آج کل موسم ایسا میٹھا میٹھا سا ہے کہ لان سے اٹھنے کو جی نہیں چاہتا سو رنگلی چارپائی ڈال کردھوپ چھاؤں کے ساتھ آنکھ مچولی میں مصروف رہتا ہوں۔ زیادہ دیر دھوپ میں بیٹھو تو گرمی سی لگنے لگتی ہے اور چھاؤں میں خنکی سی محسوس ہونے لگتی ہے۔ سو دن بھر چارپائی آگے پیچھے ہوتی رہتی ہے۔ اس موسم بارے دیہاتوں میں یہ پنجابی اکھان بہت مقبول ہے کہ بہارمیں تو بندہ بھی کاٹ کر زمین میں دبا دیا جائے تو دنوں میں ”اُگ“ جاتا ہے۔ پھل دار بالخصوص ترش پھلوں والے پودے خوب پھول اٹھا رہے ہیں۔ مالٹے، کینو، چکوترے اور سنگترے کے پودے سفید پھولوں سے بھرتے جارہے ہیں اور ”سٹ رس“ کے ان پھولوں کی خوشبو اتنی طلسمی اور ہوشربا ہے کہ لفظوں میں بیان نہیں ہوسکتی۔ اس خوشبو میں سنگترے اور مالٹے کا رس گھلا ہوتاہے۔ آلوچے کے پودے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ ان پر بھی ابھی برف گری ہے۔مالیوں کی بھی اپنی ہی لغت ہوتی ہے۔ مہندی کے پتلے پتلے لمبے لمبے پودوں کو دیکھ کر خوشی سے چہچہایا… ”لو جی مہندیوں نے بھی آنکھیں نکالنا شروع کر دی ہیں“ مطلب یہ کہ کونپلیں پھوٹنے لگی ہے۔ انجیر کے پودے بالکل گنجے منجے ٹنڈ منڈ سے ہوچکے تھے لیکن اب تیزی سے نرم چمکدار سبز پتے طلوع ہو رہے ہیں۔ انجیر کا پھل تو جو ہے سو ہے ہی اس کے بارے میں راز کی بات بتاؤں کہ اسے توڑنے سے جو ”دودھ“ سا نکلتا ہے، اگر اسے گائے، بھینس، بکری کے دودھ میں ڈال دیا جائے تو وہ فوراً دہی میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ کیکرکے چند درخت ہم نے بڑی محبت سے لگوائے تھے جو اب لڑکپن کی حدود سے نکل کر جوانی کے عہد میں داخل ہوچکے ہیں۔ کیکر اس دھرتی کا سگابیٹا ہے۔ ورنہ آج کل تو ہر جگہ امپورٹڈ Fast Growing درختوں کا رواج ہے۔ کیکر بہت پراسرار درخت ہے۔ برصغیر میں صدیوں اس کی چھال سے شراب بنائی جاتی رہی اور ہمارے دیہاتوں میں یہ رواج آج بھی بہت عام ہے۔ کم لوگوں کو علم ہوگا کہ برصغیر میں چائے متعارق ہونے سے پہلے ہمارے دیہاتوں میں کیکر کے گودے کا گلابی سا قہوہ بہت مقبول تھا۔ کیکر کی پھلیاں جب کچی کچی اوربے حد نرم ہوں تو انہیں گوشت، قیمے وغیرہ کے ساتھ پکایا بھی جاتا ہے، چاہیں توسادہ پھلیوں کا سالن بنا لیں اورکمال یہ کہ ان کے کھانے سے ریشہ بالکل ختم ہو جاتا ہے اور جوڑو ں کے درد میں بھی اکسیر۔ کیکر کی پھلیاں پکنے سے پہلے ان کا ایسالاجواب اچار تیار کیا جاسکتاہے جو دواکی دوا اور غذا کی غذا لیکن افسوس اب تودیہاتوں میں بھی وہ لوگ خال خال ہی ملتے ہیں جنہیں کیکر کی پھلیوں کا اچار بنانا آتا ہو۔ کیکر کو سونا رنگے گہرے پیلے رنگ کے لونگ نما پھول بھی لگتے ہیں اور جب ان پیلے پیلے پھولوں کی سبز رنگ کی گھاس پر برسات ہوتی ہے تو اس منظر سے آنکھیں اٹھانے کو جی نہیں چاہتا… گہری سبز گھاس پر گہرے پیلے رنگ کے نازک پھولوں کاچھٹا دیکھ کر اکثر سوچتاہوں کاش مصور ہوتا تو اسے کینوس پرتصویر کرتا۔ کیکر بہت سے پرندوں کابھی فیورٹ درخت ہے کیونکہ اس میں گھونسلہ بنانابہت محفوظ رہتا ہے۔ کانٹوں کی وجہ سے بہت سے ”انڈے خور“ادھر کا رخ نہیں کرتے۔ کیکر کے حوالہ سے پنجابی زبان کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔
نیچاں دی اشنائی کولوں فیض کسے ناں پایا
ککر تے انگور چڑھایا ہر گچھا زخمایا
سچ یہ کہ سمبالک یعنی علامتی سی بات ہے ورنہ کیکر پر انگور چڑھا بھی دیں تو یہ درویش قسم کا درخت اسے کچھ نہ کہے گا کہ میرا ذاتی تجربہ ہے اور اگر کوئی یہ سمجھے کہ میں کیکر کے لئے ”آؤٹ آف دی وے“ جارہا ہوں تو مجھے یہ الزام بھی قبول ہے کیونکہ میں برصغیر پاک و ہندکے روایتی درختوں کے بارے واقعی متعصب ہوں اور ان کی محبت کا اسیربھی۔ یہ کیکر، یہ پیپل یہ برگد، یہ شرینہد مجھے بہت پیارے اور عزیز ہیں، ان کا میرا صدیوں پرانا رشتہ ہے… نیم، بکائن اور دھریک میری زمین کا زیور ہیں اور میں تو ٹاہلیوں یعنی شیشم کے بارے بھی بہت جذباتی ہوں حالانکہ شیشم سنٹرل ایشیا کا تحفہ ہے لیکن اب تو یہ شیشم، یہ ٹاہلیاں بھی میری اپنی ہی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ٹاہلیوں پر کسی ایسے وائرس کا حملہ ہوا کہ بربادی مچ گئی۔ تب میں نے اس سلسلے میں کہاں کہاں رابطے نہ کئے۔ اللہ کا شکر ہے معاملہ سنبھل گیا ورنہ آج ہمارے لان میں اتنی حسین ٹاہلیاں نہ ہوتیں۔ کچھ عرصہ پہلے میاں شہباز شریف کے ساتھ ایک ون اون ون میٹنگ میں، میں نے کہا کہ ”سرو“ جیسے آرائشی پودوں کی بجائے خوبصورت عالیشان اورگھنے درخت لگوائیں۔ میاں صاحب نے اسی وقت PHA کے باس سے بات کرائی جو خود اپنے کام سے عشق میں مبتلا آدمی ہے… پھرگھنے درختوں کی قطاریں اور بہاریں لگ گئیں۔ جب یہ درخت جوان ہوں گے تو ان کے سایوں سے گزرنے والوں کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ یہ سب کچھ کس کی فرمائش پر کس وزیراعلیٰ نے کس کے ذریعے کرایا تھا۔ چلواسی بہانے میاں شہباز شریف کا شکریہ بھی ادا کردیں کہ میں توماڈل ٹاؤن کے قدیم درختوں کے نیچے اکثرگاڑی روک کر ان اجنبی اور گمنام لوگوں کے لئے باقاعدہ دعا کرتا ہوں جنہوں نے تقریباً سو سال قبل یہ درخت لگائے۔
درخت لگایاکریں
درخت بچایا کریں
آقا کا فرمان ہے کہ ”درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے“ (مفہوم)
اور چلتے چلتے ایک دو باتوں کی وضاحت کہ ہم اپنے گھر میں لگائے گئے مہندی کے پودوں کو افقی طور پر ”چھانگتے“ رہتے ہیں تاکہ وہ دائیں بائیں پھیلنے کی بجائے اوپر کی طرف جائیں۔ مہندی کاپودا جب بہت اونچا ہوجائے تو تیز ہوا کے چلنے پر کیسے سجدہ ریز ہو کر پھر آہستہ آہستہ سیدھا کھڑا ہوتاہے؟ وہی جان سکتا ہے جس نے یہ منظر دیکھا ہو۔
میں سیاست گزیدہ لوگوں سے معذرت خواہ ہوں کہ ایک پینڈو اورگنوار کی طرح انہیں بہارمیں گھسیٹ لایا کہ یہی میرا ”اندر“ اور ”اصل“ ہے… بازاراب مجھ سے برداشت نہیں ہوتے اورباغبانی سے یہ بھی سیکھا کہ جب کسی پودے کو کمزور سمجھ کر اسے ”ٹیک“ یا ”سہارا“ دیا جائے تو حیرت انگیز طور پر وہ پودا ”سہارے“ یا ”سپورٹ“ کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا اس کے لئے بہت مشکل ہوجاتا ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے مداد، قرضوں اور گرانٹوں کے عادی ملک اپنے پاؤں پر کھڑے نہیں ہوسکتے کہ بھیک کے عادی ہوچکے ہوتے ہیں۔