آپ آف لائن ہیں
پیر 5؍رمضان المبارک 1439ھ 21؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سعودی عرب کی تاریخ میں موجودہ حکومت کا دور سماجی طور پر تبدیلیوں کا دور تصور کیا جارہا ہے جس کا سہرا 33 سالہ جواں سال سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے سر جاتا ہے جنہوں نے سعودی تاریخ کے اہم ترین اقدامات کئے۔ محمد بن سلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ موجودہ دور میں سعودی عرب دور جدید کی تبدیلیاں لائے بغیر ترقی نہیں کرسکتا اور حالیہ سماجی تبدیلیاں سعودی عرب کو یکسر بدل کر رکھ دیں گی۔ محمد بن سلمان نے گزشتہ سال سعودی عرب میں جو سب سے بڑی تبدیلی متعارف کرائی، وہ سعودی خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینا تھا۔ سعودی ولی عہد کا یہ بہت بڑا فیصلہ تھا کیونکہ سعودی خواتین کافی عرصے سے اس پابندی کے خلاف احتجاج کررہی تھیں۔ پابندی کے خاتمے کے بعد خیال کیا جارہا ہے کہ رواں سال جون تک دوسرے ممالک کی طرح سعودی خواتین بھی سڑکوں پر گاڑیاں چلارہی ہوں گی۔
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنے ایک اہم اور بڑے فیصلے میں حال ہی میں ثقافت اور کھیلوں کے فروغ کیلئے ’’انٹرٹینمنٹ اتھارٹی‘‘ تشکیل دینے کا حکم دیا ہے جو ملک بھر میں کنسرٹ اور کامیڈی شوز منعقد کرے گی جبکہ یہ اتھارٹی سعودی عرب میں سینما گھر کھولنے کیلئے لائسنس بھی جاری کرے گی جس کی اس سے قبل اجازت نہیں تھی۔ اسی طرح سعودی خواتین کو اسٹیڈیم اور گرائونڈز میں کھیلوں کے

x
Advertisement

مقابلے دیکھنے کی اجازت بھی دے دی گئی ہے جس پر اس سے قبل پابندی عائد تھی۔ سعودی ولی عہد کے حکمنامے کے تحت سعودی خواتین کو ملازمت کرنے کی اجازت بھی مل گئی ہے اور اب سعودی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ کام کرسکیں گی جبکہ سعودی عرب میں آج کل اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ عورتوں کو عبایا کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کی اجازت دی جائے۔ اسی طرح سعودی عرب میں رواں سال سے اسلامی ہجری کیلنڈر کی جگہ اب عیسوی کیلنڈ ر نے لے لی ہے۔ سعودی حکومت نے مذہبی پولیس مطوع جو سعودی معاشرے میں بہت زیادہ طاقتور اور اہم تصور کی جاتی تھی، کے اختیارات میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اب مذہبی پولیس کو مذہب کے نام پر کسی کو حراست میں لینے یا زدوکوب کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب کے سماجی کارکن اور دانشور طبقہ کافی عرصے سے اس تبدیلی کا منتظر تھا جنہیں یہ خدشہ تھا کہ اگر مذہبی پولیس کو اسی طرح اختیارات حاصل رہے تو یہ پولیس سعودی عرب کو پتھروں کے دور میں لے جائے گی۔
عالمی سطح پر تیل کی گرتی ہوئی قیمتوں اور سعودی بجٹ خسارے کے باعث سعودی حکومت نے دیگر خلیجی ممالک کی طرح 5 فیصد ویلیو ایڈیڈ ٹیکس (VAT) نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ رواں ماہ سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ایک ریال سے بڑھاکر 2 ریال کردی گئی ہیں جس سے ملک میں مہنگائی کا طوفان امڈ آیا ہے اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوچکا ہے جس سے سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ مکہ مکرمہ میں کئی عشرے سے مقیم میرے دوست حسن رشید نے میری معلومات میں اضافہ کرتے ہوئے بتایا کہ سعودی حکومت نے حال ہی میں ان غیر ملکی خاندانوں جن کے بچے سعودی عرب میں مقیم ہیں، پر نیا فیملی ٹیکس عائد کیا ہے جس کے تحت فیملی کے سربراہ کو ہر بچے کا 100 ریال ماہانہ ادا کرنا پڑے گا جبکہ اگلے سال یہ فیملی ٹیکس بڑھاکر فی بچہ 200 ریال اور تیسرے سال 300 ریال ماہانہ کردیا جائے گا۔ اس فیصلے سے سعودی عرب میں کئی عشرے سے مقیم پاکستانی شدید متاثر ہوئے ہیں اور اب اُنہیں سعودی عرب میں فیملی رکھنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔ حسن رشید کے بقول حالیہ فیصلے کے بعد تقریباً 27 لاکھ سے زائد غیر ملکی شہری جن میں پاکستانیوں کی بڑی تعداد شامل ہے، سعودی عرب چھوڑ کر جاچکے ہیں۔ سعودی حکومت نے عمرہ ویزے پر بھی نئی فیسوں کا اعلان کیا ہے جس کے تحت سال میں پہلی بار عمرہ کرنے والوں سے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی جبکہ سال میں دوسری بار عمرہ کرنے والوں سے 2000 ریال، تیسری بار عمرہ کرنے والوں سے 4000 ریال اور سال میں چوتھی بار عمرہ کرنے والوں سے 8000 ریال فیس وصول کی جائے گی جو یقیناًایک خطیر رقم ہے۔ اسی طرح وزٹ ویزہ فیس 35 ریال سے بڑھاکر 2000 ریال کردی گئی ہے۔
سعودی عرب میں مذکورہ بالا اقدامات اور سماجی تبدیلیوں کا مشاہدہ مجھے اُس وقت ہوا جب میں اپنے بھائی اختیار بیگ، بھابھی اور بہنوں کے ہمراہ عمرے کی سعادت کیلئے سعودی عرب گیا۔ قابل حیرت بات یہ تھی کہ عمرہ اور وزٹ ویزے پر فیسوں میں اضافے کے باوجود عمرہ زائرین مسجد الحرام میں بڑی تعداد میں موجود تھے حالانکہ تعمیراتی کام کے باعث مسجد الحرام میں صرف احرام میں ملبوس زائرین کو طواف کی اجازت تھی۔ اس بار میرا عمرہ اس لحاظ سے بھی یادگار رہا کہ میں نے مدینہ منورہ کے علاقے باب الوالی میں اپنے دوست کے کھجوروں کے تاریخی فارم میں پورا دن گزارا جہاں عجوہ کھجور کے سینکڑوں درخت لگے تھے۔ میرے دوست نے بتایا کہ نبی کریمﷺ کے دور میں یہ باغ مشہور صحابیؓ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ملکیت تھا جبکہ اس باغ سے ملحق داماد رسولﷺ سیدنا حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کھجوروں کا تاریخی باغ بھی ہے جہاں وہ کنواں آج بھی موجود ہے جسے حضرت عثمان غنیؓ نے ایک یہودی سے خرید کر مسلمانوں کیلئے وقف کیا تھا۔ میرے دوست نے بتایا کہ نبی کریمﷺ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کے اِن باغات میں آکر اکثر آرام فرمایا کرتے تھے، باغ میں نبی کریمﷺ کے دور کے دو چھوٹے کمرے اور کچھ چیزیں آج بھی اُسی حالت میں موجود ہیں جبکہ باغ کے کنویں سے میٹھا پانی بھی جاری ہے۔ واضح رہے کہ باغ میں لگے عجوہ کے بارے میں مشہور ہے کہ اس کھجور کا درخت نبی کریمﷺ نے لگایا تھا اور اس کھجور میں سینکڑوں بیماریوں کا علاج ہے جبکہ یہ کھجور دوسری کھجوروں کے مقابلے میں مہنگی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کی ترقی میں وہاں کئی عشروں سے مقیم غیر ملکی باشندوں بالخصوص پاکستانیوں کا اہم کردار ہے جو حال ہی میں عائد کئے گئے فیملی ٹیکسز کے باعث نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ سعودی حکومت کو چاہئے کہ فیملی ٹیکس پر نظرثانی کرے تاکہ سعودی عرب میں مقیم غیر ملکی بالخصوص پاکستانی غریب خاندان یہ بوجھ برداشت کرسکیں۔ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ اقدامات و اصلاحات کو سعودی عرب کی ترقی کیلئے ناگزیر قرار دیا جارہا ہے جبکہ سعودی شہریوں بالخصوص نوجوان طبقے میں سعودی ولی عہد کے اقدامات کو نہایت سراہا جارہا ہے جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی سوسائٹی ملک میں تبدیلی چاہتی ہے لیکن دوسری طرف قدامت پسند سعودی باشندے ان اقدامات سے خوش نہیں تاہم سعودی ولی عہد کا موقف ہے کہ ’’یہ اقدامات و تبدیلیاں ناگزیر ہیں کیونکہ لوگوں کی آواز کو مزید دبایا نہیں جاسکتا۔‘‘ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا نوجوانوں کی حمایت سے سعودی عرب کی ترقی میں راہ میں حائل رکاوٹوں کو گراکر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صفوں میں کھڑا کرنا یقیناََ مثبت قدم ہے جس کے بارے میں ماضی میں سوچنا بھی سعودی عرب میں ناممکن تھا مگر آج سعودی عوام کو یہ یقین ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کا یہ وژن سعودی عرب کو ترقی کی جانب گامزن کرے گا۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں