آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ غالباً 29جنوری کی بات ہے کہ میں نے گورنر ہائوس والی سڑک سے جنگ آفس جانے کیلئے گاڑی ڈیوس روڈ کی طرف کی تو ٹریفک پولیس نے بتایا کہ ادھر سارے راستے بند ہیں۔ میں وہاں سے نکل کر دوسری طرف سے شملہ پہاڑی کے قریب پہنچا تو یہ راستے بھی نہ صرف بند تھے بلکہ ٹریفک کا ایک اژدھام تھا گو عام دنوں میںبھی لوگوں کے پریس کلب کے سامنے احتجاج کی وجہ سے اکثر ٹریفک جام رہتا ہے مگر اس روزانتہا ہوگئی اور کئی گھنٹوں کی کوشش کے بعد آفس پہنچا ۔ پتہ کرنے پر معلوم ہواکہ پاکستان بیت المال کے ملازمین نے اپنے مطالبات کیلئے ریلی نکالی ہے اور کئی دن سے دفتر کے باہر دھرنا دیئے ہوئے ہیں۔
یہ دھرنا تادم تحریر جاری ہے ، اسکی وجوہات جاننے کیلئے جب میںنے تحقیق کی تو ایسے ایسے انکشافات ہوئے کہ میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا کہ وہ ادارہ جسکو قائم کرنے کیلئے 1991ء میں باقاعدہ ایکٹ بنایا گیا اور 14جنوری1992ء کواسکے تحت قائم ہوا، جسکابنیادی مقصد اور فلسفہ یہ تھا کہ چونکہ خوراک ،رہائش ، کپڑے، تعلیم اور علاج معالجہ کی سہولتیں تمام پاکستانی شہریوں کو بلاتفریق فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے ۔ اس کیلئے ایک فنڈ قائم ہوا ، ایکٹ کے تحت اس فنڈ میں لوگوں سے حاصل کئے گئے ٹیکس کے علاوہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں گرانٹ فراہم کریں گی جبکہ دیگر ادارے اور افراد انفرادی اور اجتماعی طور پر اپنے صدقات ، عطیات وغیرہ دے سکتے ہیں۔ فنڈ میں جمع ہونیوالے پیسوں کو خرچ کرنے کیلئے بھی ایکٹ میں رہنمائی فراہم کی گئی کہ کس طرح ایسے مستحق افراد کی تلاش اور چھان بین کے بعد اُنکو انفرادی طور پر اُنکے گھروں پر چیک وصول کرائے جائینگے ۔ لیکن افسوس کہ غریبوں ، ناداروں اور محتاجوں کیلئے جمع کئے گئے مال میں کس طرح خیانت ہورہی ہے ، شروع دن سے برسراقتدار حکمرانوں نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا شروع کر رکھا ہے ۔ نہ کسی کو خوف خدا ہے اور نہ ہی غریبوں کا مال ہڑپ کرتے ہوئے انہیں شرم آتی ہے۔
پاکستان بیت المال کے ملازمین کا مسئلہ پیدا ہونیکی وجہ یہ ہے کہ بیت المال کے اربوں روپے ہڑپ کرنے کی سازش ہو رہی ہے ۔ دو تین مثالیں یہاں درج کر رہا ہوں جسکے تمام ثبوت راقم کے پاس موجود ہیں کہ کس طرح قوم اور غریبوں کی دولت پر حکمراں نقب زنی کررہے ہیں ،پاکستان بیت المال پنجاب سے الیکشن میں ووٹ حاصل کرنے کیلئے مبینہ طور پر این اے 120 سے تعلق رکھنے والے 161افراد جو حکمراں جماعت کے کارندے اور غیر مستحق تھے انہیں فی کس 10ہزار روپے دیئے گئے ۔ حلقہ این اے 122کے ضمنی الیکشن سے پہلے حکمراں جماعت نے 121افراد کو بیت المال سے 20سے 50ہزار روپے تک دلوائے جبکہ حلقہ این اے 119سے تعلق رکھنے والے 277 من پسند اور غیر مستحق لوگوں کو پانچ پانچ ہزار روپے فی کس دیئے گئے ۔ یہ 277چیک جس شخص نے وصول کئے اسکا شناختی کارڈ نمبر 352029557511-9 ہے ،اسی طرح کسی کی معرفت 50لوگوں کو فی کس 20ہزار روپے دیئے گئے یہ چند حقائق عوام کے سامنے رکھے جار ہے ہیں چونکہ ان سب کے ایڈریس ، نام ، شناختی کارڈ نمبر اور وصول کرنے کے ثبوت راقم کے پاس موجود ہیں ورنہ یہ سلسلہ تو پاکستان بھر میں جاری ہے اور پاکستان بیت المال کی رقم کی بندر بانٹ سے اس ادارے کا کا م ’’ بیت الملال‘‘ رکھ دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف مستحقین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں ۔ گذشتہ ایک مہینے سے ریجنل آفس لاہور میں ہڑتال کی وجہ سے کام بند ہے ۔ ہزاروں مستحقین جن کو قسط وار پیسے ملتے ہیں اور انہوں نے اپنا علاج کرانا ہوتا ہے یا وہ سائلین جو اپنی درخواستیں لیکر آرہے ہیں وہ خوار ہو رہے ہیں، اُنکی کوئی شنوائی نہیں۔ یہ کام صرف لاہور میں ہی بند نہیں ہوا بلکہ دوسرے تمام صوبائی مراکز بھی اپنے ملازمین سے اظہار یک جہتی کیلئے بند ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان بیت المال کے منیجنگ ڈائریکٹرنے اپنے مفادات کی تکمیل کیلئے پنجاب کے صوبائی آفس کو غیر قانونی طور پر تقسیم کر دیا ہے ۔ چونکہ بیت المال ایکٹ کے تحت تمام صوبوں کے ہیڈ کوارٹرز پر صوبائی آفس ہونگے جبکہ وفاقی دارالحکومت میں ایک آفس ہوگا اور ایکٹ کے تحت کسی بھی صوبہ کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا اور شق 23کے تحت صرف وفاقی حکومت رولز بنا سکتی ہے جبکہ اس بزنس کو چلانے کیلئے وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد اسکے ریگو لیشن بن سکتے ہیں جو اس ایکٹ کے رولز سے متصادم نہ ہوں ، مگر ایم ڈی نے 27جولائی 2016ء کو پنجاب ون لاہور اور پنجاب ٹو ملتان دو حصوں میں تقسیم کر دیا ۔ حالانکہ نہ تو اسکی اجازت قانون میں ہے اور نہ ہی کسی دیگر وفاقی محکمے کا صوبائی ہیڈ کوارٹر ملتان میں ہے۔ مزید یہ کہ پنجاب سول سیکرٹریٹ کو ملتان شفٹ کرنے کیلئے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھیجی گئی سمری بھی مسترد ہو چکی ہے ۔ اس آفس کو ملتان شفٹ کرنے کیلئے محکمہ نے ملازمین سے رضا مندی لینا چاہی تو انہوں نے قطعاً مسترد کر دیا ۔ اسکے باوجود ایم ڈی اپنی ضد پر قائم ہیں جس سے ایک طرف 171خاندانوں کوڈسٹرب کر دیا گیا ہے ، انہیں دھمکیاں دی جار ہی ہیں کہ نوکریوں سے برخاست کر دیا جائیگا دوسری طرف صرف قائمقام ڈائریکٹر فنانس ہید کوارٹر اسلام آباد اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروجیکٹ جو ایم ڈی کے دست راست ہیں اور دونوں کا تعلق بہاولپور سے ہے ، انہیں نواز نے اور اپنے غلط کاموں پر پردہ ڈالنے کیلئے قانون کی دھجیاںاڑائی جارہی ہیں ۔ عملی طور پر دیکھا جائے تو اس ریجنل آفس کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ تمام ضلعی اور علاقائی آفس ڈاک خانے کے طور پر کام کررہے ہیں کسی کو فنڈز جاری کرنے کی حتمی منظوری ایم ڈی کودینی ہوتی ہے اور افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ ایکٹ کے مطابق تمام انتظامی اور مالی اختیارات ایم ڈی کو حاصل ہیں، اس کیلئے مستقل سرکاری ملازم ہی ایم ڈی ہو سکتا ہے ۔ مگر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس حکومت نے سیاسی بنیادوں پر ایم ڈی لگا دیا ۔ جو نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ سپر یم کورٹ کے فیصلے کا مذاق بھی ۔ یہ ایم ڈی اب تک 18بلین روپے خرچ کر چکا ہے ۔ سالانہ چھ بلین کا بجٹ ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک شخص جسکی سیاسی وابستگی ہو وہ کس طرح بیت المال کی رقوم امانت داروں تک پہنچا سکتا ہے۔ وہ تو صرف قوم کی اس دولت کو سیاسی بنیادوں پر ہی تقسیم کر یگا جسکی چند مثالیں آپکے سامنے ہیں۔ اسلئے چیف جسٹس آف پاکستان ، چیف آف آرمی اسٹاف سے اپیل ہے کہ وہ قوم کی اس امانت کی حفاظت کیلئے نوٹس لیں غیر قانونی طور پر لگائے گئے ایم ڈی کو ہٹا کر مستقل بنیادوں پر ایم ڈی لگایا جائے۔بیت المال کا آڈٹ کرایا جائے ۔ جن خرابیوں کی نشاندہی اس کالم میں کی گئی ہے اس حوالے سے نیب کو انکوائری کا حکم دیا جائے ۔ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کے جو مذموم مقاصد ہیں انکو بے نقاب کیا جائے، ایم ڈی کے دست راست ڈائریکٹرز جن کیخلاف کرپشن کے الزامات ثابت ہو چکے ہیں ، انکے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ اسوقت بیت المال میں تقریبا ً تمام ڈائریکٹرز ، قائمقام کے طور پر کام کر رہے ہیں ۔ اچھی شہرت کے مستقل ڈائریکٹرز تعینات کئے جائیں۔ جو لوگ بیس بیس سال سے ترقی کے منتظر ہیں انکو ترقیاں دی جائیں۔ پنجاب کے غیر قانونی تقسیم کے ایم ڈی کے احکامات کو کالعدم قرار دیا جائے۔ این اے 120، 119، اور 122میں بیت المال کے پیسے کی سیاسی بنیادوں پر تقسیم نیب اور دیگر تمام مانیٹرنگ اداروں کیلئے ایک ٹیسٹ کیس ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم نظام کوکس طرح بچا سکتے ہیں!

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں