آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ24؍ جمادی الثانی 1441ھ 19؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

واہگہ سے سرحد عبور کرتے ہی کچھ فاصلے پر جگہ جگہ مختلف سائز کے بینر سڑک کے دونوں اطراف پر ٹنگے نظر آئے جن پر کشمیریوں سےیکجہتی کے خوشنما نعروں کیساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیڈران کی فوٹو شاپ سے مرمت شدہ تصاویر کی بھر مار تھی،زندہ دلان لاہور کیلئے موچی دروازہ پر جمع ہونے کی منادی تھی جہاں آصف علی زرداری اور انکی پارٹی کے دیگر لیڈران کشمیر کی آزادی کا مژدہ سنانے جارہے تھے. ایک بینر پر سرخ پس منظر میں سفید رنگ کے جلی الفاظ میں لکھا تھا: "5فروری کونکلو کشمیر کی آزادی کیلئے، پانچ فروری کشمیریوں کے ساتھ باقاعدہ یکجہتی منانے کی روایت لگ بھگ تین دہائی پرانی ہے جب 1990 ء میں اسوقت کے وزیراعلی پنجاب میاں نواز شریف نے کشمیریوں کیساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے عام احتجاج کا اعلان کیا،اس کے بعد دنیا بھر میں کشمیریوںکی آزادی کے حق میں جلسوں، مظاہروں اور تقریروں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو ہنوز کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے اور کشمیر کے اندرونی حالات کے مطابق ان میں کمی یا ا ضافہ ہوتا رہتا ہے۔
اس دور میں میں نے بھی برطانیہ میں ہائیڈ پارک سے لے کر ٹرافالگر اسکوائر تک کئی مظاہروں میں حصہ لیا جہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ تو شریک تھے مگر ساتھ ہی درجنوں مقررین اپنی بے ہنگم تقریروں سے مسئلہ کشمیر کو مزید

الجھانے کے درپے تھے۔ اس کے علاوہ میں نے لندن سے لیکر برسلز اور جنیوا سے ہیگ تک بشمول اقوام متحدہ اور یورپی پارلیمنٹ درجنوں کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی ان تمام میں یہ قدر مشترک تھی کہ ان میں اکا دکا گورے مقررین کے علاوہ دیسی دانشوروں کا ایک جم غفیر ہوتا تھا جنکی مسئلہ کشمیر سے ناواقفیت تو مسلم تھی ہی مگر صورتحال سے بے بہرہ ان کی لکھی خشک تقریریں سن کر لگتا تھا کہ شاید ماضی بعیدکے دور کے انسانوں نے تحریر کیا ہو، مزیدبرآں ان مواقع پر سامعین کی اکثر تعداد کشمیری یا پاکستانی تارکین وطن پر مشتمل ہوتی ہے جو کشمیریوںکے نہ صرف خاصے ہمدرد بلکہ نہایت ہی پر خلوص بھی تھے مگر ان تقریبات کے حوالے سے انکی معلومات نہ ہونے کے برابر ہےیہی وجہ ہے کہ ان بین الاقوامی تقریبات کی نہ ہی کوئی وقعت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی اثر، صرف متعلقہ محکمے اپنی ’کارکردگی‘ کے حوالے سے ان کارروائیوں کو اپنی فائلوں کا پیٹ بھرنے کیلئے استعمال کرکے داخل دفتر کردیتے ہیں پرویز مشرّف کے زمانے میںپاکستانی ریاست کے موقف میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے جوہری تبدیلی آئی،مسئلے کو حل کرنے کے بجائے اس سے پیدا ہونے والی مخاصمت کی خوش انتظامی پر زور بڑھ گیا،شاید یہی وجہ ہے کہ انکے دور میں یوم یکجہتی کشمیر صرف ایک روایت بنکر کر رہ گیا جس کو صرف ایک سرکاری ذمہ داری کے طور پر نپٹایا جانے لگا،صدر مشرف نے کمال فراست سے مسئلہ کشمیر کو دفن کرنے کیلئے کشمیری ہاتھوں کو استعمال کیا، انہوں نے لندن، نیو یارک اور برسلز میں ’کشمیر سینٹر‘ کھولے جنھوں نے کشمیرکاز کی ترویج کی آڑ میں کشمیر کے بارے میں نت نئے بیانیوں کو جنم دیا جس سے نہ صرف عمومی طور پر ایک کنفیوژن پھیلا بلکہ اس کی بنیاد پر کشمیریوں کو مزید تقسیم کردیا گیا،اگر بزرگ کشمیری لیڈر سید علی گیلانی پاکستانی حکومت کی ان ریشہ دوانیوں کیخلاف نہ ڈٹ جاتے تو مشرف دور کے ایک وزیر کے بقول مسئلہ کشمیر کو ایٹمی تابکاری فضلے کی طرح سینکڑوں فٹ زمین کے نیچے دفنایا گیا ہوتا، پاکستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے گیلانی کو پہلے منانے اور پھر ان کو کنارے لگانے کی بھرپور کوشش کی مگر چونکہ گیلانی کا مرتبہ اور عوام خاص کر نوجوانوں میں انکی بےپناہ مقبولیت کو کم نہیں کیا جاسکا اسلئے یہ کوششیں بارآور نہیں ہوسکیں۔ مشرف کے جانے کے بعد آصف علی زرداری کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے بھی کشمیر کے تئیں سرد مہری جاری رکھی اور پی پی پی کی قیادت زبانی جمع خرچ کیلئے کبھی کبھار سیاسی حالات کی مناسبت سے بیانات داغتی رہی،اس سے پہلے پاکستان کی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کی موجودہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا دورہ پاکستان اسپانسر کروایا، مفتی نہ صرف یہاں کے مقتدر اداروں سے ملی اور مستقبل میں انکی درپردہ حمایت کا عہد حاصل کرلیا بلکہ انھوں نے زرداری کیساتھ ملکر ایک پریس کانفرنس بھی کی۔
یہ پہلا موقع تھا جب ایک بھارت نواز کشمیری سیاستدان نے ایک پاکستانی سیاستدان کے ساتھ ملکر مشترکہ پریس کانفرنس کی،دونوں لیڈران نے امن اور بقائے باہمی پر زور دیا جس سے صاف ظاہر تھا کہ یہ لوگ دبے الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے بجائے اسکی مینجمنٹ پر زور دے رہے تھے،اسی زمانے میں میں نے اسلام آباد میں فارن منسٹری کے ایک سینئر عہدیدار سے اس بارے میں استفسار کیا تو انہوں نے بڑی بے پروائی سے بتایا: ’’ مسئلہ کشمیر کو حالات کے جبر نے شاید عمر بھر کیلئے دفن کر دیا ہے‘‘ میاں نواز شریف کی حکومت کے بعد پاکستان میں سیکورٹی اور ڈویلپمنٹ کے حوالے سے واضح تبدیلی نظر آئی حالانکہ انکی حکومت کو شروع سے ہی گہرے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جو ہنوزجاری ہے مگر کشمیر کے حوالے سے تمام ادارے ’اسٹیٹس کو‘ کو قائم رکھنے کے حق میں تھے،میاں صاحب نے مولانا فضل الرحمان کو کشمیر کمیٹی کے چیرمین کے عہدے پر برقرار رکھا حالانکہ نہ وہ اس مسئلے کے بارے میں معلومات رکھتے ہیں اور نہ ہی وہ اب تک اس بارے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ کرپائے ہیں۔ ان حالات میں مسئلہ کے باب میں روایتی زبانی جمع خرچ سے ہی کام چلتا رہا. میاں صاحب کے مخالفین جن میں پی پی پی اور تحریک انصاف شامل ہیں اس بے عملی کو ان کی ہندوستان نوازی کی دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے حالانکہ پی پی پی کے دور میں مسئلہ کشمیرپر مشرف دور سے زیادہ بدعملی کا مظاہرہ کیا گیا۔
جولائی 2016 ء میں برہان وانی کی وفات کے بعد بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کے حوالے جو کوئی بھی اتفاق رائے تھا اسکی بنیادیں ہل گئیں،برہان کی شہادت کے چند دن تک تو پاکستان نے حسب معمول خاموشی اختیار کرلی مگر جب بھارتی گولہ بارود کا بے تحاشہ طوفان بھی کشمیریوں کے جذبہ حریت کو سرد نہ کرسکا تو پاکستان نے زمینی حقائق کے مطابق کشمیر کے بارے میں اپنے ہلکے اور لا یعنی بیانیے کو بدل کر کشمیریوں کیلئے حق خودارادیت کی دوبارہ حمایت شروع کردی، یہ الگ بات ہے کہ اس سلسلے میں اب تک کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا اور آزمائے ہوئے اقدامات سے ہی کام چلایا جارہا ہے۔ موچی گیٹ پر ہونے والی ریلی میں زرداری صاحب نے کشمیر یوں کی مصیبتوں کے بارے میںخال خال ہی کوئی بات کی مگر اپنے سیاسی مخالفین کو خوب لتاڈا، شاید وہ ذوالفقار علی بھٹو کے نقش قدم پر چل کر کشمیر کے جذباتی نعروں سے پنجاب میں اپنی سیاست کو از سر نو زندہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اسکے جواب میں میاں نواز شریف نے مظفرآباد میں ایک بڑی اور محصور کن ریلی سے خطاب کیا،آپ نے بھی ملکی سیاست کو ہی موضوع بنایا اور اپنے مخالفین پر تابڑ توڈ حملے کئے جس سے کشمیریوں کی آوازدب کر رہ گئی، اگرچہ محترمہ مریم نواز نے عوام کے موڈ کی مناسبت سے کشمیر بنےگا پاکستان کے چند سرکاری نعرے ضرور لگوائے مگر انکی ادائیگی جلسے کے دوران خاموشیوں کو کوئی معقول پردہ فراہم کرنا مقصود تھا نہ کہ کشمیریوں کے لئےکوئی واضح لائحہ عمل،
یہ چاہتیں یہ پذیرائیاں بھی جھوٹی ہیں
یہ عمربھرکی شناسائیاںبھی جھوٹی ہیں
یہ لفظ لفظ محبت کی یورشیں بھی فریب
یہ زخم زخم مسیحائیاں بھی جھوٹی ہیں.