انصاف ایماندارانہ و حقیقی فیصلہ کا نام ہے۔ انسان کے معاشرہ کی ابتداء سے اس کی شدید ضرورت ہر ملک و قوم و فرقہ اور جماعت میں رہی ہے۔ ہندی میں نیائے، انگریزی میں جسٹس اور فارسی میں اس کو داد رسی و انصاف کے نام سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑا انصاف کرنے والا اللہ رب العزت ہے۔ منصف ِ حقیقی وہی ہے اور اس کا انصاف حشر میں مکمل ہو گا لیکن جلد باز، بے صبرا انسان بے جا شکایت کرنے لگتا ہے۔ فیض # نے تڑپ کر یہ شعر کہہ دیا تھا:
مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے
منصف ہو تو پھر حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے
شاعر عموماً مستی و جوش میں (اور خود کو باغی دکھانے کے لئے )حد سے نکل جاتے ہیں اور نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ سے شکایت کی جرأت کرنے لگتے ہیں ۔ حفیظ جالندھری کے خاص دوست ہری چند اختر نے کہا تھا:
ملے گی شیخ کو جنت مجھے دوزخ عطا ہو گا
بس اتنی بات ہے جس کے لئے محشر بپا ہو گا
ایک اور مشہور ہندو شاعر نریش کمار شاد# ، جو حشر پر ایمان رکھتے ہیں ، کہتے ہیں :
داور حشر دیکھ میری طرف
میں تو ایک رند لااُبالی ہوں
اس سے پہلے کہ تو سوال کرے
میں خود ایک جام کا سوالی ہوں
مرزا غالب# جو اپنی شوخی طبع سے مجبور تھے وہ بھی کہہ اُٹھے :
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم ِ تحریر بھی تھا
شاعر عموماً بدعقیدہ نہیں ہوتے لیکن شوخی طبع (اور بعض اوقعات آسان شہرت کے حصول کے لئے ) سے مجبور ہو کر کہہ اٹھتا ہے جیسے کہ حفیظ جالندھری نے نوجوان کی سوچ کو سمجھ کر کہا تھا:
جب حشر کا دن آئے گا
اس وقت دیکھا جائے گا
جدید یا ترقی پسند شاعروں نے اپنی مشکلات و کوتاہیوں کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ سے اُس کے انصاف پر شکوہ و شکایت شروع کر دیا ۔ اس میں جوش بہت بڑھ گئے تھے ۔ اس تمام شکوہ ، شکایات کو دیکھ کر علامہ اقبال نے پہلے تو ان جذبات کی ترجمانی کر کے شکوہ نامی نظم لکھی اور وہ تمام مفروضہ شکایات کر ڈالیں۔ پھر علامہ اقبال نے خود ہی ان تمام کوتاہیوں اور گناہوں کی طرف توجہ دلا کر جواب شکوہ میں نہایت منطقی طریقہ سے ان ناجائز شکایتوں کا منہ توڑ جواب بھی دے دیا۔
شاعر کو یوم حشر پر یقین ہوتا ہے۔ انصاف کی خدائی صفت امانت کے طور پر انسان کو ودیعت یعنی سپرد کی گئی ہے اور اس کی خیانت کا گناہ ان پر عائد ہوتا ہے جن سے یہ سرزد ہو یا جو اس کا ارتکاب میں معاون و مددگار ہوں یا انصاف کے صدور میں حائل ہوں۔ ہٹ دھرمی ، ناانصافی ، دادرسی اور انصاف کا تنازع ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ سوسائٹی کے تعلیم یافتہ ہونے سے قبل دو فریقوں یا گروپوں کے درمیان فیصلہ کے لئے ایک طریقہ کار کی ضرورت محسوس کی گئی۔ پرانے زمانے میں برصغیر میں کسی بھی آپسی جھگڑے کو نمٹانے کے لئے چند بزرگ منتخب کئے جاتے تھے جو فوراً ہی اکثریت سے فیصلہ کر دیتے تھے اور عموماً یہ فیصلہ ایمانداری پر مبنی اور قابل قبول ہوتا تھا۔ نہ ہی تحریری ریکارڈ رکھا جاتا تھا اور نہ ہی کوئی رکاوٹ پیش آتی تھی۔ فیصلہ کی تعمیل فریقین پر لازمی تھی ورنہ سوشل بائیکاٹ یعنی حقّہ پانی بند جیسی سخت سزا دی جاتی تھی اور اپنے اور پرائے بھی ایسے لوگوں سے مکمل کنارہ کشی کر لیتے تھے۔ پنچائت کے ججوں کو پنج یا پنچ پر میشور کہا جاتا تھا کیونکہ وہ فیصلہ سچائی اور ایمانداری سے کرتے تھے ۔ اردو ، ہندی کے مشہور افسانہ نویس منشی پریم چند نے پچھترسال پیشتر پنج پر میشور نامی افسانہ لکھا تھا جو بے حد مقبول ہوا تھا۔ انہوں نے پرمیشور یا دیوتا کہہ کر پنجوں کو مقدس کا رتبہ دیا ہے۔ ہمارے قبائلی علاقوں میں ایسا ہی انصاف جرگہ یعنی بزرگوں کی ایک جماعت دیتی ہے۔ اس نظام کی افادیت کے مد نظر انگریزوں نے بھی ولیج پنچایت ایکٹ وضع کر کے پنچایت کے فیصلوں کو تسلیم کیا تھا۔ جب بادشاہ راجہ حکومت کرنے لگے تو انصاف کی حاجت پوری کرنے کے ایک خاص شخص مقرر کر دیا گیا۔ مہاراجہ وکر ماتیہ جو تیسری قبل مسیح میں اجین کا راجہ تھا انصاف کے لئے عدیم المثال شمار کیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران میں نوشیر وان عادل انصاف کے لئے مشہور ہے۔ مسلمانی دور میں یہ فرائض قاضی کے سپرد ہوئے اور اس کی اتنی عزت واہمیت تھی کہ حکمران وقت یا خلیفہ کو عدالت میں بلا لیتا تھا۔ ہمارے پیارے رسولﷺ اور خلفائے راشدین کے انصاف کی مثال نہیں ملتی ۔ حضرت عمر اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کے عدل و انصاف کے واقعات تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ اسلام میں انصاف کی عظمت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت تین اشخاص ہیں ۔ مفلس مغرور، بوڑھا زانی اور انصاف نہ دینے والا حاکم ۔ اللہ تعالیٰ نے بے وجہ ایک مسلمان کا خون بہانے والے مسلمان اورمشرک کو جہنمی قرار دیا ہے اور انصاف نہ دینے والے حاکم ، منصف یا قاضی کے لئے سخت عذاب لکھا ہے۔ حدیث نبوی میں انصاف نہ دینے والے منصف کے لئے جہنم کا وعدہ ہے۔
انصاف دو فریقوں کے درمیان حق و سچائی پر مبنی فیصلہ کرنے کا کام ہے۔ جس کے حق میں فیصلہ نہ ہو اس کو ناراضی ہوتی ہے اور اس کے لئے اب دور جدید میں پہلی اور دوسری اپیل کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ حکمرانوں اور بااقتدار لوگوں کو اپنی مرضی کے خلاف فیصلے سننے اور ماننے کی عادت نہیں ہوتی ۔ اسی وجہ سے زمانہ قدیم سے آج تک حاکمان وقت عدلیہ پر اپنا تسلط رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کی ایک شکل اپنی مرضی کے جج مقرر کرنا ، ان کو بلیک میل کرنا، پریشر ڈالنا وغیرہ ہے۔ پرانے زمانے میں حکمرانوں کا قاضیوں اور مفتیوں کو اپنی مرضی کے مطابق فیصلے نہ دینے پر کوڑے مارنا عام تھا۔ رواج وہی ہے مگر آج کل طریقہ کار بدل گیا ہے جس میں ججوں کی فائلیں کھولنا، بلیک میل کرنا، رشتہ داروں کو پریشان کرنا، تبادلہ ، تنزلی یا فرضی شکایت پر معطل کرنا عام ہو گیا ہے۔ تازہ ترین مثال مشرف کی ہے جس نے چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری پر یہ حربہ استعمال کیا تھا مگر منہ کی کھانی پڑی ۔ ہندوستان میں اندرا گاندھی نے چار سینئر ججوں کو نظر انداز کر کے پانچویں کو بنا دیا تھاچاروں فوراً گھر چلے گئے تھے۔ اس کا فائدہ اندرا گاندھی کو یہ ملا کہ جب جسٹس سنہا نے اس کو نااہل قرار دیا تو اسی چیف جسٹس نے اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا۔ ہمارے ہاں ضیاء الحق نے انوار الحق سے اور مشرف نے ارشاد حسن خان اور عبدالحمید ڈوگر سے ایسے ہی فیصلے کرائے۔
اسلام میں انصاف پر بہت زور دیا گیا ہے اور مسلمانوں کے لئے سوشل، معاشی زندگی کے ہر پہلومیں انصاف پسندی کو مقدم قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل احکامات اس کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔
(۱)بے شک اللہ تعالیٰ عدل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورة المائدہ آیت 42)
(۲)اے ایمان والو ! انصاف پر پختگی سے قائم رہنے والے اور اللہ کیلئے گواہی دینے والے رہو۔ چاہے وہ تمھارے یا تمھارے والدین اور عزیزوں کے خلاف ہی ہو وہ امیر ہو یا مفلس ، اللہ دونوں سے زیادہ حقدار ہے۔پس خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم کجی کرو گے یا پہلو تہی کرو گے تو جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے خوب خبر دار ہے۔ (سورة النساء آیت135)
(۳)اے ایمان والو! اللہ کے لئے پختگی سے قائم رہنے والے اور عدل کے ساتھ شہادت دینے والے رہو اور کسی جماعت کی دشمنی تم کو اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم اس کے ساتھ انصاف ہی نہ کرو۔ ہر حال میں انصاف پر قائم رہو کہ وہ تقویٰ سے بہت قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بے شک اللہ کو اس کی پوری خبر ہے کہ تم کیا کرتے رہتے ہو۔ (سورة المائد ہ آیت 8)
(۴)اور جب بات کرو تو انصاف ملحوظ رکھو اگرچہ وہ تمہارے کسی قرابت دار کے متعلق ہی کیوں نہ ہو۔ (سورة انعام آیت 152)
(۵)آپ (محمد ) کہہ دیں کہ میرے پروردگا ر نے تو عدل و انصاف ہی کا حکم فرمایا ہے ( سورة اعراف آیت 29)
(۶) بے شک اللہ عدل اور احسان کا حکم فرماتا ہے۔ (سورة نحل آیت 90)
(۷) اور آپ (محمد ) کہہ دیں کہ مجھے یہ حکم ملا ہے کہ اپنے اور تمہارے درمیان انصاف کروں (سورة شوریٰ آیت 15)
(۸)پھر اگر وہ زیادتی کرنے والا گروہ رجوع کر لے تو ان فریقین کے درمیان عدل کے ساتھ صلح و اصلاح کرا دو اور انصاف کا خیال رکھو بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ( سورة حجرات آیت 9)
(۹)اور یقینا ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلی ہوئی نشانیاں دے کر بھیجا اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب کو اور میزان کو نازل کیا تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں ۔(سورة حدید آیت 25)
ہمارے یہاں ایک نہایت پیچیدہ اور ناقص نظامِ انصاف رائج ہے اور اس میں بہت زیادہ تر ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ہاتھ ہے۔ پولیس کو کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ جھوٹے مقدمات قائم کرنا ، دوستوں اور بااثر لوگوں کے کہنے اور رشوت لے کر بیگناہ شہریوں کے نام ایف آئی آر میں ڈالنا اور ان کو قتل کے مقدمہ میں پھنسا دینا وغیرہ ایسی لعنت ہے کہ جس پر آگے پورا مقدمہ قائم ہوتا ہے اور پھر فیصلہ بھی انہی جھوٹی شہادتوں اور جھوٹے مقدمات کی بنیاد پر ہو جاتا ہے اور جب مقدمات مقامی عدالتوں میں جاتے ہیں تو وہاں بھی اثر و رسوخ اپنا رنگ دکھاتے ہیں یا توفیصلہ بیگناہ کے خلاف ہو جاتا ہے ورنہ چھوٹے چھوٹے مقدمے دس پندرہ سال چلتے جاتے ہیں۔ اخبارات میں اور ٹی وی پر باربار دکھایا جاتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان ایسے مقدمات کا نوٹس لے کر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کو جلد نمٹانے کی کو شش کرتے ہیں مگر کچھ جج صاحبان نے تاریخیں بڑھانے کا وتیرہ بنا لیا ہے اور اثر و رسوخ میں آر ہے ہیں۔
ہم جانتے ہیں کہ انگریز نہایت سمجھدار اور عیار تھے اور ان کو حکومت کرنے کا طریقہ آتا تھا ۔ ایک کمشنر یا ڈپٹی کمشنر مقامی لوگوں کی مدد سے اعلیٰ نظم و ضبط قائم رکھتا تھا۔ اس کامیابی کی وجہ ہمیشہ مقامی لوگوں کی ان کے اپنے ہی علاقہ میں تعیناتی تھی۔ آج کل آوا کا آوا ہی ٹیڑھا ہے۔ میانوالی کا آدمی کراچی میں، کراچی کا پنڈی میں اور کوئٹہ کا پشاور میں تعینات کیا جاتا ہے نہ ہی وہ مقامی لوگوں سے واقف ہوتا ہے اور نہ ہی اس کو اس میں دلچسپی ہوتی ہے کہ وہاں کا نظام ٹھیک ہو ، بس پیسہ بنایا اور آگے چل پڑے۔
میں نے ابھی عرض کیا ہے کہ عدالت جو کچھ اس کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اس کے مطابق فیصلہ صادر کرتی ہے۔ لوگ اس نقص سے ناواقفیت کی وجہ سے عدلیہ اور انصاف پر شک کرنے لگتے ہیں اور اعتماد کھو دیتے ہیں۔ عدالت تو صرف گواہوں اور ثبوت کی بنیاد پر انصاف کرتی ہے۔ مقدمات میں وکیلوں نے کلیدی رول ادا کرنا شروع کر دیا ہے اور بدقسمتی سے ان کی ہنر مندی اور فن کی وجہ سے عام مقدمے برسوں چلتے رہتے ہیں۔گواہ مر جاتے ہیں یا ان کو خرید لیا جاتا ہے ۔ یہاں بدقسمتی سے عدلیہ بھی اپنا رول ایمانداری سے ادا نہیں کرتی اور لالچ یا دباؤ میں آ کر بار بار مقدمہ کی تاریخ بڑھاتی جاتی ہے حالانکہ ابھی چند دن پیشتر ہی چیف جسٹس جناب افتخار محمد چوہدری نے اس لعنت کی طرف توجہ دلائی تھی اور برہمی کا اظہار کیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک تھانیدار یا انسپکٹر کو اتنی مہارت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایک یا دو دن کی تفتیش کے بعد حقائق جان لیتا ہے اور مجرم اور ملز م میں تمیز کر لیتا ہے ۔ یہی حال مجسٹریٹ یا سیشن جج کا بھی ہوتا ہے۔وہ دو تین پیشیوں کے بعد مقدمے کی بنیاد تک پہنچ جاتا ہے اور اگر یہ دونوں ادارے ایمانداری اور تیز رفتاری سے اپنے فرائض سر انجام دیں تو تمام مقدمات بہت جلد ختم ہو سکتے ہیں۔میں نے اس کی مثال چین میں بہت قریب سے دیکھی ہے جہاں انصاف یعنی صحیح انصاف دو یا تین پیشیوں میں دے دیا جاتا ہے ۔ نظم وضبط اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور نچلی عدلیہ پر بہت بھاری ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اللہ اور اس کے رسول کے احکامات کی روشنی میں انجام دے اور اپنی عاقبت سدھارنے کا بندوبست کرے۔