• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

علی جہانگیر صدیقی نے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کی ذمہ داریاں سنبھال لیں

Todays Print

اسلام آباد (طاہر خلیل)وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے علی جہانگیر صدیقی نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، وزیراعظم سیکرٹریٹ کے چوتھے فلور پر جہاں وزیراعظم کا دفتر ہے، علی جہانگیر صدیقی کا آفس بنایا گیا ہے، علی جہانگیر صدیقی قومی معیشت میں بہتری کیلئے نئی قابل عمل تجاویز حکومت کو پیش کریں گے۔

جہانگیر صدیقی ایک ایسے نوجوان بزنس مین ہیں جنہوں نے ہمیشہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کیا اور وہ ایسے نوجوان اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کامیاب بزنس مین ہیں جنہیں آپ خواب دیں وہ آپ کو اس کی تعبیر کر کے دکھائیں گے کیونکہ محنتی، دیانت دار اور بااخلاق نوجوان میں یہ خوبی ہے کہ وہ اگر پتھر پر بھی ہاتھ رکھ دے تو اس کو بھی سونا بنا سکتے ہیں ۔

اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں اگر آپ کی نیت درست ہو، اہداف متعین ہوں اور آپ کا جذبہ بے لوث ہو اور محنت آپ کا شیوہ ہو ، زندگی آپ کو گزارنے کی بجائے آپ زندگی کو گزار رہے ہوں ، دن اور رات کی پروا کئے بغیر اپنے مقصد کے حصول کیلئے آپ کا ذہن صاف ہو، شفافیت آپ کا شیوہ ہو، اچھی ساکھ آپ کی خوبی ہو، انسانیت کی بے لوث خدمت آپ کا خاندانی ورثہ ہو، بڑے اور چھوٹے سے انتہائی متانت اور اخلاق سے آپ ہم کلام ہوتے ہوں اور سب سے بڑھ کر ہر شخص کی عزت نفس اور اخلاقیات آپ کی تربیت ہو تو پھر کون کہتا ہے کہ کامیابی آپ کے قدم نہ چومے ۔

پاکستان کے سرمایہ کار حلقوں کی جانب سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کومبارکباد کے مستحق  قراردیا جارہاہے کہ انہوں نے اپنے سفر میں ایک ایسے نوجوان ہمسفر کا انتخاب کیا جو اللہ تعالیٰ کی کرم نوازی سے بے پناہ صلاحیتوں کا مالک ہے ۔ علی جہانگیر صدیقی کی قابلیت ، اعلیٰ صلاحیتوں ، ایمانداری ، محنت ، دیانتداری اور کم عمری میں اس مقام پر پہنچنے کیلئے کاوشوں کو اجاگر کرنا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کےلئے یہ امر باعث افتخار ہے کہ ہمارے وطن عزیز میں ایسے نوجوان ہیں جو اپنے ذاتی کاروبار کو چھوڑ کر ملکی معاملات بلامعاوضہ ادا کرنے کےلئے ہمہ وقت تیار ہوتے ہیں ۔

علی جہانگیر صدیقی ایک کاروباری خاندان سےتعلق رکھتے ہیں ان کے والد جہانگیر صدیقی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں انہوں نے انتہائی ایمانداری ، محنت اور انسان دوستی کی بدولت کاروباری دنیا میں اپنا ایک اعلیٰ مقام بنایا ہے جس کا اعتراف ان کے کاروباری دوست بھی کرتے ہیں کیونکہ کاروبار میں سرمائے سے زیادہ کاروباری ساکھ کا بہت عمل دخل ہوتا ہے ۔

علی جہانگیر صدیقی اوروزیراعظم شاہد خاقان عباسی دونوں فضائی کمپنی ائر بلیو کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں شامل رہے ہیں، شاہد عباسی اور علی جہانگیر صدیقی نے سرکاری منصب سنبھالنے سے قبل ہی ائر بلیو کے ڈائریکٹرز کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا تھا، علی جہانگیر صدیقی کی وزیراعظم آفس میں معاون خصوصی کی حیثیت سے تقرری پربعض حلقوں کی جانب سے تنقید کی گئی اور ان پر مختلف الزامات عائد کئے گئے اورکہا گیا کہ علی جہانگیر صدیقی کے خلاف نیب میں ایز گارڈ نائن اسکینڈل اور این آئی سی ایل میں جے ایس بنک کے2 ارب روپے کے اسکینڈل کی تحقیقات چل رہی ہیں، اس حوالے سے نیب ترجمان نے یکم ستمبر کو ایک وضاحت جاری کی جو 2 ستمبر کو دنیا اخبار میں شائع ہوئی، دنیا اخبار نے ہی الزامات سے متعلق خبرشائع کی تھی، قومی احتساب بیورو کے ترجمان نے ایک وضاحت میں کہاکہ علی جہانگیر صدیقی کے نام سے نیب میں اس وقت کوئی تحقیقات نہیں ہورہیں، ترجمان کے مطابق میڈیا میں اس حوالے سے آنے والی خبریں درست نہیں، علی جہانگیر پر ایک الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری تقرری سے ایک ہفتہ قبل ائر بلیو میں 20 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے بعد انہیں اس عہدے پر تعینات کیا تھا، علی جہانگیر نے اس الزام کو غلط قراردیا ہے ان کا کہنا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ ائر بلیو میں سرمایہ کاری2004 میں کی گئی تھی ، جو تقریباً 14کروڑ روپے تھے جو اس وقت کے حساب سے 3.2 ملین ڈالر بنتے تھے، یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب 2004 میں یہ سرمایہ کاری کی گئی، شاہد عباسی اس وقت پارلیمنٹ کے ممبر نہیں تھے۔

الزام لگایا گیا کہ سکیورٹی ایکسچینج کارپوریشن(ایس ای سی پی) میں علی جہانگیر صدیقی کےخلاف ایز گارڈ نائن کمپنی کے شیئرز کی خریدو فروخت میں عدم شفافیت پر انکوائری چل رہی ہے، علی جہانگیر صدیقی نے اس معاملے میں موقف کااظہار کیا کہ اس معاملے میں شیئرز سستے داموں خریدنے اور مہنگے فروخت کرنےکا الزام اس لئے درست نہیں کہ ہم نے شیئرز فروخت ہی نہیں کئے بلکہ اس کیس میں ہمارا 2 ارب روپے کا نقصان ہوا، معاملہ عدالت میں ہے اور عدالت سے کہا ہے کہ ایز گارڈ نائن کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرالیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوجائے گا،فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے علی جہانگیر صدیقی کی خصوصی معاون کی حیثیت سے تقرری کا دفاع کیاہے وزیراعظم نے منفی پروپیگنڈہ مسترد کردیا اورکہا کہ علی صدیقی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نہایت تجربہ کار ہیں اور معیشت کے اسرار و موز سے بہتر واقفیت رکھتے ہیں اسی لئے بعض ٹی وی اینکرز نے ان کے خلاف ایکا کرلیا ہے۔ علی جہانگیرصدیقی کو پیشہ وارانہ امور کی سوجھ بوجھ اپنے گھر سے ملی مگر انہوں نے اپنے والد جہانگیر صدیقی کے نقش قدم پر چلنے کے ساتھ اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروقت استعمال کرتے ہوئے نہ صرف قابل ، ماہر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو اپنے ساتھ شامل کیا بلکہ دوسری کمپنیوں میں بھی صحیح تشخص ، صحیح جگہ پر تعینات کر کے دن رات کام کیا ۔دکھی انسانیت کی خدمت ان کا بہترین اثاثہ ہے جو انہیں ورثے میںملا۔ اپنی شفیق اور قابل احترام والدہ کے نام سے مہوش اینڈ جہانگیر فائونڈیشن بنائی جس فائونڈیشن نے انتہائی خاموشی سے شہرت کی پرواہ کئے بغیر دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا جس کی وجہ سے غریبوں کی دعائیں بھی علی جہانگیر صدیقی، جہانگیر صدیقی، علی رضا صدیقی اور مہوش جہانگیر صدیقی کو ملیں یہی وجہ ہے کہ علی جہانگیر صدیقی نے اپنے تجربہ، قابلیت کی بدولت جس منصوبہ پر ہاتھ رکھا اسے کامیابی ملی، گزشتہ سال جے ایس گروپ پاکستان کے ان چند گروپوں میں شامل ہے جنہوں نے 12 ارب روپے ٹیکس حکومت پاکستان کے خزانے میں جمع کروایا ،مبصرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے علی جہانگیر صدیقی کو اپنا خصوصی معاون بنانے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی درست، بروقت اور ایک محبت وطن پاکستانی کاروبا ر ی نوجوان کو ملک کی بلامعاوضہ خدمت کرنےکا موقع دینا ہے کیونکہ علی جہانگیر صدیقی جدید تقاضوں اور ٹیکنالوجی سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ملک و قوم کی توقعات پر پورا اتریں گے اور ایسی تجاویز منصوبے بنانے میں حکومت کو اپنی خدمات فراہم کریں گے جو انہوں نے دن رات محنت اور قابل عمل لٹریجی کی بدولت تمام منصوبوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔

تازہ ترین