• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجم الدین اربکان ہوجہ۔جہد مسلسل کی علامت...قاضی حسین احمد

1960ء میں عدنان میندریس کو سزائے موت دے کر جمال گرسل اور ترکی کے اسلام دشمن عناصر نے یہ سمجھ رکھاتھاکہ انہوں نے ترکی میں اسلامی روایات کا احیاء کرنے والوں کو ہمیشہ کے لیے دفن کردیا ہے لیکن گھٹن کی اس فضا میں نجم الدین اربکان کی صورت میں دین کا ایک چمکتاہوا روشن ستارہ نمودار ہوا جس نے ترک سیاست کو ایک نئی جہت عطا کی ۔ 1960ء میں سخت مزاحمت کے باوجود ملی نظام پارٹی کے قیام کے ذریعے انہوں نے ترکی کی ثقافت کا رشتہ اپنے شاندار ماضی کے ساتھ جوڑنے کے ساتھ ساتھ ترکی کو صہیونیت اور مغربی بلاک کی بجائے اُمت مسلمہ کے ساتھ جوڑنے کی تحریک شروع کردی۔ ترک فوج اپنے آپ کو سیکولر اقدار ، سیکولردستور ،مصطفی کمال ،عصمت انونو اور ان کے ساتھیوں کے ان اقدامات کی محافظ سمجھتی ہے جو ان لوگوں کی ذہنی شکست خوردگی کی علامت ہیں اور جن کے ذریعے ترک قوم کا رشتہ اپنے شاندار ماضی سے کاٹ کر مغرب کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی تھی۔ عربی اذان کی بجائے ترک زبان میں اذان عربی رسم الخط کی بجائے رومن رسم الخط کا اجراء ترک قوم کے روایتی لباس کی بجائے مغربی لباس کی ترویج ، حج پر پابندی ان بہت سے اقدامات کا ایک حصہ ہے جو مصطفی کمال کی قیادت میں ترکی کو یورپین اقوام کامقلد بنانے کے لئے اٹھائے گئے تھے اور جن کی بناء پر علامہ اقبال نے مصطفی کمال کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایاتھا۔
لادینی و لاطینی کس پیچ میں الجھا تو
دارو ہے ضعیفوں کا لاغالب الاہو
اقبال نے سیکولرازم اور لاطینی رسم الخط کو ترقی کی علامت ماننے سے انکار کرتے ہوئے مصطفی کمال کو اسلامی روایات کے ساتھ جڑے رہنے کا مشورہ دیاتھا لیکن بظاہر ترکی کا دفاع کرنے والے مصطفی کمال نے شکست قبول کرلی تھی اور خلافت اور اسلام کی بجائے مغربی طرز زندگی اختیار کرنے کی شرط پر مغرب سے صلح کرلی تھی ۔
عدنان میندریس اگرچہ مصطفی کمال اور عصمت انونو ہی کی پارٹی کا آدمی تھا لیکن اسے اپنی قوم پر رحم آیا اور عربی اذان اور حج پر ناروا پابندی کو ختم کردیا۔ اس کے بدلے میں اس نے موت کی سزا قبول کرلی لیکن وہ ترک عوام کے دلوں کی دھڑکن بن گیا۔ پروفیسر نجم الدین اربکان جو اسم باسمی تھے اور واقعی دین کا روشن اور چمکتا ہوا ستارہ تھے ترک عوام کے ملی احساسات کے ترجمان بنے۔ ترک نو جوانوں کی دینی اور اخلاقی تربیت کے لئے انہوں نے ”ملی گورش“کے نام سے نوجوانوں کی ایک تنظیم کھڑی کردی جس نے اندرون ملک اور بیرون ملک ترک نوجوانوں کو ”خدمت خلق “ کے مختلف کاموں کے لیے منظم کیا ۔ جان سویو(آب حیات) اور ای ہاہا(IHH)اس وقت پوری دنیا میں قدرتی آفات کے موقع پر مدد کرنے اور غربت کو مٹانے کی قابل قدر خدمت سرانجام دے رہی ہیں۔
ملی نظام پارٹی سے سیکولر اور اسلام دشمن انتظامیہ کو ترکی کی ملی روایات کے نام سے اسلامی روایات کے احیاء کا خطرہ محسوس ہوا تو اس پر پابندی عائد کردی گئی ۔ لیکن پروفیسر نجم الدین اربکان ہارماننے والے انسان نہیں تھے وہ ایک مضبوط قوت ارادی کے مالک تھے اور انہیں اللہ کی نصرت پر بھروسہ تھا ۔ وہ عنفوان شباب ہی میں ایک روحانی سلسلے سے وابستہ ہوگئے تھے اور اپنی اندرونی روحانی قوت کی بنا پر وہ کسی رکاوٹ کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔ انہوں نے طاقتور انتظامیہ کی رکاوٹوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ملی سلامت پارٹی بنائی اور ایک مخلوط حکومت میں ترکی کے نائب وزیراعظم بن گئے ۔ ملی روایات کے نام سے اسلامی قوتوں کی یہ پیش رفت سیکولر قیادت کو پسند نہیں آئی جو بظاہر تو اپنے آپ کو سیکولر کہلاتی تھی لیکن درحقیقت اسلام دشمن رویوں کی حامل تھی ۔ اس انتظامیہ نے دوبارہ مارشل لاء لگادیا اور ملی سلامت پارٹی پر بھی پابندی لگادی گئی جس کے بعد ”اسلام کے روشن ستارے“پروفیسر نجم الدین اربکان نے جنہیں عقیدت سے ترکی میں ”اربکان ہوجہ “کے نام سے یاد کیا جاتاہے۔ کچھ مدت تک پابندیاں سہنے کے بعد ”رفاہ پارٹی “ کے نام سے ایک نئی پارٹی بنائی ۔ رفاہ پارٹی پر پابندی کے بعد انہوں نے ”فضیلت پارٹی “ بنائی اور انتخابات میں ترکی کی سب سے بڑی پارٹی کے سربراہ بن کر اُبھرے اور وزیراعظم بن گئے ۔ ایک سال تک وزیراعظم رہنے کے بعد انہیں مختلف حیلوں بہانوں سے سبکدوش کرادیا گیا ۔ فضیلت پارٹی پر بھی پابندی لگا دی گئی جس کے بعد انہوں نے سعادت پارٹی بنائی ۔ مخالفین جب ان کے غیر متزلزل ارادے کو شکست دینے میں ناکام ہوگئے تو انہوں نے اندر سے نقب لگائی اور ان کے تربیت یافتہ نوجوان ساتھیوں کو ان سے الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ طیب اُردوگان اور عبداللہ گل نے ”اربکان ہوجہ“ کے زیر سایہ سیاسی تربیت حاصل کی ہے لیکن وہ صہیونزم کے خلاف اور اسلامی اقدار کے احیاء کی مسلسل کوششوں میں اپنے استاذ کا ساتھ نہ دے سکے اور انہوں نے اقتدار کا آسان راستہ اپنا لیا اور اپنے استاذ سے الگ AKپارٹی بنالی جس کے معنی ”سفید پارٹی “ لیکن جو دوترک الفاظ کا مخفف ہے اس کا معنی ”ترقی اور عدل پارٹی “ ہے۔ترکی عوام AKپارٹی کا اس لیے ساتھ دے رہے ہیں کہ ان کے خیال میں یہ ”اربکان ہوجہ “ ہی کی کوششوں کا تسلسل ہے ۔ اگرچہ انہوں نے مضبوط لادین انتظامیہ اور ان کے سرپرستوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لیے اپنی حکمت عملی تبدیل کرلی ہے۔(جاری ہے)
تازہ ترین