مسلسل 20 سال تک محتاط انداز سے آہستہ کی جانے والی کھدائی کے نتیجے میں ماہرین نے جنوبی افریقہ سے 36 لاکھ سال پرانا مکمل انسانی ڈھانچہ دریافت کر لیا ہے، یہ ڈھانچہ ایک خاتون کا ہے۔
سائنس میگزین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اُس دور کے انسان کو تکنیکی طور پر Australopithecus کا نام دیا جاتا ہے اور یہ 3.6؍ ملین سال پرانا ڈھانچہ ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ماہرین نے 15 لاکھ سال سے بھی زیادہ پرانا مکمل انسانی ڈھانچہ برآمد کیا ہے۔

ماہرین نے اس ڈھانچے کو ’’لِٹل فوٹ‘‘ کا نام دیا ہے کیونکہ دریافت کا یہ عمل ابتدائی طور پر پائوں کی چار ہڈیاں ملنے کے بعد شروع کیا گیا تھا۔
جنوبی افریقہ کے شہر جوہانسبرگ میں قائم یونیورسٹی آف وِٹ واٹرس رینڈ کے شعبہ ارتقائی تحقیق کے پروفیسر رون کلارک کا کہنا ہے کہ انسان کی تخلیق کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انسان کا مکمل ڈھانچہ تلاش کیا گیا ہے۔ پروفیسر رون کلارک ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے 20 سال قبل یہ ڈھانچہ تلاش کیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لٹل فوٹ پہلا قدیم ڈھانچہ نہیں ہے، اس سے قبل 44 لاکھ سال پرانا انسانی ڈھانچہ افریقی ملک ایتھوپیا سے برآمد کیا گیا تھا، ماہرین نے اسے ’’آرڈی‘‘ کا نام دیا تھا، تاہم یہ ڈھانچہ مکمل نہیں تھا اسلئے مکمل طور پر دریافت کیے جانے اور تاریخی پیش رفت کے لحاظ سے لٹل فوٹ کو زیادہ اہمیت دی جا رہی ہے۔
توقع کی جا رہی ہے کہ اس ڈھانچے کو جب تحقیق کیلئے لیبارٹری لیجایا جائے گا تو یہ معلومات کے ایک وسیع زخیرے پر روشنی ڈالے گا کہ انسان کے Australopithecus نسل کے آبائو اجداد کس طرح رہتے تھے، ان کے نقل و حرکت کا طریقہ کار کیا تھا اور وہ کیا وجوہات ہیں کہ منوں اور ٹنوں مٹی کے نیچے ان کے ڈھانچے اس طرح مکمل حالت میں موجود رہے۔
ماہرین کے مطابق، ڈھانچے کے دانتوں پر موجود چمکدار تہہ (Enamel) کا آئسوٹوپ جائزہ لینے پر بھی معلومات کا انبار لگ سکتا ہے اور اس کے جائزے سے اُس دور کے لوگوں کی خوراک اور ماحول کا علم ہوگا۔