رہے ہیں …کاش کبھی انہیں مار کھاتے بھی دیکھ سکیں۔
……oooo……
مچھر انجکشن کا موجود ہے۔
……oooo……
گلہری سے بہتر کیٹ واک کون کرسکتا ہے؟
……oooo……
کمہار کو تیرنا نہیں آتا لیکن اس کا بنایا ہوا گھڑا تیراکی جانتا ہے۔
……oooo……
کہاں سے آئے؟ کوئی کچھ نہیں جانتا
کہا ں جانا ہے؟ کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا
تو ان دو کے درمیان معمولی سے وقفہ میں جانکاری کے لئے اتنی بے چینی کتنی جائز ہے۔