• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکیم محمد سعید ۔ فقیدالمثال محبّ وطن...سحر ہونے تک…ڈاکٹر عبدالقدیرخان

مشرف کی بدمعاشی سے پہلے میں کئی برس ہمدرد یونیورسٹی کراچی کے بورڈ آف گورنرز کا ممبر تھا۔ مجھے اس فقیدالمثال محب وطن و فرشتہ خصلت شخصیت شہید حکیم محمد سعید نے بذات خود اس اعلیٰ تعلیمی ادارے میں شرکت کی دعوت دی تھی۔ یہ سلسلہ کئی برس جاری رہا اور پھر مشرف کی بدمعاشی کے بعد معطل ہوگیا۔ نائن الیون کے بعد اپنا اقتدار قائم رکھنے کے لئے مشرف کچھ بھی کرنے کو تیار تھا اور اس نے ملک کو امریکہ کو چند ڈالر میں بیچ دیا تھا۔ مجھے ہمدرد یونیورسٹی جانے اور ان میٹنگز میں شرکت کرکے بے حد خوشی ہوتی تھی۔ نہ صرف ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے کو پھلتا پھولتا دیکھتا تھا بلکہ حکیم صاحب اور دوسرے تعلیمی ماہرین اور دوستوں سے ملاقات بھی ہوجاتی تھی۔ ہمدرد یونیورسٹی حب ڈیم کے قریب سندھ اور بلوچستان کی سرحد پر مدینة الحکمہ میں قائم ہے۔ اسکی خوبصورت عمارتیں، سرسبز و شاداب لان، پھولوں سے بھری کیاریاں، لاتعداد پھلوں کے اور دوسرے درخت موجود تھے۔ ہر پتھر، ہر پودا حکیم صاحب کی دور بینی کی عکاسی کرتا ہے۔ میں وہاں ایک نہایت خوبصورت چھوٹا سا لان دیکھ کر حیران رہ گیا جس پر ایک کتبہ لگا ہوا تھا کہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے اُن کی بیگم کے اور ان کی بیٹی کے اجزا رنگون سے منگوا کر یہاں ان کی دوبارہ تدفین کی جائے گی۔ اُنہوں نے حکومت پاکستان پر بہت زور ڈالا تھا کہ وہ سرکاری طور پر یہ معاملہ برما کی حکومت سے طے کرے مگر بدقسمتی سے ان کو کامیابی نہیں ہوئی مگر آپ ان کی مسلمانوں سے محبت اور جذبہ دیکھئے۔
یہاں میں آپ کو اس سلسلہ میں ایک اہم واقعہ بتانا چاہتا ہوں۔ نوّے کے عشرے میں ایک عزیز پرانے دوست ایئر وائس مارشل عبّاس مرزا برما میں سفیر تھے اور مجھ سے رابطہ میں تھے ایک روز اُنہوں نے بتایا کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا مزار خستہ حالت میں تھا اور اسکی مرمت ضروری تھی اور کچھ اور کام یعنی لائبریری بھی بنوانا تھی۔ برمی حکومت یہ کام کرنے سے قاصر تھی اور کیا میں کچھ مدد کرسکتا ہوں۔ میں نے ان سے تخمینہ لگواکر بھجوانے کو کہا۔ چند دن بعد انہوں نے تقشہ جات بمعہ تخمینہ بھجوادیئے۔ تمام کام پر اکیس ہزار ڈالر لاگت آنا تھی۔ میں نے دوبئی میں اپنے عزیز دوستوں حاجی عبدالرزّاق، مرحوم میاں فاروق، کیپٹن غوث چوہدری سے ذکر کیا اور ایک ہی دن میں یہ رقم جمع ہوگئی اور میں نے اس میں کچھ اور رقم ملا کر فوراً پچیس ہزار ڈالر اےئر مارشل عباس مرزا کو بنک کے ذریعہ بھجوا دیئے۔ چند ماہ میں وہ کام مکمل ہو گیا اور مرزا صاحب نے مجھے تصاویر بھجوادیں۔ کام بہت اچھے طریقہ سے کیا گیا تھا اور ایک اچھی لائبریری بھی قائم کردی گئی تھی۔ ہمیں علم ہے کہ بہادر شاہ ظفر ایک اچھے شاعر تھے ان کا ضخیم دیوان موجود ہے۔ وہ غالب# سے اصلاح لیتے تھے۔ ان کا یہ دردناک شعر آج بھی دل میں نشتر کی طرح چبھتا ہے۔
کتنا ہے بدنصیب ظفر# دفن کے لئے
دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں
بہرحال حکیم صاحب نے مدینة الحکمہ میں ظفر# کے لئے ایک جگہ مخصوص کرکے اس آخری مغل بادشاہ سے اپنی محبت کا بے پناہ اِظہار کیا تھا۔ مجھے حکیم صاحب کے طویل اور عزیز دوست ہونے پر فخر ہے۔ وہ جب بھی راولپنڈی مریضوں کو دیکھنے کے لئے تشریف لاتے تھے تو ہمارے ایک نہایت عزیز مشترکہ دوست پروفیسر ڈاکٹر مصباح الدین شامی کے ساتھ میرے پاس ضرور تشریف لاتے تھے اور ہم تعلیم، سائنس وٹیکنالوجی پر تبادلہ خیال کرتے تھے۔ میرے تعلقات پروفیسر شامی سے تقریباً بیس سال سے زیادہ سے ہیں۔ وہ پہلے پاکستان اکیڈمی آف سائنسزکے صدر تھے بعد میں چھ سال تک میں صدر رہا اور شامی صاحب سیکرٹری جنرل۔ ہم نے اسلامک اکیڈمی آف سائنسز کی غیر ملکی کانفرنسوں میں ہمیشہ ساتھ ہی جاکر شرکت کی۔ وہ آجکل اس اکیڈمی کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔
میں آج کا یہ کالم شہید حکیم محمد سعید کی شخصیت پر لکھ رہا ہوں جو ایک دیو ہیکل محب وطن، ایک فقیدالمثال انسانیت کے ہمدرد، تعلیم کے علمبردار اور پاکستان طبّی علاج کے بانی تھے۔ دراصل چند دن پیشتر میں ہمدرد یونیورسٹی میں بورڈ کی میٹنگ میں شرکت کرنے گیا تو میں نے اتنے طویل عرصہ کے بعد یونیورسٹی کا دورہ بھی کیا۔ مجھے اس کی ترقی دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ میں نے ایڈمن بلڈنگ کا ایک مخصوص حصّہ بھی دیکھا جو شہید حکیم صاحب کی زندگی سے متعلق وقف ہے اس میں اُن کے لاتعداد فوٹو، ذاتی استعمال کی چیزیں، فرش پر بیٹھ کر کام کرنے کی جگہ، کپڑے، جوتے، قلم سب کچھ موجود ہے۔ اپنے جذبات پر قابو پانا مشکل تھا۔ میری نگاہوں میں تمام پچھلی ملاقاتیں گھوم گئیں۔ حکیم صاحب نہایت خوبصورت دراز قد شخصیت کے مالک تھے ، رنگ گورا اور ہمیشہ صاف شفاف سفید کپڑے پہنتے تھے۔ شیروانی اور جوتے تک بغیر داغ کے سفید ہوتے تھے۔ یہ تمام سامان وہاں موجود تھا۔ وہ کپڑے بھی وہاں موجود ہیں جو حکیم صاحب شہادت کے وقت پہنے ہوئے تھے۔
یہ نہایت مشکل ہے بلکہ نا ممکن ہے کہ ایک چھوٹے سے کالم میں اتنی بڑی شخصیت کے تمام پہلوؤں پر روشنی ڈالی جاسکے۔ میں پھر بھی کوشش کر رہا ہوں کہ اس فرشتہ خصلت، مومن، مجاہد کی زندگی کے بارے میں کچھ تحریر کروں۔
شہید حکیم محمد سعید 9جنوری 1920 کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے اور ان کو بربریت سے 17 اکتوبر1998 کو کراچی میں شہید کردیا گیا جبکہ وہ اپنے دواخانہ جارہے تھے۔ وہ مشہور زمانہ جناب حکیم عبدالمجید بانی ہمدرد دواخانہ کے صاحبزادے تھے۔ حکیم صاحب نے مشرقی ادویات میں دہلی سے گریجویشن 1940 میں کیا تھا اور بعد میں متبادل ادویات میں 1984 میں ڈی ایس سی یعنی ڈاکٹریٹ کی ڈگری عطا کی گئی تھی۔ حکیم صاحب 1948 میں ہجرت کرکے کراچی آگئے اور ہمدرد دواخانہ کی بنیاد ڈالی۔ 1953 میں انہوں نے اس کو عوامی خدمت کے لئے ایک وقف میں تبدیل کردیا۔ اس وقت ہمدرد لیبارٹریز دنیا کی نہایت بڑی قدرتی جڑی بوٹیوں سے بنانے والی دوائیوں کی فرموں میں شمار ہوتی ہیں۔حکیم صاحب 1979 سے 1982تک جنرل ضیا کے مشیر تھے اور پھر آپ 1993 میں گورنر سندھ کے عہدے پر فائز تھے۔ آپ کو لاتعداد قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا تھا ۔ ان میں سب سے افضل پاکستان کا اعلیٰ ترین اعزاز نشان امتیاز تھا۔
حکیم صاحب کی اعلیٰ شخصیت پر کچھ لکھنے سے یہ قلم قاصر ہے، وہی بات ہے کہ کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں اس کا اختتام مشکل ہے۔ میں ادارہ سعید کے دو ممتاز کارکنان جناب سید محمد یعقوب اور مادام ڈی سلوا کے لکھے گئے دو مضامین سے کچھ مواد مستعار لے رہا ہوں۔ حکیم صاحب ایک نہایت وسیع القلب، روشن مزاج شخصیت کے مالک تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کو نہایت اعلیٰ لاتعداد صلاحیتوں سے نوازا تھا۔(جاری ہے)

تازہ ترین