آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب مینڈک مختلف ٹولیوں کی صورت میں ’’ مے ٹو ‘‘ ، ’’مے ٹو‘‘آوازیں لگارہے ہوتے ہیں توپتہ چل جاتا ہے کہ برسات کا موسم آگیا ہے۔ اسی طرح ہمیں وقت سے پہلے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ الیکشن آنیوالے ہیں کیونکہ اب مختلف سیاسی اتحادوں کی ’’ مے ٹو‘‘ ’’مے ٹو‘‘ کی صدائیں کانوں کو چیرتی ہوئی دل کو بوجھل کر رہی ہیں۔ اتحاد ، اتحاد کھیلوں کی یہ آوازیں کاغذات نامزدگی سے دستبرداری کے مرحلے تک ٹوٹتی بنتی اور سنائی دیتی رہیں گی۔ وطن عزیز کی 70سالہ سیاسی تاریخ مختلف سیاسی جماعتوں کے اتحادوں سے بھری پڑی ہے جن کامطمع نظر محض اپنے مفادات کا تحفظ ہی ہوتا ہے ۔ اتحادوں کی یہ سیاست اب پھر شروع ہوچکی ہے ابھی گذشتہ دنوں جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی زیر صدارت پانچ دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جسمیں اتفاق رائے سے متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے ) کو بحال کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ۔ یہ اتحاد 2002ء میں جنرل ( ر) پرویز مشرف کی پالیسیوں کیخلاف قائم کیا گیا تھا ۔ جس کو انتخابات میں خاصی پزیرائی ملی اور اس نے 63قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی تھیں۔2013ء کے انتخابات میں جماعت اسلامی نے کے پی میں تحریک انصاف کیساتھ مل کر الیکشن لڑے اور حکومت میں شامل ہوگئی جبکہ مولانا فضل الرحمن کی جماعت ن لیگ کی حلیف بن

کر حکومت میںآگئی ،اس وقت چند ایک ایشوز کی آڑ میں اس اتحاد کی دوبارہ بحالی کیلئے کوششیں شروع ہوئی ہیں، دو مہینے پہلے اسلام آباد میں اکرم درّانی کے گھر پر اس کا پہلا اجلاس ہوا پھر اب منصورہ میں دوسرے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ دسمبر 2017ء میں کراچی میں جمعیت العلمائے پاکستان کے رہنما انس نورانی کے گھر اجلاس میں باقاعدہ بحالی کا اعلان کیا جائیگا ۔ اس کا منشور بھی وہی ہوگا، البتہ انتخابی منشور کیلئے پانچ رکنی اسٹیرنگ کمیٹی بنائی گئی ۔ لیکن لگتا ہے کہ الیکشن سے پہلے ہی اس کی بحالی کھٹائی میں پڑ جائیگی کیونکہ بہت سی جماعتوں نے اپنے تحفظات کیساتھ مشروط بحالی پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ جمعیت العلمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا ہے کہ جمعیت اپنی مرکزی شوریٰ ، مجلس عاملہ اور دفاع کونسل میں شامل جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی حتمی فیصلہ کریگی۔ اسی طرح اگر یہ اتحاد بحال کرنا ہے تو اس سے پہلے جماعت اسلامی اور جمعیت العلمائے اسلام (ف )کو حکومت اور اپنے اتحادیوں سے الگ ہونا پڑیگا ۔ جبکہ ساجد میر کی مرکزی جمعیت الحدیث ،سیاسی اتحاد فی الحال ختم کرنے کے موڈ میں نہیں وہ تو خود سینیٹر بھی ن لیگ کی سیٹ پر منتخب ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مجلس عمل میں وسعت لاتے ہوئے دیگر جماعتوں ، اہلسنت و الجماعت ، ملی مسلم لیگ ، تنظیم اسلامی اور تحریک لبیک یارسول اللہ کے اتحاد میں شامل کرنے کا خواب دم توڑ رہا ہے ۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا ہے کہ ہم انس نورانی سے پوچھیں گے ۔
ہم نے تو 20نومبر کو اسلام آباد میںاجلاس بلایا ہے جس میںتحریک لبیک یا رسو ل اللہ کے دونوں گروپوں ، ڈاکٹر طاہر القادری کے علاوہ تما م بریلوی مکتبہ فکر کی جماعتیں شامل ہونگیں ۔ جمعیت العلمائے پاکستان نے عاملہ کی شوریٰ میں فیصلہ کیا ہے کہ ایم ایم اے کا حصہ نہیںبننا کیونکہ وہ دراصل نواز لیگ کو مضبوط کرنے کااتحاد ہے ۔ جمعیت العلمائے اسلام (ف) کو مبینہ طور پر صرف اپنے مفادات پیش نظر ہیں وہ ایک تو ن لیگ پر فاٹا کے حوالے سے دبائو ڈالنا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں اچھی بارگین ہو سکے ۔ دوسری طرف وہ جماعت اسلامی کو ساتھ ملا کر کے پی کے میں تحریک انصاف کو ٹف ٹائم دینا چاہتی ہے ۔ اس صورتحال میں دینی قوتوں کا کسی ایک نکاتی ایجنڈے کیلئے وقتی طور پر اکٹھاہونا تو ممکن ہوسکتا ہے مگر سب کو ملا کر ایک اتحاد بنانا بہت مشکل ہے کیونکہ میں نے خود قاضی حسین احمد ( مرحوم) سے سنا تھا کہ مولانا فضل الرحمن نے اپنے مفادات کیلئے متحدہ مجلس عمل کو سبوتاژ کیا تھا۔
اس تحاد کی بحالی کے اصولی فیصلے کے ایک دن بعد اچانک سابق جنرل ( ر) پرویز مشرف کی سربراہی میں 23جماعتی اتحاد کا اعلان کیا گیا اور کہا گیا کہ ملک میں بہت زیادہ سیاسی خلا ہے اسکو پُر کرنے کیلئے ’’پاکستان عوامی اتحاد ‘‘ کے نام سے اکٹھی ہوئی ہیں۔گو اس ا تحاد کے دوسرے روز ہی مجلس وحدت المسلمین ، عوامی اتحاد اور سُنی اتحاد کونسل نے لاتعلقی کااعلان کیا اور جنرل مشرف کے حوالے سے یہ جو باتیںگردش کرتی رہیں کہ تمام ایم کیو ایم کو ملا کر ایک نئی جماعت بنائی جارہی ہے ، وہ اسکے سربراہ ہونگے لیکن جنرل مشرف نے اپنے ایک وڈیو پیغام میں تردید کر دی کہ میری سوچ علاقائی اور لسانی نہیںبلکہ قومی سطح کی ہے ۔ مجھے ایم کیو ایم سے کوئی ہمدردی نہیں البتہ مہاجروں سے ہے اور اگر ایم کیو ایم اور پی ایس پی اس اتحاد کو جائن کرنا چاہتی ہیں تو آجائیں ، بحرحال اس وقت اسٹیبلشمنٹ کے کردار کے حوالے سے جس طرح کی خبریں آرہی ہیں ممکن ہے اگر آئندہ الیکشن ہوئے تو یہ 23جماعتی اتحاد جنکے پاس فی الحال چند سیٹوں کے بھی ووٹ نہیں دیگر جماعتوں کو ملا کر 2002ء کی طرح کا حکمران اتحاد بن جائے۔
اتحادوں کی سیاست میں ایک ’’ڈرامہ ٹو‘‘ بھی اچانک ’’ پلے ‘‘ ہو چکا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی کے سربراہوں،فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے مشترکہ پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا کہ آئندہ الیکشن میں دونوں مل کر ایک نام ، ایک نشان ، ایک منشور کے تحت حصہ لیں گے۔ یہ پریس کانفرنس ٹیلی کاسٹ ہونے کے بعد میڈیا کو ایک نیا کھیل مل گیا اورالزامات اور تردیدیں دونوں طرف سے آتی رہیں، آخر کار 24گھنٹے بعد فاروق ستار نے اپنے قائد کی طرح دو ڈھائی گھنٹے کی پریس کانفرنس کم تقریر کی اور آخری منٹوں میں ایم کیو ایم اور سیاست کو چھوڑنے کا ڈرامائی اعلان کر دیا اورپھر اپنے قائد کی پیروی کرتے ہوئے ایک گھنٹے بعد واپس سیاست اور قیادت میں آگئے ، جبکہ مصطفیٰ کمال نے ایک دن بعد پریس کانفرنس میں یہ انکشاف کیا کہ ہم گزشتہ آٹھ مہینے سے آپس میں رابطے میں تھے اور ہمیں اسٹیبلشمنٹ نے اکٹھا ہونے کا کہا ،انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطے کوئی غلط بات نہیں، انہوں نے اپنے کارکنوں کو چھڑانا ہے، وہ ہمارے نظام کا حصہ ہیں اور فاروق ستار نے اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے ہی ہمیں بلوایا تھا ۔ ہم نے تو عدم تصادم کیلئے ایسا کیاہے—گو وقتی طور پر یہ اتحاد یاانضمام ختم ہوگیا اور مختلف تبصرے سامنے آئے کہ اسٹیبلشمنٹ پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے ۔ لیکن ایک دن بعد ڈی جی رینجرز نے ایک پریس کانفرنس میں واضح کر دیا کہ ایجنسیوں اور سیاسی جماعتوں کی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہیں اور کراچی آپریشن کے حوالے سے یہ جاری ہیں۔ ہم تو کراچی کے امن کیلئے انکو تشدد کی سیاست چھوڑکر امن کیلئے کام کرنے کا کہہ رہے ہیں ۔ انکا آپس میں انضمام ہو یا اتحاد مگر دونوں گروپس میں کسی قسم کا تصادم نہیں ہونا چاہئے ۔ یہی کراچی کے پُرسکون ماحول کیلئے ضروری ہے، بلکہ اسطرح کی خبریں بھی ہیں کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کے بعض لوگوں کے لندن سے اسی طرح رابطے قائم ہیں اور وہ کراچی میں امن نہیں چاہتے ،اسلئے اتفاق کرنے کے بعد اب اسے سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب ان دونوں گروپوں کے درمیان تصادم ہو گا تو آئندہ الیکشن میں ایک تیسرا گروپ کراچی کی سیاست کررہا ہوگا۔ دیکھتے ہیں آنیوالے دنوں میں اتحاد اتحاد کیسے کھیلا جاتا ہے اور دعا کرتے ہیں کہ اگر کوئی نیا اتحاد بنے تو ملکی سلامتی اور خوشحالی کیلئے ہو ،تاکہ ذاتی مفادات کیلئے عوام کو بیوقوف نہ بنایا جا سکے!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں