• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خود فریبی....معیشت کی جھلکیاں…ڈاکٹرشاہد حسن صدیقی

گزشتہ چند برسوں سے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ میں اپنی بساط سے بڑھ کر حصہ لینے، بدعنوانی، ٹیکس کی چوری، نااہلی اور شاہانہ اخراجات میں اضافہ ہونے اور وڈیرہ شاہی کلچر پر مبنی حکومت و اسٹیٹ بینک کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف معیشت پر منفی اثراد مرتب ہورہے ہیں بلکہ پاکستان کے مجموعی قرضوں کے حجم میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، ان قرضوں کے ضمن میں چند اعداد و شمار پیش ہیں:۔
(1)آزادی کے 51 برس بعد 30 جون 1998ء کو وطن عزیز پر ملکی و بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 2700/ارب روپے تھا۔
(2) اس کے 10برس بعد 30 جون 2008ء کو ان قرضوں کا حجم 6400/ارب روپے ہوگیا جو کہ 3700/ارب روپے کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے یعنی 370/ارب روپے سالانہ کا اضافہ۔
(3) جولائی 2008ء سے دسمبر 2009ء کے 18ماہ میں جو کہ موجودہ حکومت کا دور ہے ان قرضوں کا حجم تقریباً 9000/ارب روپے ہو گیا یعنی اس مدت میں 2600/ارب روپے کا اضافہ ہوا جو کہ تقریباً 1750/ارب روپے سالانہ بنتا ہے۔
(4) 30 جون 1998ء کو ہر پاکستانی 20673 روپے کا مقروض تھا جبکہ اب ہر پاکستانی 54878 روپے کا مقروض ہے۔
گزشتہ 18 ماہ میں پاکستان کے قرضوں کے حجم میں جس تیز رفتاری سے اضافہ ہوا ہے اس کی پاکستان کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ہے۔ یہ صورتحال اس لئے مزید تشویشناک ہے کہ اس مدت میں (i) حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں زبردست کمی کی ہے۔ (ii) معیشت کی شرح نمو مایوس کن حد تک کم رہی ہے (iii) برآمدات میں زبردست کمی ہوئی ۔ (iv) ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر تیزی سے گری ہے۔ (v) ٹیکس اور مجموعی ملکی پیداوار کا تناسب گرا ہے (vi) بہت سے صنعتی ادارے بند ہوئے ہیں۔ اس وقت ملک میں 1332 صنعتی یونٹ بند پڑے ہیں (vii) حکومت کے شاہانہ اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ (viii) بیرونی سرمایہ کاری کے حجم میں کمی ہوئی ہے۔ (ix) حکومتی شعبوں کے کچھ اداروں نے تاریخی حجم کے نقصانات دکھائے ہیں اور (x) اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں 17 کروڑ عوام حکومت سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ گزشتہ ڈیڑھ برس میں پاکستان کے مجموعی قرضوں کے حجم میں 2600/ارب روپے کا جو اضافہ ہوا ہے اس سے انہیں کیا فائدہ ملا اور آخر اس بات کا کیا جواز ہے کہ ان قرضوں کو مع سود عوام کے ٹیکسوں سے ہونے والی آمدنی سے ادا کیا جائے۔
یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستان کی معیشت نہ صرف روبہ زوال ہے بلکہ اس کو درپیش خطرات بڑھ رہے ہیں یہ امر افسوسناک ہے کہ موجودہ حکمراں بشمول وزیراعظم معیشت میں بہتری لانے کے دعوے کرتے ہوئے وزارت خزانہ کی کارکردگی کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں۔ یہ مبارک سلامت اور داد کے ڈونگرے خود فریبی کے مترادف ہیں اور فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے دور کی یاد تازہ کرتے ہیں جب 2005ء میں اقتصادی معجزہ دکھانے کے دعوے کئے جا رہے تھے اور وطن عزیز میں عموماً ان دعوؤں کو درست تسلیم کیا جا رہا تھا البتہ یہ کہا جا رہا تھا کہ اس ترقی کے ثمرات عام آدمی تک نہیں پہنچ رہے ہم نے بہرحال 2005ء سے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ یہ ترقی معکوس اور منفی ترقی ہے۔ ہم نے یہ بھی عرض کیا تھا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان کو معاشی بحران کا سامنا ہوگا، روپے کی قدر گرے گی اور پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل میں پھنس جائے گا۔ یہ خدشات درست ثابت ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے اب پھر مالی سال 2012ء میں پاکستان معاشی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ۔این ایف سی ایوارڈ کا اجراء سیاسی بنیادوں پر ہوا ہے اور وقت ثابت کرے گا کہ یہ معاشی کامیابی نہیں ہے اس میں صوبوں کو حقیقی معنوں میں خود مختاری نہیں دی جا رہی اور نہ ہی قانون سازی کی متوازی فہرست کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی قطعی بے معنی اور غیر موثر ہو گئی ہے۔ کرائے کے بجلی گھر جن متنازع اور غیر شفاف طریقوں سے لئے جا رہے ہیں ان سے نہ صرف 2010ء میں بھی بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم نہیں ہوگی بلکہ معیشت اور عام آدمی پر بھی تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر معیشت مالی سال 2010-11ء میں ہی سخت مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔
چین اور بھارت حیرت انگیز تیز رفتاری سے معاشی ترقی کے منازل طے کر رہے ہیں اس سال بھارت کی معیشت کی شرح نمو 7 فیصد چین کی 10 فیصد اور پاکستان کی 2.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ امریکہ نے اپنے استعماری مقاصد کے حصول کے لئے دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر جو جنگ خطے پر مسلط کی ہوئی ہے اس سے نہ صرف امریکہ کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں بلکہ خود امریکی صدر اوبامہ کی مقبولیت میں بھی کمی ہو رہی ہے امریکی صدر نے چند روز قبل اسٹیٹ آف یونین سے خطاب میں جو باتیں کہی ہیں ان کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے اپنے استعماری مقاصد کو برقرار رکھتے ہوئے معیشت کو بحران سے نکالنے، معیشت کی شرح نمو تیز کرنے اور عام آدمی کی مشکلات کم کرنے کے لئے حکمت عملی مرتب کی ہے۔ امریکی صدر نے واضح طور سے کہا ہے کہ 2010ء میں ان کی سب سے اہم ترجیح لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے مقابلے میں وطن عزیز میں پالیسیوں کا محور دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والے جنگ میں غیرضروری جوش و خروش سے حصہ لینا رہا ہے تاکہ اقتدار کے لئے امریکی آشیرباد حاصل رہے۔ وزیر خزانہ نے 27 اور 28 جنوری 2010ء کو کہا کہ سیکورٹی اخراجات کی مد میں بجٹ میں مختص کی گئی رقم کے مقابلے میں 170/ارب روپے زیادہ خرچ ہو رہے ہیں چنانچہ ترقیاتی اخراجات کی مد میں مختص کی گئی رقم کے مقابلے میں 150/ارب روپے کی کمی کی جائے گی۔ ترقیاتی اخراجات کی مد میں مختص کی گئی رقم کو سیکورٹی اخراجات کی مد میں استعمال کرنا تشویشناک ہے اس طرح پاکستان کو ترقی یافتہ فلاحی مملکت بنانے کے بجائے ایک سیکیورٹی ریاست بنایا جا رہا ہے۔ وطن عزیز میں خواندگی کی شرح انتہائی کم ہے مگر سندھ کے وزیر داخلہ نے 29 جنوری 2010ء کو کہا کہ ملک کے ہر شہری کو ایک لائسنس یافتہ ہتھیار ملنا چاہئے گویا ہمارے پاس قلم کے بجائے بندوق ہو۔دہشت گردی کے خاتمے کے نام پر لڑی جانے والی جنگ سے پاکستان کی معیشت کو 42/ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں گزشتہ ماہ لیکچر دیتے ہوئے ہم نے ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ اچھی حکمرانی نہ ہونے سے پاکستان کی معیشت کو 1800/ ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ (جنگ 22 جنوری 2010ء) یہ امر افسوسناک ہے کہ کرپشن پر قابو پانے، ٹیکس کی چوری روکنے، ٹیکسوں کے نظام کو منصفانہ بنانے اور لوٹی ہوئی دولت کو قومی خزانے میں واپس لانے کے ضمن میں حکومت کا سیاسی عزم نظر نہیں آتا۔ اقتدار میں آنے کے صرف 17 دن بعد صدر زرداری نے فرینڈز آف پاکستان کے ساتھ 26 ستمبر 2008ء کو جو سودا کیا تھا اس کے تباہ کن اثرات لمبے عرصے تک محیط رہیں گے۔ موجودہ حکومت کا کہنا ہے کہ ٹیکسوں کی وصولی بڑھانے میں پارلیمنٹ رکاوٹ ہے یہ تمام حقائق جمہوریت کے مستقبل کیلئے بھی قطعی حوصلہ افزا نہیں ہیں۔


تازہ ترین