بینکنگ انڈسٹری میں پچھلے دنوں ایک بڑے فراڈ کا چرچا رہا، یہ سود کی شرح کا فراڈ تھا۔ برٹش بینکرز ایسوسی ایشن، برطانیہ کے دس بڑے بینکوں سے حاصل ہونے والی شرح سود کے اعداد کو سامنے رکھ کر ایک اوسط شرح سود کا اعلان کرتی ہے جسے لائے بور کہا جاتا ہے۔ London Inter Bank Offered Rate اس کی بنیاد پر برطانیہ کے بڑے بینک ایک دوسرے کو قرض فراہم کرتے ہیں اور یہ شرح سود پھر پوری دنیا کے مالیاتی نظام میں کسی بھی قسم کے قرضے کی فراہمی کیلئے ایک حوالے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ لندن کے بینک اگر زیادہ شرح سود کا اعلان کرتے ہیں تو بینکوں سے قرض لینے والے زیادہ سود ادا کریں گے اور اگر کم شرح سود طے کی جاتی ہے تو قرض دہندگان پھر کم شرح سود دیں گے۔ لائے بور سرمایہ دارانہ نظام میں مقدس سمجھی جانے والی انتہائی قابل اعتبار چیز ہے جس پر اعتماد کی بنیاد پر لوگ بینکوں سے قرض حاصل کرتے ہیں۔ یہ شرح سود ایک طرح سے مالیاتی نظام کی صحت کا پیمانہ بھی ہے۔ اگر بینک مالیاتی نظام کے حوالے سے پر اعتماد ہوتے ہیں تو کم شرح سود پر دوسرے بینکوں کو قرض فراہم کرتے ہیں اور اگر یہ اعتماد شکوک و شبہات کی زد پر ہو تو بینک زیادہ شرح سود پر قرض مہیا کرتے ہیں۔
برطانیہ کا ایک مشہور و معروف بینک آئس برگ کا وہ معلوم حصہ تھا جس سے لائے بور کے عظیم فراڈ کا پتہ چلا۔ مذکورہ بینک نے 2008ء کے مالیاتی بحران کے عروج میں قرض حاصل کرنے کیلئے شرح سود کے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کئے اور مارکیٹ میں اپنی ساکھ کی غلط تصویر پیش کی۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا کے بڑے بڑے بینکوں نے ایک دوسرے کو قرض دینے سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا تھا، اس خوف سے کہ کہیں دوسرے بینک کے پاس واپس کرنے کیلئے پیسے ہی نہ ہوں۔ اس صورت میں بینک ایک دوسرے کو قرضے فراہم بھی کرتے تو شرح سود زیادہ ہوتی۔ یہ بینک اگر کسی دوسرے بینک سے پانچ فی صد شرح سود پر قرض لے رہا تھا تو مارکیٹ میں یہ ظاہر کیا کہ وہ صرف دو فی صد پر قرض لے رہا ہے تاکہ یہ تاثر دیا جا سکے کہ بینک مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے اور کوئی بھی صارف اس بینک میں جمع پونجی جمع کرانے یا کسی بھی قسم کا مالیاتی معاہدہ کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار نہ ہو۔ اس طرح کے معاملات میں یہ بینک تنہا نہیں بلکہ دنیا کے بڑے بڑے بینک اسی طریقے پر چل رہے تھے۔ یہ اس فراڈ کا ایک افسوسناک پہلو ہے، دوسرا پہلو کہیں زیادہ افسوسناک ہے۔ گزشتہ مہینے 12جولائی کو نیویارک فیڈرل ریزرو نے 2007ء کی اپنی دستاویزات عام کیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ ”نیویارک فیڈرل ریزرو اس بات سے باخبر ہے کہ اکثر بینک لائے بور کو اپنی مرضی کی سطح پر فکس کرنے کیلئے اپنے قرضوں پر شرح سود سے متعلق غلط اعداد و شمار پیش کرتے ہیں“۔ 2008ء کے اواخر میں بینک آف انگلینڈ کے گورنر نے برطانوی پارلیمنٹ کو لائے بور سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ”دراصل یہ وہ شرح سود نہیں ہے جس پر بینک ایک دوسرے کو قرض دیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ بینک آف انگلینڈ، نیویارک فیڈرل ریزرو، برطانوی پارلیمنٹ کے سیاست دان اور اعلیٰ حکام سب کو اس فراڈ کا علم تھا۔ سب مل کر عام لوگوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے تھے۔ کتنا؟ اعداد و شمار کے ذریعے بتانا بھی ممکن نہیں۔ یہ اتنا بڑا فراڈ ہے کہ تصور بھی محال ہے۔
لائے بور اسکینڈل سے ثابت ہوتا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام کے عظیم تصور ”فری مارکیٹ“ نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی۔ کاغذی کرنسی، قرضوں پر کھڑی معیشت، نج کاری، اسٹاک ایکسچینج، لمیٹڈ کمپنیز، سودی بینکاری اور سٹے بازی جیسی پالیسیوں نے سرمایہ دارانہ نظام کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں تک اس خیال کا تعلق ہے کہ مغرب جو بات کرتا ہے وہ سچائی پر مبنی ہوتی ہے، یہ بہت ایماندار لوگ ہیں، انسانی حقوق کا خیال رکھتے ہیں، یہ سب اس تہذیب کے ظواہر ہیں۔ یہ تہذیب انسانیت کے ویرانے پر کھڑی حالت جنگ اور حالت امن ہر دو حالتوں میں انسانی کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کر رہی ہے۔ جو معاملات پہلے سادہ تھے اب ان میں الجھاؤ پیدا کر کے انسانیت کو عظیم سانحات اور عظیم تر پریشانیوں میں مبتلا کیا جا رہا ہے۔ بینک سسٹم ایک استحصال، بددیانتی اور فراڈ کی بنیاد پر شروع ہوا تھا اور آج تک اس کی روح استحصال پر قائم ہے۔ سود اس کی نس نس میں بسا ہوا ہے۔ اسلام میں سود اس قدر قابل مذمت ہے کہ سود کا لین دین فی الحقیقت اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ اسی اعلان جنگ کا نتیجہ ہے کہ چند یہودی سرمایہ داروں کی اجارہ داری اور غریبوں کی جمع پونجی لوٹنے والے اس نظام میں کبھی دبئی ڈوب جاتا ہے اور کبھی امریکہ کے رئیل اسٹیٹ سے وابستہ مالیاتی ادارے۔