آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تحریک آزادی میں سب سے زیادہ قربانی دینے والے خان عبدالغفارخان المعروف باچا خان کی تیسویں برسی ان دنوں منائی جارہی ہے۔جب ہم’ سب سے زیادہ‘ قربانیوں کا نقارہ بجا تے ہیں تو ہمارا یہ دعویٰ الفاظ کا محض گنجینہ نہیں،تاریخ کا سینہ برہنہ کئے ہوئے ہوتا ہے۔لاریب !تاریخ یہ ہے کہ باچا خان نے 30برس قید و بند،15سال جلاوطنی ،جائیدادوں کی نیلامی سمیت فقید المثال قربانیوں کی نئی نئی جہتیں وا کیں۔ 1931میں صرف ایک ہزارہ جیل میں باچا خان سمیت 15ہزار خدائی خدمتگار پابند ِ سلاسل تھے،یہی وجہ تھی کہ انگریز کو اعتراف کرنا پڑا ’’ سرخ پوش تحریک کے رہنما باچاخان جیل کا پرندہ اور نہ تھکنے والا دشمن ہے، وہ بادشاہ یوں ہیں کہ ان میں جرات ہے کہ وہ برطانوی حکومت کو چیلنج کرے، وجہ اس کی یہ ہے کہ صوبہ سرحد (پختونخوا) کا ہر کوہسار برطانوی حکومت کے خلاف جدوجہد میں اس کے سنگ ہے‘‘ (ڈیلی میل میں شائع برطانوی رپورٹ، بحوالہ، Faith is battle صفحہ 13)تاریخ کاحرف حرف چھان جائیے، کوئی اور تحریک یا جماعت قربانیوں میں خدائی خدمتگار جیسا ریکارڈ نہیں رکھتی۔آیئے مرد قلندر باچا خان کی زندگی اور جدوجہد کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں۔
باچاخان کی تنظیم ’’خدائی خدمتگار‘‘رورولی (بھائی چارے) اور قام ولی (قوم پرستی و اصلاح)کی تحریک تھی ‘‘ یہ دونو ں اصطلاحیں

معنی میںسادہ مگر وسیع مفہوم لئے ہوئی ہیں۔جو ایک قوم کی تمام زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے مساوات کی بنیاد پر ایسے پُرامن و مترقی زندگی گزارنے کے سلیقے سے عبارت ہے،جس کا منہج انسانیت کی معراج یعنی بلاامتیازطبقے،زبان، مذہب تمام انسانوں سے پیار ہے، یوں انسانیت نوازیہ فلسفہ آفاقی بن جاتا ہے جہاں کوئی کسی کے حق کو غصب کرنے کا روادار نہیں ہوتا۔باچا خان اشنغرچارسدہ کے ایک بڑے خان تھے، لیکن وہ عام فرد کی طرح زندگی گزارتے تھے تاکہ وہ اپنے طبقاتی حیثیت کی نفی کرسکیں۔ باچاخان عوامی رابطہ مہم کے سلسلے میں جس گائوں میں داخل ہوتے ، سب سے پہلے وہاں کی مسجد اور حجرےمیں جاتے اور جھاڑو دیتے، پھر اعلان کرتے ، میں آپکا بادشاہ نہیں، خادم ہوں۔پھر وہ کسی غریب کے گھر مہمان بنتے، وہاں کےلوگوں سے کہتے کہ وہ اپنےاپنے حصے کا عام کھاناگھروں سے لائیں،یہاں ملکر کھائیں گے۔یوں اپنے فلسفے ’’ پورہ وی کا سپورہ وی، پہ شریکہ بہ وی ‘ ‘ (روکھی ہو یا سوکھی ،ملکر کھائیں گے) کا عملی مظاہرہ کرتے۔اکتوبر 1929میں جب خدائی خدمتگار تنظیم وجود میں آئی ، تو اُس کا نصب العین یہ قرار پایا۔ (1)خدائی خدمتگاری سے مراد،خدا کی مخلوق کی بلاامتیازخدمت(2)ظالم کے مقابلے میں کمزور کی مدد (3)مقابلہ عدم تشدد کے ہتھیارسے ۔یہ انوکھا ہتھیار متعارف کراتے ہوئے باچاخان نے عمر بھر اس کی تربیت دی اورخود عمل کیا۔(4)ہر رکن یہ عہد کریگا کہ اُس کی خدمت صرف خدا کی رضا کیلئے ہوگی،اس کے عوض کوئی معاوضہ، بدلہ(عہدہ، وزارت) طلب نہیں کریگا(5)اس راہ میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کریگا۔اب ان خطوط پر کیسی شاہکار تنظیم ماندہ جبل ایستادہ ہوئی ،آیئےدشمن انگریز کی گواہی لیتے ہیں۔ ’’1930 تک ہندوستان میں وہی ہوا(کانگریس ، مسلم لیگ کے ہوتے ہوئے) جو ہم (انگریز)چاہتے تھے،حتیٰ کہ روس پسپا ہوا ، کابل میں خاموشی چھاگئی، ایسے میں ایک شخص عبدالغفار اُٹھااور پھر ہر طرف شورش اور بے چینی پھیل گئی ‘‘ (دستاویزات این ڈبلیو ایف پی، انڈیا آفس لائبری لندن)قبل ازیں باچا خان نے جب 1921میں انجمن اصلاح الافاغنہ کے تحت تعلیمی ادارے قائم کرنے کے مشن میں اپنے گائوں اُتمان زئی میں پہلے آزاداسکول کا آغاز کیا تواس کے اولین طالب علم خان عبدالولی خان تھے جن کے کلاس فیلوتانگہ چلانے والے(تانگے بان)قادری کاکا ،کا بیٹاتھا،یہ مروجہ طبقاتی تعلیم کی بیخ کنی کا اعلان تھا۔ہندوستانی نژادامریکی مصنف ایکنات سوارن اپنی کتابA man to match his mountains(مترجم جناب غنی خٹک)میں لکھتے ہیں،باچاخان نے اپنے تعلیمی ،اصلاحی کام کیلئےہزاروں میل کا سفر کیا، اور تین سال میں صوبہ سرحد(پختونخوا)کے تمام 500بندوبستی گائوں کا دورہ کیا۔گزشتہ روز باچاخان کے ایک ملازم کا پُرانا انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا،کہہ رہے تھے کہ میں اکثر دوروں پر باچاخان کے ساتھ رہا، اُنہوں نے کبھی میرے بغیر کھانا نہیں کھایا، وہ گھر میں اپنے کھدر کے کپڑے خود سیتےاور دھوتے، وقت ہوتا تو زمینداری بھی کرتے،سفر کے دوران ایک پوٹلی، پیاز اور روٹی ساتھ لے جاتے۔جنگ آزادی کی ایک اور تابندہ پہاڑ جیسی شخصیت خان شہید عبدالصمد اچکزئی اپنی خود نوشت میری زندگی اور زندگانی، میں لکھتے ہیں ’’ ہندوستان میں باچا خان اور میں ایک کمرے میں ٹھہرے تھے۔ یہ میری باچاخان سے پہلی ملاقات تھی،وہ نہ صرف یہ کہ اپنا کام خود کرتے بلکہ میراکام بھی کرتے، میں عمر میں اُن سے کافی چھوٹا تھا،مجھے شرمندگی ہوتی،اُنہیں منت کرکے منع کرتا تھا، لیکن وہ میرے لئے چائے بھی بنا کر دیتے تھے ‘‘ ۔باچاخان قربانی کے وقت سب سے آگے ہوتے ، مردان مارچ کے دوران لاٹھی چارج سے آپ کی دونوں پسلیاں ٹوٹ گئیں،اور اسی حالت میں جیل میں ڈالدئیے گئے۔آپ کی تنظیم کے اکثر عہدیدار نچلے طبقے سے تھے۔ ایک مثال دیتے ہیں،جنرل حبیب اللہ کے والد اورجنرل علی قلی خان کے داداخان بہادر قلی خان کے حجرے میں ایک ڈھول بجانے والا وطنی چاچاہر عید پر جاتا،اور فن کے مظاہرے پر دو روپے پاتا۔پھر وہ ضلع کرک کے اس گائوں میں خدائی خدمتگار تنظیم کا صدر بنا۔عید آنے پر وہ دربار میں نہیں گیا، بلاوا آیا، تو خان بہادر نے بہت سنائی کہ حاضری کیوں نہیں دی۔وطنی چاچا نے جواب دیا ، آپ انگریز کے خان بہادر ہیں ،لیکن میں اب باچا خان کی تنظیم کا صدر ہوں ، لہذا احتیاط سے زبان چلائیں،اگلی عید پر آپ میرے ہاں آئیےگا،دوروپے نقد آپ کے پکے ہوئے۔یہ تھا وہ ذہنی انقلاب جو باچا خان نے برپا کیا اور جس سے انگریز اور اُسکے گماشتوں کو خطرہ لاحق ہوا۔باچا خان نے عوام میںرہتے ہوئے سیاست کی،اورعوام کوماحول کی غلامی سے نجات کی راہ دکھلائی۔ 1937اور1946کے انتخابات میں عام افراد کو ٹکٹ دئیے، جنہوں نے بڑے بڑے برج اُلٹ دئیے،1937میں اگرچہ آپ جیل میں تھے لیکن خدائی خدمتگار جیت گئےاورمسلم لیگ کا ایک بھی اُمیدوار کامیاب نہ ہوسکا۔ان انتخابات میں سرصاحبزادہ عبدالقیوم خان،سرنواب محمد اکبر خان،ارباب شیر علی خان،خان بہادرقلی خان جیسے بڑے جاگیرداروں کو عام خدائی خدمتگاروںعبدالعزیز خان کاکا،امیر محمد خان لالہ،عبدالغفور خان اور محمد افضل خان نے شکست سے دوچار کیا۔جبکہ 1946کے انتخابات میں بھی خدائی خدمتگاروں کی حکومت قائم ہوئی، جو قیام پاکستان کے بعد ختم کردی گئی۔آپ نےپاکستان کی اسمبلی میںحلف اُٹھایا۔اور جمہوری و عوامی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھی۔15جون 1948کوگرفتارہوئے،تین سال بعد جب رہا ہوئے توپھر گرفتار کرلئے گئے،جنوری 1954میں رہا تو ہوئےلیکن سرکٹ ہائوس راولپنڈی میں نظر بند کردئیے گئے.17جولائی 1955کو رہائی ملی لیکن پھر 1956میں بغاوت کے الزام میں پسِ زندان ہوئے20جنوری 1964کو شدید علالت کی وجہ سے ایوبی حکومت نےآپ کورہا کردیا ،پھر 15سال جلاوطن رہے۔خلاصہ یہ ہے کہ جب آپ سوسال کے قریب تھے ،تو بھی آپ عوامی حقوق،امن اور یکجہتی کی بات کرتے، یہاں تک کہ آپ کی موت بھی یکجہتی کا استعارہ بن گئی اور جلال آباد میں آپ کی تدفین نے اس سچ پر مہر تصدیق ثبت کردی کہ وہاں(افغانستان)اور یہاں کے عوام ایک ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں