• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ازکارِ رفتہ، ازکارِ رفتہ...ناتمام…ہارون الرشید

ازکار رفتہ، ازکار رفتہ۔ ان کا دور تمام ہوا۔ کوئی دن جاتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی افق پر نئے لوگ طلوع ہوں گے
خوشامدیوں کے جلو، میں جعلی ڈگریاں اور جعلی سیاست، ان سب کا احتساب ہونا ہے، ان سب کو برباد ہونا ہے۔ اگر یہ بات پہلے سمجھ میں آئی نہ تھی تو اب آجانی چاہئے۔ نوازشریف کا انحراف سان گمان تک میں نہ تھا۔ کہا جاتا تھا کہ چھوٹی پارٹیاں خرابی کریں گی۔ ایسے مطالبات وہ پیش کریں گے کہ تسلیم نہ کئے جا سکیں۔ صدر زرداری سے بدگمانی اور زیادہ تھی۔ سابق سینیٹر طارق چوہدری نے کہا: زرداری کا منصوبہ یہ تھا کہ ایوان میں اٹھارویں ترمیم پیش کرنے کا وعدہ کر کے کام چلا لیا جائے۔ اگر نہیں تو ترمیم کا مسودہ پیش کر کے، صدارتی خطاب کے لئے ماحول سازگار بنا لیا جائے اور بعد میں بہانہ بازی۔ کارنامہ مگر نوازشریف نے انجام دیا اور ایساکہ کسی نے دیا نہ ہوگا۔
یوں کودا ترے گھر میں کوئی دھم سے نہ ہو گا
وہ کام کیا ہم نے جو رستم سے نہ ہو گا
نجومی کہتے تھے اور ہم مانتے نہیں تھے کہ نوازشریف کی قسمت ہار گئی ہے۔ اب وہ اقتدار میں نہ آ سکیں گے۔ کل شب لیکن درویش نے کہا کہ اس آدمی پر دروازہ بند ہو گیا۔ وہ امتحان میں تھا، اس کی حکومت چھن گئی تھی، اس کی جان خطرے میں تھی اور خاندان بھی۔ اللہ نے اپنے گھر میں اسے پناہ دے دی لیکن وہ سیکھنے پر آمادہ ہی نہیں۔ اپنی غلطیوں پر غور کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ تاریکی اس شخص کی زندگی میں بڑھتی جا رہی ہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ وہ زیادہ عاقبت نااندیش ہے۔ آدمیوں اور گروہوں کو برباد کرنے کے لئے آسمانوں سے فرشتے نہیں اترتے۔ جو راہ راست کوٹھکرا دیں، ان کے فہم کا چراغ بجھ جاتا ہے۔ پھروہ وقت آتا ہے، جب نوشتہء دیوار بھی انہیں دکھائی نہیں دیتا۔ وحشت ان پر غالب آ جاتی ہے اور تباہی کے راستے پر وہ بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
نقطہ نظر کا مسئلہ نہیں ہے، صوبہ سرحد کے نام اور ججوں کی تقرری کے سلسلے میں دوسروں کے تحفظات بھی تقریباً وہی ہیں۔ جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر خورشید احمد کا اختلافی نوٹ نون لیگ کے قائد سے مختلف نہیں لیکن میاں صاحب موصوف کا طریقے کار افسوسناک ہے۔ بالکل ہی غلط وقت کا انتخاب انہوں نے کیا اور ساری قوم کو صدمہ پہنچایا۔ سیدنا ابوبکر صدیق نے کہا تھا: ایک عبادت شب کو قبول ہوتی ہے مگر دن میں نہیں اور ایک عبادت دن میں قبول ہوتی ہے مگر شب میں نہیں۔ اختلاف کرنا تھا تو آئینی کمیٹی میں کیا ہوتا۔ کامران خان کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے تسلیم کیا کہ سینیٹر اسحق ڈار نے انہیں باخبر رکھااور مسلسل ملاقات کرتے رہے۔ ن لیگ آئینی کمیٹی کے لئے اسحق ڈار سے بہتر انتخاب نہ کر سکتی تھی۔ وہ خوش کلام اور نرم گفتار ہیں۔ اپنے ایک اقدام سے نواز نے سینیٹر صاحب کو ہراساں کر دیا۔ انہی کو کیا، پوری جماعت کو۔ یہ اقدام انہیں واپس لینا چاہئے اور قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو ان میں اور زرداری صاحب میں کوئی فرق نہ ہو گا۔ درحقیقت پہلے بھی زیادہ نہیں۔ اس کے سوا کہ زرداری بھٹو کے وارث ہیں اور نوازشریف مسلم لیگ کے نام پر سیاست کر رہے ہیں جو قائداعظم اور قیام پاکستان سے منسوب ہے۔ مالی بے قاعدگیوں اور من مانیوں میں وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں اور چوہدری پرویز الٰہی ان سے سوا۔ گجرات میں ان کے ووٹ 2008ء کے مقابلے میں اڑھائی گنا ہو گئے۔ ان کا امیدوار بہتر تھا اور ذوالفقار چیمہ ڈی آئی جی، سیاستدان جنہیں استعمال نہیں کرسکتے۔ انہوں نے گجرات کے تعصب کو بے دردی سے استعمال کیا۔ نون لیگ کے ووٹ گرے اور اتنے گرے کہ احمد مختار کی مدد کے بغیر، شاید وہ ہار ہی جاتی۔ پرویز الٰہی اس کے باوجود چیخ و پکار میں مصروف ہیں۔ ادھر آصف علی زرداری ہیں، وہ جو وعدہ نبھانے کے مطالبے پر حیران ہوا کرتے ہیں۔ کیا یہ جینے کے لچھن ہیں؟ قوم کب تک اس قیادت کو برداشت کرے گی؟۔
نوازشریف اور ان کی نون لیگ اگر صوبہ سرحد کا ایسا نام رکھنے کی آرزومند تھی، جو پشتونوں سمیت، سب کے لئے قابل قبول ہو تو بروقت اسے فیصلہ کرناچاہئے تھا۔ غالباً ”خیبر“ ہی وہ نام تھا، جس پر اتفاق رائے کا حصول ممکن ہوتا۔ ہزارہ اور ہندکو والے مانتے، سرائیکی بولنے والے تسلیم کرتے۔ ”خیبر“ کا لفظ امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ اور خود سرکار کی یاد دلاتا ہے۔ چودہ سو برس ہوتے ہیں کہ ایک سحر، آنجناب وہاں اترے۔ یہودی بستیوں پر نگاہ کی اور ارشاد کیا ”بری ہے ڈرائے گی کیوں سحر“
”خیبر“ پشتون کردار کو اجاگر کرتا ہے اور اس قدر کہ ان کی نفسیاتی آسودگی کا سامان کرے، مگر دوسروں میں کوئی ردعمل پیدا نہیں کرتا، وہ جو اس سرزمین کے اصل باشندے ہیں۔ سات سال قبل، طورخم سے ادھر ایک بھی پشتون آباد نہ تھا، اگرچہ اب پاکستانی قوم کاوہ ایک قیمتی حصہ ہیں۔ صرف سرحد اور بلوچستان ہی نہیں، پشتون چاروں صوبوں میں آباد ہیں۔ وہ اس طرح اس ملک میں آسودہ ہیں، جیسے عمارت میں فولاد گندھا ہوتا ہے۔ ان کے بغیر پاکستان کا تصور بھی کیا نہیں جا سکتا، اگرچہ دوسرے اجزا بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ نوازشریف کو چاہئے تھا کہ وہ اس نام کے حق میں ایک تحریک اٹھاتے۔ وہ سرحدی عوام کے پاس چلے جاتے تو وہ ان کی بات سنتے اور احترام سے سنتے کہ نون لیگ آج بھی اس نواح کی سب سے مقبول جماعت ہے۔ مگر وہ قیمتی وقت انہوں نے کھو دیا۔
سنیٹر اسحق ڈار نے برملا کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان نئے نام پر اتفاق تھا، ”پختون خواہ اباسین“۔ اب نوازشریف لکیر کیوں پیٹ رہے ہیں۔ وہ اب اپنا مقصود کس طرح حاصل کریں گے۔
ججوں کی تقرری کے سلسلے میں، جس نقطہ نظر پر وہ مصر ہوئے ہیں، انہوں نے وہ وکلاء برادری سے مستعار لیا ہے۔ لیکن کیوں؟ اس قدر تاخیر سے کیوں؟ اپنی جماعت کو انہوں نے دھوکہ دیا۔ کل کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں کو بتایا گیا کہ وزیراعظم سے ترامیم پر نظرثانی کیلئے بات ہو چکی، ن لیگ کے مطالبے کا وہ برا نہ مانیں گے۔ اخبارنویس اور سیاسی مبصر کہتے ہیں کہ نوازشریف، صدر زرداری کو داد ملنے کے تصور سے پریشان ہو گئے اور حماقت کا ارتکاب کیا۔ ممکن ہے، وہ درست کہتے ہوں۔ اس ناچیز کی رائے میں، کمزور اعصاب کا یہ آدمی، جو قوت عمل اور ضد تو رکھتا ہے مگر دانش و دانائی اور نظریاتی ترجیحات قطعی نہیں، وکلاء اور سرحد میں اپنی جماعت کے سامنے جھک گیا۔ شاعر نے کہا تھا: وہ ناداں گرگئے سجدے میں جب وقت قیام آیا۔ نوازشریف کا معاملہ مختلف ہے ۔ اقرار کا وقت آیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ وہ اس دولہا کی طرح ہیں، جو ساری شرائط تسلیم کرنے کے بعد، نکاح خوانی کے وقت مکرجائے اور یکسر نیامطالبہ پیش کرے۔ دیہات میں ایسے واقعات ہوا کرتے ہیں اور بھارت میں تو بہت زیادہ لیکن کیا یہ ایک قومی لیڈر کو زیبا ہے۔
پوری قوم کو نوازشریف نے صدمہ پہنچایا ہے۔ وعدہ شکنی کی بجائے، پریس کانفرنس کی بجائے، وہ وزیراعظم سے بات کرتے۔ ایوان وزیراعظم میں رضا ربانی سے بات کی جاتی۔ پارلیمنٹ کااجلاس چند دن کے لئے ملتوی کر دیا جاتا اور رازداری کے ساتھ، اسفند یار ولی خان اور وزیراعظم سے نون لیگ کے لیڈر مذاکرات کرتے۔ یہ بھی نہیں تو ایوان میں ترمیم پیش ہونے کے بعد پس پردہ ملاقاتیں ممکن تھیں۔ ان لوگوں کا مگر کوئی اصول نہیں اور ان کے ذہن الجھے ہوئے ہیں۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ جب ادراک نہ کرسکو تو راسخون فی العلم کے پاس جاؤ، اہل ذکر کے پاس جاؤ۔ اہل علم اور ایسے اہل علم جو مالک کو دائم یاد رکھتے ہیں، مگر کہاں، ان لوگوں کو ایسی توفیق کہاں۔ اللہ کے آخری رسولﷺ نے کہا تھا: ایک آدمی پکارتا ہے، اللہ اللہ،اس کا لباس گرد آلود ہے اور وہ فریاد کناں ہے مگر اس کی دعا قبول نہیں ہوسکتی کہ اس کے پیٹ میں رزقِ حرام ہے۔ (مفہوم)ازکار رفتہ، ازکار رفتہ۔ ان کا دور تمام ہوا۔ کوئی دن جاتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی افق پر نئے لوگ طلوع ہوں گے۔
تازہ ترین