آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئیے ! آج فیض احمد فیض کا ذکر کرتے ہیں ۔ آج فیض کی برسی ہے ۔ غم جہاں ‘ رخ یار اور دست عدو سے عاشقانہ سلوک کرنے والے فیض کو ہم سے بچھڑے 33 برس بیت چکے ہیں ۔ وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلا ۔ بس ماحول میں گھٹن سی محسوس ہوتی ہے ۔ صرف برسی کی مناسبت سے ہی نہیں ۔ آج ہر لمحہ فیض سے رجوع کرنے کا دل کرتا ہے ۔
قفس اداس ہے یارو ، صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے
فیض نے اس عہد میں جنم لیا ، جس عہد میں تاریخ انسانی کے افق پر عظیم لوگوں کی ایک کہکشاں نمودار ہوئی ۔ وہ عہد سامراجیت اور نو آبادیت سے نجات ، قومی آزادی کی تحریکوں اور استعماریت کے خلاف انقلابوں کا عہد تھا 13 فروری 1911 ء کو جب فیض نے علامہ اقبال کے ضلع سیالکوٹ میں جنم لیا تو غیر معمولی تبدیلیوں ، خونریز جنگوں اور انقلابوں کا یہ عہد اپنی پوری شدت پر پہنچا ہوا تھا ۔ ’’ یک بیک شورش فغاںکی طرح … فصل گل آئی امتحاں کی طرح ۔ ‘‘ جب 20 نومبر 1984 ء کو 73 سال کی عمر میں فیض کا انتقال ہوا تو یہ عہد دم توڑ رہا تھا اور اس کی کوکھ سے ایک دوسرا عہد جنم لے رہا تھا ۔ اس ہنگامہ خیز عہد میں تاریخ انسانی کے بڑے بڑے سیاست دان ، انقلابی رہنما ، دانشور ، فلسفی ، شاعر اور ادیب پیدا ہوئے ۔ عظیم شخصیات کی اس کہکشاں میں کچھ ستاروں کی روشنی ماند پڑ گئی ہے اور کچھ

ستاروں کی چمک میں اضافہ ہو گیا ۔ فیض اس کہکشاں کا وہ ستارا ہیں ، جس کی روشنی عہد بہ عہد بڑھتی جا رہی ہے ۔ وہ ہر عہد کی شخصیت ہیں ۔ وہ انقلابی بھی تھے ، شاعر اور ادیب بھی تھے ، صحافی اور سیاسی دانشور بھی تھے ۔ وہ سیاسی تحریکوں میں رہے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو صرف اپنے عہد کی سیاست تک محدود نہیں رکھا بلکہ ازل سے جاری حق و باطل کی جنگ میں ان مغالطوں کی نشاندہی کر دی ، جو ہر عہد میں الفاظ کا نیا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں ۔ فیض نے ان مغالطوں کو اپنی شاعری میں خون جگر میں ڈوبے الفاظ اور دلائل سے غیر موثر بنایا
ستم سکھلائے گا رسم وفا ، ایسے نہیں ہوتا
صنم دکھلائیں گے راہ خدا ،ایسے نہیں ہوتا
گنوسب حسرتیں ‘ جو خوں ہوئی ہیں تن کے مقتل میں
میرے قاتل ! حساب خوں بہا ، ایسے نہیں ہوتا
راقم ان لوگوں میں شامل ہے ، جنہیں فیض کی صحبت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔ تاریخ انسانی کے ہر عظیم شاعر اور ہر عظیم انسان کی طرح فیض کے بارے میں آج یہ سوال موجود ہے کہ ان کی دانش کا ماخذ کیا ہے اور ان کی نفسیات کیا تھی ؟ نئی نسلیں اس سوال کا جواب ان کی شاعری اور ان کی تحریروں سے حاصل کرنے کی کوشش کریں گی اور انکی فکری گہرائی اور گہرائی میں ڈوبتی چلی جائیں گی ۔ ہم نے جیتے جاگتے فیض کو دیکھا ہے ۔ ان کی آنکھوں میں غیر معمولی چمک سے انسانی تاریخ کو عہد بہ عہد دیکھا ہے ۔ ان کی مسکراہٹ اور ان کے چہرے کے تاثرات سے انسان کی انتہائی دانش کا لطف لیا ہے ۔ ان کی عام گفتگو اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ان کے ردعمل سے یہ محسوس کیا ہے کہ
دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں
دست فلک میں گردش ایام تو ہے
اگرچہ اس عہد میں دنیا کے دیگر ملکوں اور خطوں میں بھی انقلابوں اور آزادی کی تحریکوں نے فیض کی شاعری سمیت تما م فنون لطیفہ کو مالا مال کیا لیکن اس عہد کے زیادہ شعراء کی شاعری اپنے عہد کا نعرہ بن گئی اور دوسرے عہد میں غیر متعلق ہو گئی ۔ انہوں نے بھی شاعری کی رومانویت والی روایات میں انسانی معاشرے کے تضادات اور سیاسی معاملات کو شامل کیا لیکن بہت کم شعراء ایسے ہیں ، جو اس بات کو سلیقے سے کہہ سکے کہ ’’ اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا…تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روزگار کے ‘‘ ۔ فیض نے رومانوی روایات میں انسانی معاشرے کے تضادات کو اس طرح سمویا کہ وہ شاعری کا لازمی جزو بن گئے اور ان موضوعات نے فنی طور پر شاعری کو مالا مال کیا ۔ نئی نسلیں بھی آج یہ بات کہتی ہیں کہ ’’ دیکھیں گے ، ہم بھی دیکھیں گے… لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے … ‘‘ لیکن یہ بات نعرہ نہیں لگتی بلکہ فطری شاعری محسوس ہوتی ہے ۔ وہ لوگ ، جو ادب کی ’’ ترقی پسندانہ ‘‘ اور ’’ غیر ترقی پسندانہ ‘‘ ادب میں تقسیم کرتے تھے ، وہ بھی یہ جرات نہ کر سکے کہ وہ فیض کو کسی ایک صف میں کھڑا کر سکیں اور ان پر کوئی لیبل لگا سکیں کیونکہ فیض کسی ایک عہد کے شاعر نہیں تھے ۔ فیض نہ صرف اپنے عہد کے مقبول ترین شاعر تھے ( ان کے جتنے اشعار زبان زد عام ہوئے ، اتنے شاید کسی اور شاعر کے نہیں ہوئے ہوں گے ) بلکہ ان کے نظریاتی مخالفین بھی انہیں اپنی زبان قرار دیتے ہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فیض تاریخ انسانی کا گہرا دراک رکھتے تھے اور وہ معاملات کو وسیع تر تناظر میں دیکھتے تھے ۔ انہیں اپنی بات سلیقے سے اور شاعرانہ انداز میں کہنے کا ملکہ حاصل تھا ۔
وہ بتوں نے ڈالے ہیں وسوسے کہ دلوں سے خوف خدا گیا
وہ پڑی ہیں روز قیامتیں کہ خیال روز جزا گیا
ہم جیسے لوگوں کے بس میں نہیں کہ فیض کو بیان کریں ۔ ہر عہد کو اپنی اجتماعی دانش کے مطابق فیض منکشف ہو گا ۔ کوئے یار سے سوئے دار تک زندگی کے انتہائی پیچیدہ مسائل کو فیض نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا لیکن یہ بھی بتا دیا کہ زندگی کی یہ دو حدیں ہیں ، کوئے یار اور سوئے دار ۔ سکھ بھی رومانویت ہے اور دکھ بھی رومانویت ہے ۔ زندگی کا سفر ’’ رہ یار ‘‘ پر چلنے کا سفر ہے اور اسے قدم قدم یادگار بنایا جا سکتا ہے ۔
دل کا ہرتار لرزش پیہم
جاں کا ہر رشتہ وقف سوزوگداز
کچھ لوگ فیض کی نظم ’’ صبح آزادی ‘‘ پر تنقید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ فیض نے پاکستان کے قیام کے بارے میں اچھا تاثر قائم نہیں کیا لیکن معترضین بھی یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ’’ وہ انتظار تھا ، جس کا ’’ یہ وہ سحر تو نہیں ‘‘ کچھ لوگ یہ بھی تنقید کرتے ہیں کہ فیض کا نام راولپنڈی سازش کیس میں آیا اور فیض پاکستان کی پہلی فوجی بغاوت کا حصہ بنے ، جو ناکام ہو گئی اور اس کے بعد فوج میں اقتدار پر قبضے کی خواہش پیدا ہوئی ۔ یہ تنقید کرنیوالے اس واقعہ کو اس وقت کے معروضی حقائق سے الگ کرکے دیکھتے ہیں ۔ یہ فوجی بغاوت دراصل ان ترقی پسندانہ انقلابات کا تسلسل تھی ، جو اس وقت دنیا میں رونما ہو رہے تھے ۔ اگر یہ بغاوت کامیاب ہو جاتی تو پاکستان کی تاریخ کسی دوسرے دہارے پر بہہ رہی ہوتی ۔ اس فوجی انقلاب کی سب سے زیادہ مخالفت اس وقت کے سیکرٹری دفاع جنرل اسکندر مرزا اور چیف آف آرمی اسٹاف ایوب خان نے کی ، جنہوں نے نہ صرف اقتدار فوج کے حوالے کر دیا بلکہ پاکستان میں جمہویت کے پنپنے کے حالات ختم کر دیئے ۔ فیض احمد فیض اس ناکام فوجی انقلاب سے پہلے استعفی دے چکے تھے ۔ اسکے باوجود وہ اس کیس میں چار سال جیل میں رہے اور وہیں دو شعری مجموعے ’’ دست صبا ‘‘ اور ’’ زندان نامہ ‘‘ تحریر ہوئے ۔ بعد ازاں اس ناکام فوجی بغاوت کے لیڈر جنرل اکبر خان کو ذوالفقار علی بھٹو نے نیشنل سیکورٹی کا سربراہ بنایا ۔
اور فیض کو نیشنل کونسل آف آرٹس کا سربراہ بنایا اور تاریخ میں یہ واضح کر دیا کہ راولپنڈی سازش کیس کے ’’ ملزمان ‘‘ اپنے موقف میں درست تھے ۔ فیض نے آمروں کے ساتھ کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ 1965ء کی جنگ میں انہیں ایوب خان کی حکومت نے ایک عظیم صحافی کے طور پر انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کا سربراہ مقرر کیا تاکہ وہ حکومت کی پروپیگنڈہ مشینری کو بہتر طور پر چلا سکیں لیکن فیض نے پاک بھارت جنگ کی تباہ کاریوں پر شاعری کی اور حکومت کو انہیں وہاں سے ہٹانا پڑا ۔ جنرل ضیاء نے بھٹو کا تختہ الٹا تو فیض جلا وطن ہو گئے اور بیروت میں جا کر قیام کیا اپنے انتقال سے دو سال قبل 1982 ء میں وہ پاکستان واپس آئے ۔ فیض کی فکر اور فلسفے کو سمجھنے کیلئے ذہن کے دریچوں کو کھولنا ہو گا ۔ آج بھی انسانی سماج جن تضادات سے دوچار ہے ، ان میں فیض سے رجوع کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج کے حالات میں فیض بہت یاد آ رہے ہیں ۔
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم بے حساب یاد آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں