• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سیاسی تبدیلی سرہانے کھڑی ہے...صورتحال…الطاف حسن قریشی

پیر صاحب پگاڑا اہلِ اقتدار کے لیے نومبر کے مہینے کو تبدیلی کا مہینہ قرار دیتے آئے ہیں  جسے یار لوگ اک مجذوب کی بڑ قرار دیتے رہتے ہیں لیکن 22نومبر کی شام یہ بھید کھلا کہ سیاسی تبدیلی سرہانے کھڑی ہے اور معاملات میں ایک بڑا تغیر آ چکا ہے۔ افراد اور اقوام کی زندگی میں عروج و زوال کے مرحلے کبھی کشاکش شام و سحر کی ایک معین رفتار سے وجود میں آتے ہیں اور گاہے گاہے کائنات کی نبض بے وجہ ڈوبنے لگتی ہے اور سو برس کا سامان ایک پل کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہمارے دوست حسین حقانی بلا کے ذہین  موقع شناس  آگے بڑھنے کی تڑپ رکھنے اور حالات کو سازگار بنانے کی غیر معمولی صلاحیتوں سے مالا مال انسان ہیں اور وہ مختلف تجربات اور آزمائشوں سے گزرتے ہوئے ایک ایسے مقام تک جا پہنچے جس کا تصور درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان شاذ و نادر ہی کر سکتا ہے۔ اُنہوں نے صحافت  سیاست  علم و تحقیق اور سفارت کاری کے میدان میں ایک نقش قائم کیا اور حریفانہ کشمکش کے دوران آگے ہی بڑھتے چلے گئے  مگر اس بار انہیں اپنی ہی نظر کچھ ایسی لگی ہے کہ ان کی ساری تدبیریں بظاہر اُلٹی ہوگئیں۔ ان پر یہ سنگین اور تکلیف دہ الزام بھی لگا ہے کہ انہوں نے اپنے وطن سے بے وفائی کی ہے۔
میمو گیٹ اسکینڈل آگے چل کر ہماری جگ ہنسائی کا اور کیا کیا اہتمام کرتا ہے ۔ اس وقت ہماری سیاسی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے کہ اقتدار ایوانِ صدر سے ایوانِ وزیر اعظم کی طرف منتقل ہو گیا ہے۔ جناب حسین حقانی بعض اوقات اشاروں کنایوں میں یہ تاثر دے جاتے تھے کہ صدر زرداری کے قریبی معتمد اور امریکہ میں سفیر ہونے کی حیثیت میں وہ اپنے آپ کو وزیر اعظم سے زیادہ بااختیار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے امریکہ سے پاکستان روانہ ہوتے وقت واضح طور پر کہا کہ میں صدرِ مملکت کے سامنے جواب دہ ہوں اور وہ حکم دیں گے تو میں ان کی خدمت میں استعفیٰ پیش کر دوں گا  مگر دو تین روز کے اندر اندر قومی سیاست کا منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہوتا گیا۔ نومبر کے وسط میں جب آرمی چیف جنرل کیانی اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا ایوانِ صدر میں اعلیٰ ترین سیاسی قیادت سے ملے  تو عوام کے اندر یہ تاثر قائم ہوا کہ میمو کا مسئلہ ایک سنگین صورتِ حال اختیار کرتا جا رہا ہے اور جناب صدر زرداری کے بارے میں بھی عسکری قیادت شدید تحفظات رکھتی ہے جو سول ملٹری تعلقات پر فوری طور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس خطرے کو بھانپتے ہوئے ہمارے وزیرِ دفاع جناب احمد مختار جنہیں خوردبین سے بھی تلاش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ اس وقت سے امورِ مملکت سے کنارہ کش چلے آ رہے ہیں جب اُن کی جگہ جناب یوسف رضا گیلانی یک لخت وزیر اعظم بنا دیے گئے تھے  چنانچہ اُنہیں اس امر سے کوئی دلچسپی نہیں کہ قومی سلامتی کی حکمتِ عملی کیا ہونی چاہیے اور اسے بروئے کار لانے کے لیے سول فوجی تعلقات کا پورا نظام کس طور پر ترتیب دیا جائے۔ اُنہوں نے طویل خاموشی توڑتے ہوئے سُر تال سے بے گانہ ایک بیان داغ دیا کہ میمو اسکینڈل سے اگر منفی اثرات برآمد ہوتے ہیں تو سفیر حقانی وزیر اعظم کے سامنے جواب دہ ہوں گے کیونکہ وہ اُن کی ٹیم کا حصہ ہیں۔ اُن کی طرف سے یہ پہلا اشارہ تھا کہ اقتدار کا محور تبدیل ہونے والا ہے۔ انہی دنوں قومی اسمبلی میں میموگیٹ کی بازگشت سنائی دی اور معزز ارکان کے تشویش بھرے جذبات کے دوران وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ میں نے سفیرِ پاکستان کو امریکہ سے بلا لیا ہے  وہ یہاں آ کر اپنی پوزیشن واضح کریں گے اور مختلف قومی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے اُٹھائے ہوئے سوالات کا جواب دیں گے  چنانچہ وہ اسلام آباد آئے اور اُن کی ٹرائیکا کے روبرو پیشی ہوئی جس میں اُن سے تین درجن سے زائد بڑے سخت سوالات پوچھے گئے اور وزیر اعظم ہاوٴس کے ترجمان کی طرف سے بیان آیا کہ سفیر حسین حقانی سے استعفیٰ طلب کر لیا گیا ہے جس کی منظوری کا نوٹیفیکیشن بھی جلد جاری کر دیا گیا۔ ظاہری طور پر اُن کی زندگی کا ایک اہم باب اختتام پذیر ہوا۔
میرا احساس یہ ہے کہ یہ سب کچھ اچھا نہیں ہوا۔ ایک ایسی دستاویز جس پر کسی کے دستخط نہیں اور ایک ایسا شخص جس کا ماضی ناقابلِ اعتبار ہے  اس کی بنیاد پر پورے ملک میں ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا ہے۔ اس معاملے پر سلیقے سے ردِ عمل ظاہر کرنے اور اسے بردباری اور دور اندیشی سے ہینڈل کرنے کے بجائے اسے قومی سلامتی کے سب سے خطرناک مسئلے کی شکل دے دی گئی ہے۔ ایک پاکستانی نژاد امریکی دولت مند اور بارسوخ شخص منصور اعجاز نے امریکی فوج کے سربراہ ایڈمرل مولن تک پاکستان کے ایک سینئر سفارت کار کی ہدایت پر ایک خفیہ دستاویز پہنچانے کا انکشاف 18اکتوبر کے فنانشل ٹائمز میں کیا تھا۔ اس کی اشاعت پر تین ہفتے خاموشی سے گزر گئے اور پاکستان کی طرف سے کسی ردِ عمل کا اظہار ضروری نہیں سمجھا گیا۔ شاید اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ اس خفیہ دستاویز میں جو 10مئی 2011ء کی صبح ایڈمرل مولن کے دفتر پہنچا دی گئی تھی اور جو قومی سلامتی کی نئی ٹیم کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ اس میں لکھا تھا کہ پاکستان کی سول حکومت کو یہ خطرہ محسوس ہو رہا ہے کہ 2مئی کے ایبٹ آباد آپریشن کے بعد فوج اقتدار پر قابض ہونے کے لیے پر تول رہی ہے  اس لیے ایڈمرل مولن پاکستان کی فوج قیادت کو اس تباہ کن اقدام سے باز رکھیں۔ اس خدمت کے عوض فوج اور آئی ایس آئی کی قیادت فوری طور پر تبدیل اور آئی ایس آئی کا ایس سیکشن مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا  شمالی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے خلاف بھر پور فوجی آپریشن کیا جائے گا اور اسامہ بن لادن کی طرح القاعدہ کے لیڈر ایمن الظواہری اور ملا عمر کو امریکہ نیست و نابود کر سکے گا۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کی نئی ٹیم ایٹمی اثاثوں کا ایک قابلِ قبول فریم ورک تیار کرے گی۔ اس نئی ٹیم کے اندر مختلف افراد کے علاوہ جنرل (ر) جہانگیر کرامت اور میجر جنرل (ر) محمود درانی شامل ہیں جو تمام حساس معاملات کی نگرانی کریں گے۔ خفیہ دستاویز کے یہ سارے مندرجات مضحکہ خیز اور ایک پاکستان دشمن ذہن کی اختراع معلوم ہوتے تھے  اس لیے پاکستان میں سنجیدہ حلقوں نے اُن کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور یہی جانا کہ منصور اعجاز جو پہلے بھی پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف زہر اُگلتا رہتا ہے  اس خفیہ دستاویز میں بھی یہی کچھ لگتا ہے۔ پھر ایوانِ صدر اور دفترِ خارجہ کی طرف سے بھی تردید آ گئی اور ایڈمرل مولن نے بھی ایک سوال کے جواب میں کہا اسے یاد نہیں پڑتا کہ اس کی نظر سے ایسا کوئی میمورنڈم گزرا ہے جو کسی خاص اہمیت کا حامل تھا۔
جناب عمران خان کے 30اکتوبر کے جلسے نے اس کہانی میں ایک نئی جان ڈال دی اور اسے پوری دنیا میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہو گئی۔ خان صاحب نے پورے اعتماد کے ساتھ اعلان کیا کہ منصور اعجاز نے پاکستان کے جس سینئر ڈپلومیٹ کی طرف اشارہ کیا ہے  وہ امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی ہیں جو پاکستان کے بجائے امریکی سفیر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ اس راز کے افشا ہوتے ہی قومی سیاست میں ایک ہلچل سی مچ گئی  اور یہ سوال بھی پوچھا جانے لگا کہ خان صاحب نے کن ذرائع پر اعتبار کرتے ہوئے اتنا بڑا الزام لگایا ہے اور وہ کھیل کس کا کھیل رہے ہیں اور کس قسم کی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
تبدیلی کی ہوا جناب نواز شریف کے بھی سرہانے کھڑی ہے۔ اُنہوں نے 20نومبر کی سہ پہر فیصل آباد میں بہت بڑا جلسہ کیا اور اپنے کارکنوں کا خون خوب گرمایا اور کسی قدر ثابت کیا کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور فروگزاشتوں کے باوجود عوام کے اندر مضبوط جڑیں رکھتے ہیں اور بے پناہ قائدانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں  مگر سیاسی امور میں دلچسپی رکھنے والے اہلِ نظر اس بات پر حیران ہیں کہ گو زرداری گو کی جو تحریک جناب میاں شہباز شریف نے لاہور سے چلائی تھی  وہ فیصل آباد تک پہنچتے پہنچتے سرد کیوں پڑ گئی۔ فیصل آباد کے جلسے کا پیغام یکسر مختلف تھا اور زیادہ تر تیر اندازی عمران خان پر ہوتی رہی۔ جناب نواز شریف نے اعلان کیا کہ سینیٹ کا انتخاب اور عام انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے جبکہ قوم کے اقتدار اعلیٰ اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا  اُن کے اس اعلان میں ایک بڑی تبدیلی کا جانفزا اشارہ موجود تھا کہ ہم اپنی مسلح افواج کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی حفاظت میں جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری آئی ایس آئی ہمارے کلیدی مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔

تازہ ترین