یہ مشہور مصرعہ جو تقریباً ضرب المثل بن چکا ہے آتش #لکھنوی کا ہے۔ اس کا دوسرا مصرعہ ہے۔
”کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا“
شاعر نے اپنے (متکبر) حریف کو مخاطب کرکے کہا اُسے غرور تکبّر میں دوسروں کو نظر اندازنہیں کرنا چاہئے بلکہ اُسے بھی سوچنا چاہئے کہ اس کے بارہ میں لوگ کیا تذکرہ کرتے ہیں، اس کے بارہ میں کیا سوچتے ہیں اور اس کی غیر موجودگی میں اس کے بارہ میں کیا رائے رکھتے ہیں۔ یہ بات ہر دانشمند کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس بات کا لحاظ رکھے کہ اسکے بارہ میں دوسروں کی کیا رائے ہے اور کیا وہ اس کے بارہ اچھے یا بُرے خیالات رکھتے ہیں۔ غائبانہ اس لئے کہا کہ دنیا کا رواج ہے خوشامدی، مطلب پرست منھ دیکھی خوشامد کرتے ہیں اور ہر غلط بات کی، کام کی تعریف کرتے ہیں، سادہ الفاظ میں ضمیر فروشی کرتے ہیں اور اس میں قطعی شرمندگی محسوس نہیں کرتے۔ اُستاد شیخ محمدابراہیم ذوق# (جن کے شاگرد نواب مرزا خان داغ# دہلوی اور جن کے شاگرد علّامہ محمد اقبال تھے) نے آتش لکھنوی والی بات دوسرے الفاظ میں یوں کہی تھی:
بجا کہے جسے عالم اُسے بجا سمجھو
زُبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو
میں جسارت کرکے اس شعر کو یوں بھی بیان کرنا چاہتا ہوں۔
بُرا کہے جسے عالم اسے بُرا سمجھو
زُبانِ خلق کو نقارہ خدا سمجھو
ہمارے ملک میں بڑے بڑے رہنما اور قومی لیڈر عوام کو جھوٹی باتوں اور وعدوں سے بہلا کر خود کو بہت کامیاب سمجھتے ہیں۔ ان پر اپنی عقل و فہم اور عیّاری کی پول کھُل جائے گی اگر وہ ذرا عوام کے اُنکے پیچھے بیان کردہ تاثرات سُن لیں۔ یہی وجہ ہے کہ پُرانے زمانہ میں بادشاہ، وزیر اعظم وغیرہ بھیس بدل کر شہر کا گشت لگاتے تھے، چائے خانوں میں جاکر بیٹھ جاتے تھے اور عوام کے حالات و مشکلات سے اور اپنے نظام حکومت کے بارہ میں معلومات حاصل کرتے تھے۔ہمیں حضرت عمر کے رات کو گشت کرنے کے واقعات کا علم ہے۔ بھوپال کی بیگمات بھی رات کو شہر میں گشت کرتی تھیں اور اکثر بھیس بدل کر مردوں کا روپ دھار کر چائے خانوں میں بیٹھ کر عوام کے حالات و تکالیف کے بارہ میں معلومات حاصل کرتی تھیں۔ چینی شہنشاہوں کی بھی یہی روایت تھی۔
آپ کو ایک صحیح واقعہ سناتا ہوں۔ کہوٹہ میں لنچ کے دوران ہم کھُل کر ملکی اور غیر ملکی حالات پر بحث کرلیا کرتے تھے۔ جب ضیاء الحق نے گرگٹ کی طرح باربار رنگ بدلا اور جھوٹے وعدے کئے اور عوام کو بیوقوف بنانا شروع کیا تو یہ بحث زور پکڑ گئی اورسب ضیاء الحق پر سخت تنقید کرنے لگے۔ اس وقت ہمارے ساتھ چند فوجی افسران بھی تھے غالباً انھوں نے بادشاہ سے زیادہ وفاداری کا ثبوت دیا اور جنرل ضیاء کو اس سے آگاہ کردیا۔ ایک روز جنرل ضیاء نے باتوں باتوں میں مسکرا کرمجھ سے کہا ڈاکٹر صاحب کھانے کی میز پر آپ اور آپ کے ساتھی میرے خلاف خاصی سخت باتیں کرتے ہیں۔میں نے پرسکون لہجہ میں جواب دیا کہ سَر یہ تنقید بے ضرر ہے لوگ دل ہلکا کرلیتے ہیں اور بات وہیں ختم ہوجاتی ہے۔ کوئی باہر جاکر کسی کو نہیں بہکاتا۔ آپ بے فکر رہیں ہم ملک کے وفادار ہیں کبھی اس کے خلاف کوئی چیز برداشت نہیں کرینگے۔جب سے اس نام نہاد جمہوریت نے ہماری گردن دبوچ لی ہے اُسی دن سے سیاسی پارٹیوں میں اتفاق، اتحاد، نفاق اور پھر علیحدگی کے اعلانات ہوتے رہے ہیں۔ ملاپ ہو یا جدائی یہ سیاسی اداکار ہمیشہ اسے عوام کی بہبود، بھلائی اور قومی مفاد کے نام دےئے جاتے ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان قلابازیوں اور مفاد پرستانہ پالیسیوں سے عوام کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تمام ناٹک خودغرضی اورمفادپرستی پر مبنی ہوتا ہے۔ سادے الفاظ میں یہ منافقانہ عمل ہے۔پیر صاحب پگاڑا (جو مجھ پر بہت مہربان رہتے ہیں اورکاجو، بادام، پستے، کشمش والا اعلیٰ پلاؤ کھلانے کی عزّت بخشتے ہیں) نے حالیہ پی پی پی اور ایم کیو ایم کی نورا کشتی پر صرف یہ فرمایا کہ دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے اور اب پھر دونوں ایک ہی پلیٹ سے کھائینگے۔ یہ نہایت مختصر مگر جامع اور معنی خیز تبصرہ ان دونوں پارٹیوں کی پالیسیوں کا پول کھولنے کو کافی ہے۔ دیکھئے 2001 میں پرویز مشرف کے دور میں قائم کیا گیا بلدیاتی نظام ایم کیو ایم کو بے حد پسند تھا اور کیوں نا ہوتا اربوں روپے ہر سال ملتے تھے اور تمام توجہ فلائی اوورز، ایکسپریس ویز وغیرہ پرہوتی تھی ، چھوٹے علاقے، محلے اور گلیاں اُسی طرح غلاظت سے پُر تھے، سیوریج کہیں نہیں بنایا گیا، ایک دو گھنٹہ کی بارش سے شہر کے ٹریفک کا نظام تہس نہس ہوجاتا ہے۔ میں نے بھی اربوں روپیہ کے سول ورکس آرمی انجینئرز سے کرائے تھے اور میں نے یہ کام فوجیوں سے اس لئے کرائے تھے۔ کہ سول ورکس میں پچاس فیصد رشوت ستانی عام ہے ، آرمی چیف، ایم آئی، آئی ایس آئی کی کڑی نگاہیں ان پر تھیں کبھی شکایت موصول نہیں ہوئی، نتیجہ آپ خود اخذ کرلیجئے۔ اس نظام نے پی پی پی کو کراچی اور حیدرآباد جیسے بڑے شہروں میں لوٹ مارسے محروم کردیا تھا۔ پی پی پی نے اچانک کمشنری نظام نافذ کردیا اور اپنے پسندیدہ افسران متعین کردئے۔ ایم کیو ایم ناراض ہوگئی۔ الطاف حسین نے آگ اُگلنا شروع کردی مگر ایم کیو ایم نے حکومت کے خلاف کسی بھی اقدام کی حمایت نہیں کی۔ پی پی پی نے عیاری سے پھر قلم کی ایک جنبش سے پرانا نظام دوبارہ نافذ کردیا۔ پی پی پی کے ساتھ ق۔لیگ شامل ہے مگر زرداری اس پر تکیہ نہیں کرنا چاہتے اور ایم کیو ایم کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں کہ وہ شور مچا کر بھی ساتھ رہنے پر مجبور رہینگے۔ زرداری نے جس طرح ان تمام سیاست دانوں کو نچایا ہے وہ اس کے مستحق ہیں کہ اُنکو آکسفورڈ یا کیمبرج یا ہارورڈ میں پروفیسر آف پولیٹیکل سائنسز متعین کردیا جائے اور اس میں تعجب کی کیا بات ہے نصرت فتح علی خان کو بھی تو امریکہ اور جاپان میں موسیقی کا پروفیسر مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت ملک اور بیرون ملک تمام تجزیہ نگار صدر، گورنر سندھ، چیف منسٹر سندھ اور الطاف حسین کو کراچی کے خراب حالات کا ذمّہ دار ٹھہرارہے ہیں۔ خاص طور پر زرداری اور گیلانی اور رحمن ملک کی پالیسی کامیاب ہے کہ پورے ملک کو کراچی کے واقعات میں اُلجھا کر تین چار ماہ نکل ہی جائینگے۔ ان لوگوں نے ہر حال میں مارچ میں سینیٹ کے الیکشن تک یہ سلسلہ جاری رکھنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نہ ہی قومی اسمبلی کا اور نہ ہی سندھ کی صوبائی اسمبلی کا کراچی کے معاملات سے کچھ تعلق ہے ۔ دو چار آدمی ملک کے مقدّر سے کھیل رہے ہیں اور اس کو تباہ و برباد کرکے ہی چھوڑینگے۔ مگر زبانی جمع خرچ عروج پر ہے ، ملک کی سلامتی اور عوام کی فلاح و بہبود کا نقّارہ مسلسل بجتا رہتا ہے اور ایم کیو ایم خودغرضی اور مطلب پرستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ عوام کے مفاد کہیں سرفہرست نہیں ہیں۔اس ملک میں اگرچہ نام نہاد جمہوریت قائم ہے، قومی اور صوبائی اسمبلیاں موجود ہیں اور منتخب عوامی نمائندے بھی موجود ہیں مگر ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ دوچار لوگ ہی پورے ملک پر قابض ہیں اور حسب ضرورت نت نئے آرڈینینسز جاری کردیے جاتے ہیں، پھر منسوخ کردیے جاتے ہیں اور پھر تبدیل کردیے جاتے ہے۔ کوئی قانون پارلیمنٹ کے ذریعہ ظہور پزیر نہیں ہوتا اور نہ ہی مستقل شکل اختیار کرتا ہے۔ آپ کو علم ہے کہ اس ملک میں نہ ہی قانون اور نہ ہی امن و امان نامی کسی چیز کا وجود ہے۔ ملک میں لاقانونیت اور قتل و غارتگری کا بول بالا ہے۔ایک عام کہاوت ہے کہ بغاوت، لاقانونیت، جنگلی آگ، طاعون کی طرح پھیلتے ہیں اور ان کی رفتار سونامی طوفان کی طرح ہوتی ہے۔ نوجوان طبقہ شاید مارکوس، شہنشاہ ایران، موبوٹو، وغیرہ کے عبرتناک انجام سے واقف نہ ہوں لیکن صدام حسین، زین العابدین، عبداللہ صالح، حسنی مبارک اور اب قذافی کا حشر ان کے سامنے ہے۔ ایک اچھا تیراک کبھی یہ نہیں سوچتا کہ وہ ڈوب کر مرسکتا ہے اور اکثر ڈوب کر ہی مرتا ہے، ایک ریس کار ڈرائیورکبھی نہیں سوچتا کہ وہ کار حادثہ میں ہلاک ہوگا اور عموماً وہ کار حادثہ میں ہی ہلاک ہوتا ہے۔ موجودہ حکمرانو ہوش کے ناخن لو ورنہ تمھارا بھی یہی حشر ہوگا۔ پچھلے حکمران خاموش ہیں راندہ درگاہ ہیں اور ان کو دیکھونہ بولنے پر بھی ان کے دل سے یہ آواز سُنائی دیتی ہے:
حکمرانوں سے کہو ہوش میں آئیں کوثر#
ہم بھی بیٹھے تھے کبھی ایسے ہی ایوانوں میں
بہت سے تجزیہ نگاروں اور میں نے خود کئی مرتبہ کہا ہے کہ ہمارے ملک میں دہشت گردی کی لعنت افغانستان میں امریکہ کی مسلسل جاری جارحیت کی وجہ سے ہے۔ قبائلی عوام کو ایک وجہ، ایک سبب مل گیا ہے کہ وہ اس جنگ میں شامل ہوں، آپ اسے جہاد کہیں یا دہشت گردی یہ سلسلہ جاری رہا تو یہ ملک ٹوٹ جائے گا، ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا اور۔
” ہماری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں “
حکومت نے ان ہی خطرات کو بالکل نظر انداز کیا تھا اور مشرقی پاکستان کا المیہ پیش آیا۔ اب بلوچستان، کراچی، خیبرپختونخواہ جل رہے ہیں اور اہل اقتدار ایوانوں میں پارٹیوں میں مصروف ہیں۔ یہ قوم بے حس ضرور ہے مگر جب پیمانہ لبریز ہوجائے توگیدڑ شیر بن جاتا ہے اور ہرن چیتے پر حملہ کردیتا ہے۔ اس وقت جو وعظ و نصیحتیں کی جارہی ہیں اور غصّہ میں آئے ہوئے متاثرہ لوگوں پرلغت میں موجود ہر گندہ لقب چسپاں کیا جارہا ہے وہ کچھ کام نہ آئے گا۔ عوام سخت پریشان ہیں، بھوک، بیروزگاری اور مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ اور وی آئی پی کلچر نے ان کا پیمانہ لبریز کردیا ہے صرف ایک دو بوند کی ضرورت ہے اور پھر یہ سیلاب چل پڑے گا۔اونٹ کی کمر توڑنے کو صرف آخری تنکے کی ضرورت رہ جاتی ہے۔
نوٹ: گذشتہ عید الفطر پر مجھے بے شمار لوگوں نے ای میل ،ایس ایم ایس اورڈاک کے ذریعے اپنی نیک تمناوٴں اور دعاوٴں میں یاد رکھا،میں ان سب کا بہت شکر گزار ہوں ،مگر الگ الگ جواب نہیں دے سکا،اس کیلئے معذرت خواہ ہوں ،وجہ یہ ہے کہ آجکل میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔