• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رینگتا ہوا اسلام (Creeping Islam)... قاضی حسین احمد... (گزشتہ سے پیوستہ)

آج سے پندرہ سال قبل میں ان سے ملنے کے لئے استنبول میں واقع ان کے مرکزمیں گیا۔ انہوں نے شکایت کی کہ ترکی میں سب سے پہلا رابطہ ہماری تحریک کا مولانا خلیل احمد حامدی مرحوم کے ذریعے انکی تحریک سے ہوا تھا لیکن بعد میں یہ رابطہ کمزور پڑ گیااور اصرار کیا کہ میں رات بسر کرنے کے لئے انکے مہمان خانے میں ٹھہروں۔ صبح ناشتے پر وہ میرے ساتھ بے تکلفی سے زمین پر بیٹھ گئے ۔ ناشتے کی مجلس میں شرکت کے لئے انہوں نے خصوصی طور پر اپنے حلقے کے ایک اہم فرد کو بلایا تھا جنہوں نے اقبال کے کلام کے کئی حصوں کا ترکی میں ترجمہ کیا ہے۔
خواجہ محمد فتح اللہ گولن نے اپنی تحریک کو خاموش اور نظروں سے اوجھل رکھنے کے لئے خود بھی داڑھی نہیں رکھی اور اپنے مریدوں کو داڑھی نہ رکھنے کی اجازت دی ہے ترکی میں ان دنوں فوج میں پکے نمازیوں اور راسخ العقیدہ مسلمانوں کی ترقی پر پابندی تھی۔کئی مسلمان افسر محض اس وجہ سے سبکدوش کر دیئے گئے تھے کہ انہوں نے اپنے بیٹوں یا بیٹیوں کو قرآن کریم حفظ کر ایا ہے۔ اپنے مریدوں کو سخت گیر فوجی سربراہوں کی سختی سے بچانے کے لئے انہوں نے اجازت دے رکھی تھی کہ وہ اشارے سے نماز پڑھ سکتے ہیں تاکہ ان کے ٹخنوں اور پیشانیوں پر نماز پڑھنے کے نشانات نہ پڑیں۔
ان کے اس احتیاط کا نوٹس لیتے ہوئے میں نے ان کے اقبالیات کے ماہر مرید سے کہا کہ اقبال تو کہتا ہے کہ ،
ہزار خوف ہولیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی ازل سے رہا ہے قلندروں کا طریق
اس کا جواب دیتے ہوئے خود خواجہ محمد فتح اللہ گولن نے کہا کہ اصحاب کہف جب سینکڑوں سال کی طویل نیند سے جاگنے کے بعد اپنے ایک ساتھی کو سکہ دے کر خوارک لانے کے لئے بازاربھیجنے لگے تو اسے ہدایت کی کہ ،
ولیتلطف ولا یشعرن بکم احداً
بہت احتیاط کرے تا کہ تمہارے بارے میں کسی کو خبر نہ ہو ۔اگر چہ ہمارے علماء اس دلیل کو قبول نہیں کریں گے اور نہ احتیاط میں اس جدت کو قبول کریں گے لیکن بدیع الزمان نورسی اور خواجہ محمد فتح اللہ گولن نے ان طریقوں سے ترکی میں اسلام کو زندہ رکھا۔ عدنا ن میندرس نے عربی اذان کو بحال کر کے اور حج پر سے پابندی اٹھا کر ترک قوم کو واپس اسلامی دنیا سے ملانے کے جو انقلابی قدم اٹھائے اور جن اقدامات کو ترک عوام کی طرف سے پر جوش پذیرائی ملی اس کی پشت پر صوفیاء کی یہی خاموش تحریکیں کارفرما تھیں۔
عدنان میندرس کے بعد ترگت اوزال نے خو اجہ محمد فتح اللہ گولن کی کھل کر حوصلہ افزائی کی ۔ اگر چہ خوا جہ محمد فتح اللہ گولن نے کبھی سیاست میں کھل کر حصّہ نہیں لیا لیکن ان کی تحریک کے زیر اثر ترکی میں اسلامی رجحانات رکھنے والے سیاستدانوں کو فائدہ پہنچا۔
حالیہ انتخابات میں 45 سال بعد پہلی مرتبہ طیب رجب اردگان کی زیر قیادت AK پارٹی کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ 45سال قبل عدنان میندرس کو پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ ملے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے ایوان میں دوتہائی اکثریت حاصل کر لی تھی ۔
میندرس کو عربی اذان اور حج پر سے پابندی ہٹانے کے جرم کی وجہ سے جمال گرسل کی زیر قیادت فوجی مارشل لا ء نے سزائے موت دی ۔ لیکن بعد میں سویلین حکومت نے عدنان میندرس کو پس ازمرگ تمام الزامات سے بری قرار دے کر پورے قومی اعزاز کے ساتھ استنبول کی ایک بڑی شاہراہ پر واقع ترگت اوزال کے مقبرے کے قریب دفن کیا ۔
جمال گرسل کی مارشل لاء نے متناسب طریق نمائندگی نافذ کی اور اس میں یہ شرط عائد کی کہ دس فیصد سے کم ووٹ لینے والی پارٹی کو پارلیمنٹ میں نمائندگی کا حق نہیں ہوگا۔اس طرح ایک طرف تو بڑی پارٹی کو دو تہائی اکثریت حاصل کرنے سے محروم کر دیا کیونکہ سنگل ممبر حلقے کے انتخابات میں امیدواروں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے پینتیس چالیس فیصد ووٹ حاصل کرنے والی پارٹی کو ددوتہائی اکثریت مل جاتی ہے جب کہ متناسب طریق نمائندگی کے نظام میں ووٹوں کی تناسب سے ہی سیٹیں ملتی ہیں۔ دوسری طرف نئے انتخابی نظام کے تحت ملی سلامت پارٹی کا پارلیمنٹ میں داخلہ روک دیا کیونکہ وہ دس فیصد کی حد کو عبور کرنے میں ناکام رہی لیکن یہ انتظام عارضی ثابت ہوا اور جلد ہی اسلامی رجحانات کی پارٹی سب سے بڑی پارٹی بن گئی ۔حالیہ انتخابات میں طیب رجب اردگان کی AK پارٹی کو اگر چہ دو تہائی اکثریت نہ مل سکی لیکن پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے وہ اس دعویٰ میں حق بجانب ہیں کہ ترک عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔
اقتصادی میدان میں اپنی نمایا ں کار کردگی کی بنیاد پر طیب رجب اردگان ترکی کے ایک ہر دلعزیز لیڈر ہیں ۔ترکی کے سیاسی افق پر طیب اردگان کی صورت میں ایک روشن ستارے کا نمودار ہونا پروفیسر نجم الدین اربکان کی قیادت کی مرہون منت ہے۔جن کی اپنی سعادت پارٹی کو حالیہ انتخابات میں 1.5 فیصد یعنی صرف پانچ لاکھ ووٹ ملے ہیں۔پروفیسر نجم الدین اربکان نے 1960 کے عشرے میں فیصلہ کیا کہ ترکی کی سیکولر دستور کے باوجود ترکی کی ملی روایات کے حوالے سے سیاست میں اسلام کا احیاء کیا جائے۔وہ پہلے قونیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ کے طور پر منتخب ہوئے ، بعد میں ملی نظام پارٹی کی بنیا درکھی۔سیکولر فوجی قیادت نے باربار مداخلت کر کے ان کا راستہ روکنے کی کوشش کی لیکن وہ پینترے بدل بدل کر بار بار نمودار ہوتے رہے۔ ان کی پارٹی کی کوکھ سے رجب طیب اردگان کی AK پارٹی یا” سفید پارٹی “ نے جنم لیا ہے۔ AK پارٹی کو بھی اپنے تمام احتیاطی تدابیر کے باوجود مغربی ممالک شک کی نظر سے دیکھ رہے ہیں ۔یورپین کمیونٹی میں ترکی کے داخلے کے راستے میں اسی لئے رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں کہ AK پارٹی کے زیر اہتمام ترکی میں اسلام کا احیاء ہو رہا ہے۔
دوسری بڑی پارٹی پیپلز پارٹی ہے جو روایتی لادینیت کے باوجود انتخابات میں کچھ اسلامی سلوگن لے کر آئی ہے جن میں حجاب پر پابندی ختم کرنے کا وعدہ بھی شامل ہے اس پارٹی کو 26 فیصد ووٹ ملے ہیں اور دونوں بڑی پارٹیاں مل کر ترکی کے فوجی آئین کو تبدیل کر کے ایک سویلین آئین لا سکتے ہیں اگرچہ فی الحال اس کا امکان نہیں ہے کہ ترکی سیکولرزم کی بجائے اسلام کو اپنے آئین کی بنیاد بنا دے لیکن اسلام کی جو لہریں خاموشی کے ساتھ چل رہی ہیں جن کو مغربی دنیا میں Creeping Islam(رینگتا ہوا اسلام ) قرار دیا جا رہاہے ا س کے پیش نظر وہ دن زیادہ دور نہیں ہے جب اسلامی خلافت کا یہ مرکز پھر سے اسلامی دنیا کی قیادت کے لئے میدان میں نکلے گا ۔
پاکستان جو اسلامی نظریے کی بنیا پر وجود میں آیا ہے جس کا وجود ہی اسلامی نظر یہٴ حیات کا مرہون منت ہے جو اسلامی دنیا کا واحد نیو کلیئرملک ہے جس کے عوام قرآن پاک کی بے حرمتی اور رسول پاک ﷺ کی توہین پر دیوانہ وار گھروں سے باہر نکل آتے ہیں ، کیا دنیا بھر میں پھیلنے والی اس تحریک کے اثرات سے محروم رہے گا۔ یہ کبھی نہیں ہو سکتا لیکن یہاں ایک صاحب ایمان، حکمت والی قیادت اور ایک ایسی تنظیم کی ضرورت ہے جو ان کروڑوں عوام کے لئے اپنے آغو ش وا کر دے جو اسلام اور اسلامی تہذیب سے محبت کرتے ہیں ۔
آسماں ہوگا سحر کے نور سے آئینہ پوش
اور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک
بزم گل کی ہم نفس باد صبا ہو جائے گی
پھر دلوں کو یاد آجائے گا پیغام سجود
پھر جبیں خاکِ حرم سے آشنا ہو جائے گی۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی
شب گریزاں ہوگی آخر جلوئہ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمہٴ توحید سے

تازہ ترین