• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیرت النبیؐ کی روشنی میں عادلانہ معاشرے کا قیام تحریر:مفتی عبدالمجید ندیم…برمنگھم

نبی اکرم ﷺ کی بعثت کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اہم مقصد ایک عادلانہ معاشرے کا قیام تھا آپؐ نے اپنی 23سالہ عظیم الشان جدوجہد کے نتیجے میں ایسا معاشرہ قائم فرمایا جہاں پر عدل و مساوات عملی طور پر قائم ہوئے ۔عرب کا وہ قبائلی معاشرہ جو عدل و انصاف کے لیے ترس رہا تھا وہاں پر آپؐ نے ہر طرح کی اونچ نیچ کو ختم فرما دیا ۔سیرت کا یہ پہلو اتنا روشن ہے کہ کوئی بھی شخص اس کا انکار نہیں کرسکتا لیکن ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ آج یہی پہلو ہماری نگاہوں سے اوجھل ہے آج کے دور میں اسلام کے خلاف جو منفی پروپیگنڈہ ہو رہا ہے اس کا ایک اہم حصہ یہ بھی ہے کہ اسلام کی عادلانہ تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا جس کی وجہ اس کی اصل شکل کے مسخ ہو جانے کا شدید خطرہ ہے، یہی وجہ ہے کہ بحیثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے قول وعمل سے اس بات کو ثابت کریں کہ اسلام ہر زمانے میں عدل و انصاف کا سب سے بڑا علمبردار رہا ہے۔ اسلام کی ساری تعلیمات کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کے لیے ایسے معاشرے کے قیام کی جدوجہد کرتا ہے جس میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں تمام انبیاء کی بعثت کا مقصد ہی یہی بیان فرمایا ہے۔ سورہ حدید کی آیت نمبر26میں ارشادِ خداوندی ہے ’’ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا،اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اس کو دیکھے بغیراس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔(الحدید:26)
عدل و انصاف، کسی بھی معاشرے کے استحکام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ جو معاشرہ ظلم اور نا انصافی پر مبنی ہو وہ جلد یا بدیر صفحہ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے تمام مصلحین کی جدوجہد کا بنیادی نقطہ عدل و انصاف ہی رہا ہے۔ جہاں تک اسلام کے نظامِ حق کا تعلق ہے اس کی ساری جد و جہد ہی عدل و انصاف کے لیے ہے۔سورہ النحل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’ اللہ عدل و احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی وبے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق لو‘‘۔(النحل:90)
اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودیؒتحریر فرماتے ہیں’’اس مختصر سے فقرے میں تین چیزوں کا حکم دیا گیا ہے جن پر پورے انسانی معاشرے کی درستی کا انحصار ہے:۔پہلی چیز عدل ہے جس کا تصور دو مستقل حیثیتوں سے مرکب ہے۔ ایک یہ کہ لوگوں کے درمیان حقوق میں توازن اور تناسب قائم ہو۔ دوسرے یہ کہ ہر ایک کو اس کا حق بے لا گ طر یقہ سے دیا جا ئے۔ اردو زبان میں اس مفہوم کو لفظ انصاف سے ادا کیا جاتا ہے ،مگر یہ لفظ غلط فہمی پیدا کرنے والا ہے۔ اس سے خواہ مخواہ یہ تصور پیدا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کے درمیان حقوق کی تقسیم نصف نصف کی بنیاد پر ہو۔ اور پھر اسی سے عدل کے معنی مساویانہ تقسیم حقوق کے سمجھ لیے گئے ہیں جو سرا سر فطرت کے خلاف ہے۔ دراصل عدل جس چیز کا تقاضا کرتا ہے وہ توازن و تناسب ہے نہ کہ برابری۔ بعض حیثیتوں سے تو عدل بے شک افرادِ معا شرہ میں مساوات چاہتا ہے، مثلا حقوقِ شہریت میں۔ مگر بعض دوسری حیثیتوں سے مساوات بالکل خلافِ عدل ہے مثلاً والدین اور اولاد کے درمیان معاشرتی و اخلاقی مساوات، اوراعلیٰ درجے کی خدمات انجام دینے والوں اور کم درجے کی خدمت ادا کرنے والوں کے درمیان معاوضوں کی مساوات۔ پس اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم دیا ہے وہ حقوق میں مساوات نہیں بلکہ توازن و تناسب ہے، اور اس حکم کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کے اخلاقی، معاشرتی ،معا شی ،قانونی اور سیاسی و تمدنی حقوق پوری ایمان داری سے ادا کیے جا ئیں۔ دوسری چیز احسان ہے جس سے مراد نیک برتاؤ، فیاضانہ معاملہ، ہمدردانہ رویہ ،رواداری،خوش خلقی،درگزر،باہمی مراعات، ایک دوسرے کا پاس و لحاظ ،دوسرے کو اس کے حق سے زیادہ دینا،اور خود اپنے حق سے کچھ کم پرراضی ہو جا نا۔ یہ انصاف سے زائد ایک چیز ہے جس کی اہمیت اجتماعی زندگی میں عدل سے بھی زیادہ ہے۔عدل اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اسکا جمال اور اس کا کمال ہے۔ عدل اگر معاشرے کو نا گواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوش گواریاں اور شیرینیاں پیدا کرتا ہے۔ کوئی معاشرہ صرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کرکے دیکھتا رہے کہ اس کا کیا حق ہے اور اسے وصول کر کے چھوڑے، اور دوسرے کا کتنا حق ہے اور اسے بس اتنا ہی دے دے ۔ایسے ایک ٹھنڈے اور کُھرے معاشرے میں کشمکش تو نہ ہو گی، مگر محبت اور شکر گزاری اور عالیٰ ظرفی اور ایثار اور اخلاص و خیر خواہی کی قدروں سے وہ محروم رہے گا جو دراصل زندگی میں لطف و حلاوت پیدا کرنے والی اور اجتماعی محاسن کو نشو نما دینے والی قدریں ہیں۔ تیسری چیزجس کا حکم دیا گیا ،صلہ رحمی ہے جو رشتہ داروں کے معاملے میں احسان کی ایک خاص صورت متعین کرتی ہے۔اس کا مطلب صرف یہی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے بلکہ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنے مال پر صرف اپنی ذات اور اپنے بال بچوں ہی کے حقوق نہ سمجھے بلکہ اپنے رشتہ داروں کے حقوق بھی تسلیم کرے۔ شریعتِ الٰہی ہر خاندان کے خوشحال افراد کو اس امرکا ذمہ دار قرار دیتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کے لوگوں کو بھوکا ننگا نہ چھوڑیں۔(تفہیم القرآن)قرآنِ مجید کی آیات سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اس کائنات کا پورا نظام ہی عدل و انصاف پر قائم ہے تاریخِ انسانی میں بارہا ایسا ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وقی طور پر کفروشرک کو توبرداشت فرما لیا لیکن انہوں نے ظلم اور بے انصافی کو ایک لمحے کے لیے بھی برادشت نہیں کیا۔ تاریخ کے مختلف ادوار میں جو بھی ظلم کی روش کو اپنا کر انسانوں کے حقوق کی پامالی کا مرتکب ہوا اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنے عذاب کا وہ کوڑا برسایا کہ وہ ساری انسانیت کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا گیا۔ حضورﷺ کی سیرتِ طیبہ کا ایک ایک ورق انسانیت کو عدل و انصاف کے انہی معانی سے عملی طور پر آشنا کرتا ہے جن کی تشریح اوپر کی آیات میں گزر چکی ہے۔ حضورﷺ کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ آپؐ نے عرب کے ظلم و جبر کے معاشرے میں عدل و انصاف کی صدا بلند فرمائی اور ظلم کے نظام کے خاتمے لیے عملی جدوجہد برپا کی۔ آپؐ کی تئیس سالہ نبویانہ زندگی کا ہردن اسی جدوجہد کا آئینہ دار ہے۔ حضورﷺ نے نہ صرف یہ کہ دنیا کے سامنے عدل و انصاف کی اہمیت بیان فرمائی بلکہ مدینہ طیبہ کی اسلامی ریاست کو عملی طور پر قائم فرما کرعدل و انصاف کو بالا دستی عطا فرمائی۔عدل و انصاف کا یہی وہ نظام تھا جس نے کالے اور گورے ،عربی اور عجمی کو ایک ہی صف میں لا کر کھڑا کر دیا ۔جہاں امیروغریب کی تمیزمٹ گئی۔ یہ وہ معاشرہ تھا جس میں ہر ایک کو عدل وانصاف کے مطابق وہ سارے حقوق حاصل تھے جو ایک مہذب شہری کے لیے ضروری ہو تے ہیں ۔آج دنیا ایک دفعہ پھر ظلم کی چکی میں پس رہی ہے انسان نے جہاں سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں ترقی کی ہے وہیں پر وہ عدل و انصاف کی صلاحیتوں سے محروم ہوتا جا رہا ہے لہٰذا بحیثیت مسلمان ہماری یہ ذمہ داری ہے کہ ہم دنیا کے سامنے اسلام کی سچی تصویر پیش کریں۔برطانیہ میں بسنے والے مسلمانوں پر اس لحاظ سے کہیں زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کہ وہ یہاں کے رہنے والے غیر مسلموں کو اسلام کے عادلانہ نظام کے بارے میں آگاہ فرمائیں تب ہی ہم دنیا وآخرت میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔

تازہ ترین