• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیت اللہ کا احترام اور تقدس تحریر:خالد پرویز …برمنگھم

حرمین شریفین میں حاضری کے سفر کیلئے سعودی ائر لائن کا طیارہ لندن کی فضائوں میں بلند ہورہا تھا اور شام کے دھندلکوں میں اس وقت رب کعبہ کے حضور تشکر کے جذبات اور زبان پر لبیک کا ترانہ تھا۔ جدہ پہنچ کر ائر پورٹ سے نکل کر گاڑی میں سامان رکھا اور ایک بار پھر لبیک کی صدائیں بلند کرتے مکہ المکرمہ کے جانے پہچانے راستوں پر رواں دواں تھا اور پھر گھنٹہ بھر کی مسافت کے بعد روئے زمین پر سب سے زیادہ عزت و بزرگی، جلالت اور عظمت والے ایک ایسے مقدس شہر میں داخل ہورہا تھا کہ جس کی قسمیں رب کعبہ نے اپنے مقدس کلام قرآن مجید میں اٹھائیں۔ اس شہر کی عظمت و تقدس کا کوئی کیونکر اندازہ کرسکتا ہے کہ جس میں اللہ کا گھر ہو۔ جسے اللہ بلد الحرام سے پکارے۔ جو وحی اور فرشتوں کے نزول کا مرکز ہو اور جو انبیا اور اولیا کا ٹھکانہ ہو۔ ہوٹل پہنچ کر سامان رکھا اور تھوڑی دیر میں جب مسجد حرام میں داخل ہوا تو نظریں جھکائے ہوئے تھا تاکہ جب کعبتہ اللہ سامنے آجائے تو اس پہلی نظر میں آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے جو دعا مانگ سکتا ہوں، مانگ لوں، کیونکہ یہ دعا کی قبولیت کی گھڑی ہوتی ہے اور پھر چند لمحوں میں بزرگی اور عظمت والا اللہ کا گھر پوری شان و شوکت اور جلالت کے ساتھ میرے سامنے تھا۔ جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے یعنی طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس طواف کے دو نفل پڑھے اور زم زم پیا۔ تو اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیں گے اور یہ کہ ستر ہزار فرشتوں نے کعبہ کو گھر رکھا ہے وہ فرشتے طواف کرنے والوں کے لیے دعا و مغفرت کرتے رہتے ہیں۔اشکبار آنکھوں سے حجر اسود والے کونے پر پہنچ کر تلبیہ کہنا بند کیا۔ طواف کعبہ کی نیت کی ’’کہ اے رب کعبہ آپ کے اس مقدس گھر کے سات چکروں کی نیت کرتا ہوں۔ ان کو قبول فرما کر میرے لیے آسان فرما دے۔‘‘ اس کے ساتھ اللہ کی بزرگی اور بڑھائی بیان کرتے ہوئے حضرت آدم علیہ السلام، حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بے شمار دوسرے انبیا علیہ السلام کے نقش پا پر چلتے ہوئے کرہ ارض پر اس مقدس ترین مقام کعبتہ اللہ کے طواف کا آغاز کیا۔ چند قدم ہی اٹھائے ہوں گے کہ بیت اللہ کے دروازے کے عین نیچے سے میوزک بجنے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ شاید کسی کے موبائل فون سے میوزک بج رہا تھا۔ میں پریشان ہو چلا کہ اب اس مقدس ترین اللہ کے گھر میں بھی مندروں کی طرح میوزک اور گھنٹیاں بجا کریں گی؟ اسی کیفیت میں قدم اٹھاتا حطیم کے دوسرے سرے پر پہنچا تو میری پریشانی اور بڑھ گئی… کہ میرے سامنے والا شخص اپنا موبائل فون کانوں سے لگائے کسی سے خوش گپیوں میں مصروف تھا اور اس سے بے نیاز تھا کہ وہ کعبتہ اللہ کا طواف کررہا ہے۔ چکر مکمل ہونے کو تھا۔ حجر اسود والے کونے پر پہنچا۔ استلام کے لیے ہاتھ بلند کرتے کرتے میں رک سا گیا۔ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر ایک خاتون پوز بنا رہی تھی اور اس کا ساتھی مرد اس کی تصویریں اور ویڈیو بنا رہا تھا۔ میں نے اپنے اردگرد نظر دوڑائی تو خوفزدہ سا ہو چلا۔ بہت سارے اور بھی لوگ بے خوف و خطر ان مشاغل میں مصروف تھے۔ سوچنے لگا، عازمین کے روپ میں یہ سیاح کہاں سے آگئے ہیں؟ یہ سیرو سیاحت کی جگہ تو نہیں… یہ اللہ کا مقدس گھر ہے۔ یہاں اس کی نشانیاں ہیں۔ جن کا احترام و تقدس ہمارے ایمان کا بنیادی جز ہے۔ پھر یہ لوگ بغیر کسی خوف و خطر کرہ ارض کے اس مقدس ترین مقام کے تقدس کو کیوں پامال کررہے ہیں؟عجزو انکساری اور احترام و تقدس کے جذبات سے عاری۔ ویڈیوز، تصویروں اور موبائلز پر دوسرے سے گپیں لگاکر اپنا وقت برباد کرنے والے اور دوسروں کی عبادت میں خلل ڈالنے والے کیا نہیں جانتے کہ حرم کا ایک ایک لمحہ ان کی زندگی کا انتہائی قیمتی لمحہ ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’تعظیم و تکریم کی نگاہ سے ایمان و تصدیق کے ساتھ اللہ اور اس کے رسولؐ کی رضا جوئی کے لیے کعبہ کو دیکھنے کا ایک لمحہ کا ثواب حج و عمرہ کے برابر ہے۔ ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ مسجد حرام میں ایک نماز ادا کرنے کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔‘‘ بلکہ حرم میں کی جانے والی ہر اک نیکی اور عبادت کا ثواب لاکھ گنا زیادہ ملتا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی مت بھولیں کہ ہر گناہ کا وبال بھی اسی حساب سے ہوگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ دن رات میں ایک سو بیس رحمتیں کعبہ شریف پر نازل فرماتے ہیں۔ جن میں ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے چالیس نماز پڑھنے اور بیس ان کے لیے جو صرف کعبہ کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو منور کرتے رہتے ہیں۔ کعبتہ اللہ اور یہاں موجود مقام ابراہیم، صفا، مروہ کو اللہ نے اپنی نشانیاں قرار دیا ہے اور اپنے اس مقدس گھر کو خیر و برکت اور تمام جہاں والوں کے لیے ہدایت کا مرکز قرار دیا ہے۔ لیکن اب یہاں نمازوں اور عبادات کے دوران موبائلز فون سے بجنے والے میوزک اور گھنٹیاں لازم و ملزوم ہوتے جارہے ہیں۔ کعبتہ اللہ میں اپنی حاضری کے اصل مقاصد کو فراموش کرکے ویڈیوز، کیمروں اور موبائلز فونز سے لیس عازمین کے روپ میں سیرو سیاحت کیلئے آنے والے یہ سیاح اللہ کے مقدس گھر اس کی نشانیوں کے احترام و تقدس کو پامال کرکے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کھلم کھلا سرکشی کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ حضرت صالح علیہ السلام کی سرکش قوم نے ان سے مطالبہ کیا کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے رب کی کوئی نشانی دکھائو۔ جس سے ہمیں تمہاری بات کا یقین ہوجائے اور تم پر ایمان لے آئیں۔ حضرت صالح علیہ السلام نے بارگاہ الٰہی میں دعا فرمائی اور پہاڑ کی چٹان سے ایک اونٹنی کا ظہور ہوگیا۔ اللہ کے پیغمبر نے اپنی قوم کو خبردار کیا کہ یہ اونٹنی اللہ کی نشانی ہے۔ اس کے تقدس و احترام میں کوئی کمی نہ آئے۔ نہ ہی اسے کوئی تکلیف پہنچے، وگرنہ تمہاری خیر نہ ہوگی۔ قوم ثمود کچھ عرصہ تو اس کا احترام کرتے رہے لیکن بالآخر ایک روز ان سرکش بدبختوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا حضرت صالح علیہ السلام کو خبر ہوئی تو گھبرائے اور فرمایا۔ اے بدبخت قوم اب خدا کے عذاب کا انتظار کر، جو تمہیں تباہ و برباد کردے گا۔ آخر تیسرے روز وہ وقت آن پہنچا۔ رات کے وقت بجلی کی چمک و کڑک سے دہشت پھیل گئی اور اس کے بعد ایک ہیبت ناک چیخ کی آواز سے ان کے کلیجے اور پہاڑ پھٹ گئے اور سب کے سب تہس نہس ہوگئے۔ اللہ کی نشانی کے تقدس و احترام کو پامال کرنے کے نتیجہ میں یہ لوگ نشان عبرت بنا دئیے گئے، مدینہ منورہ سے تقریباً 400 کلو میٹر شمال میں تبوک کے راستے پر واقع قوم ثمود کی بستیوں میں چند برس پہلے اس قوم کی سرکشیوں پر ان کے اس خوفناک انجام کا مشاہدہ میں نے بڑے قریب سے کیا تھا۔ اے حرم مکہ اور حرم مدینہ کی سیرو سیاحت اور اس کے تقدس و احترام کو پامال کرنے والو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنبیہ اور ارشاد بھی سن لو کہ جس میں آپؐ نے بھی خبردار کیا ہے کہ ’’میری امت جب تک اس حرم مقدس کا پورا احترام کرتی رہے گی اور اس کی حرمت و تعظیم کا حق ادا کرے گی۔ خیریت سے رہے گی اور جب اس میں یہ بات نہیں رہے گی تو پھر برباد ہوجائے گی۔‘‘ حرم کے باہر بلند و بالا ہوٹلز کی عمارتوں کے درمیان کھڑے کھڑے میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کے دیکھا، لیکن زر و دولت کی چمک دمک نے میری آنکھوں کو خیرہ کردیا اور اس کا ایک مضبوط پردہ میرے اور آسمان کے درمیان حائل تھا اور میں قوم عود کی بستیوں کی فضائوںسے کڑک، چمک اور دہشت ناک آواز کو لیے سیاہ بادلوں کو دھیرے دھیرے بڑھتے ہوئے نہیں دیکھ پایا، لیکن یہ انہونی ہوکر رہے گی کہ یہی میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔

تازہ ترین