سب سے پہلے وضاحت ، گزشتہ ہفتے آخری سطر میں ’’قلب بینا‘‘ کی بجائے ’’قلت بینا‘‘ شائع ہوگیا، یہ وضاحت اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس ایک غلطی سے پورے مضمون کی روح ہی مجروح ہوگئی۔ یہ وہی معاملہ ہوگیا کہ ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کردیا۔ ہم دعا لکھتے رہے اور وہ دغاپڑھتے رہے۔اس وضاحت کے بعد آتے ہیں اصل موضوع کی طرف کیونکہ ’’ قلت بینا‘‘ نے مجھے ’’قلب بینا‘‘ پر مزید لکھنے پر اکسایا ہے۔ یہ قلب بینا ہے کیا ؟ یہ کس کیفیت اور کس قلبی حالت کو کہتے ہیں۔ آنکھ والا دل۔ کیا دل کی بھی آنکھ ہوتی ہے؟ جی ہاں ہوتی ہے لیکن اس آنکھ کو دیکھنے کے لئے بھی خصوصی آنکھ ہونی چاہئے کیونکہ دل کی آنکھ عام آنکھ کی طرح نہیں ہے ایک خاص بینائی کی کیفیت ہے اور اس کا مشاہدہ کرنے کے لئے بھی روحانی آنکھ کی ضرورت ہے بہت سی چیزیں ہماری زندگی میں کار فرما ہیں جو مشاہدہ میں نہیں آتیں لیکن حقیقت میں موجود ہوتی ہیں تو ان کا نظر نہ آنا ان کے نہ ہونے کی دلیل نہیں ہے وہ ہوتی ہیں لیکن ہماری عام آنکھ انہیں دیکھ نہیں سکتی۔ قرآن حکیم کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو یہ حقیقت روزو روشن کی طرح عیاں ہوتی چلی جاتی ہے۔ وہ کیسی لہریں جو کافروں کے دلوں ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں پر لگائی جاتی ہیں۔ختم اللہ علی قلو بھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم، ہاں یہ مہریں لگی ہوتی ہیں لیکن ہر کسی کو نظر نہیں آسکتیں تو پھر یہ مخفی حقیقتیں یہ پوشیدہ راز کس کے سامنے آشکار ہوتے ہیں کون محرم راز درون خانہ بنتا ہے اگر یہ بھید جاننا ہے اگر ان رازوں تک رسائی حاصل کرنا ہے تو پھر اس کتاب حکمت میں لازوال ابدی ہدایت سے روشنی حاصل کیجئے! ارشاد ربانی ہے، وصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم، ان لوگوں کے ساتھ صحبت اختیار کرو ان کی محفلوں میں بیٹھنا شروع کرو جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے رہتے ہیں اس کے ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔ ان کے چہروں پر اپنی آنکھیں مرتکز کردو تو تمہیں اللہ تعالیٰ کے پوشیدہ راز سمجھ آنا شروع ہوجائیں گے۔ علامہ محمد اقبال کے مرشد مولانا جلال الدین رومی نے اس کی طرف اشارہ یوں کیا ہے
یک زمانہ صحبت با اولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
اللہ تعالیٰ کے دوستوں کی محفل میں شرکت ان کی صحبت ان کا قرب سوسالہ بے ریا عبادت سے بہتر ہے آپ نے غور کیا کہ یوں تو ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ کرام میرے آقا کریمﷺ کا خطبہ سننے کے لئے میدان عرفات میں موجود تھے لیکن تاریخ نے چند سو صحابہ کرام کے نام ہی کیوں محفوظ رکھے؟۔ یہ نام مسجد نبوی اور مسجد قبا کے درودیوار پر آج بھی جگمگارہے ہیں۔ سعودی حکومت نے اپنی شدت پسندی کے باوجود ان تاریخی نفوس قدسیہ کے اسمائے گرامی مسجد نبوی کی پیشانی پر اور دائیں بائیں کندہ کرائے ہیں۔ ان چند شخصیتوں کے نام ہی کیوں؟ کیوں کہ یہ ’’ خاص الخاص‘‘ لوگ ہیں، یہ وہ لوگ تھے جنہیں میرے آقا کریم ﷺکی محفلوں میں بیٹھنے آپﷺ کے ساتھ سفر کرنے، آپﷺ کی معیت میں کافروں کے خلاف جہاد اور قتال فی سبیل اللہ کرنے، آپﷺ کی دعوت پر لبیک کہنے، آپﷺ کے اشارے پر جان و مال قربان کرنے اور ہر ہر قدم پر ایثار وقربانی اور عزیمت کے اظہار کے مواقع زیادہ ملے تھے اس لئے یہ خاص بن گئے ،اس لئے یہ ’’ممتاز‘‘ بن گئے تو آج کے دور میں ہمارے لئے کیا ہے؟ ایک تو وہی بات جو سورۃ ’’الکہف ‘‘ میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ ’’وصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم‘‘‘اپنے رب کو پکارنے والوں کے ساتھ اپنی جان کو نتھی کرلو، پوری طرح سے جوڑ لو اور اگرچہ آج کے دور میں جہاں ہر چیز اصلی ملنا مشکل ہے وہاں آپ کو قدم قدم پر جعلی اور خود ساختہ روحانی رہنما بھی مل جائیں گے۔ روحانیت کی آڑ میں ہوس کے پجاری ، شہرت دولت کی پوجا کرنے والے اپنے آپ کو سب سے نمایاں کرنے والے، اپنی تعریف وتوصیف سننے کی شیطانی بیماری میں مبتلا، لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیل کر اپنی دکانداری چمکانے والے،تو پھر اے میرے رب ! ان حالات میں کیا کریں؟؟ خدا وندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں کہ سلطانی بھی عیاری ہے، درویشی بھی عیاری، جب گھبرا کرآپ شکوہ کریں گے تو اقبال کی طرح آپ کو بھی جواب شکوہ آئے گا جس کا خلاصہ یہ ہے کہ
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
لیکن وہ تو اقبال تھا، اس کے لئے افلاک سے نالوں کا جواب آتا تھا۔ ہمارے جیسے عامیوں کے لئے کیا۔؟ اپنے آقا کریمﷺ کی ہدایات پڑھنے کی کبھی زحمت گوارہ کی ہے یا ساری زندگی ان جعلی عاملوں، تعویز فروشوں اور بزرگوں کی قبریں بیچنے والوں کے سامنے ہی لٹتے اور پٹتے رہو گے! استخارہ کرو، استخارہ، اخبار میں شائع ہونے والے شعبدہ بازوں کا تجویز کردہ نہیں، میرے آقا کریم ﷺ کا عطا کردہ استخارہ، استخارہ کسی سے کرایا نہیں جاتا، نادانو سمجھو، غور کرو، استخارہ خود کیاجاتا ہے۔ اس احکم الحاکمین کی رحمت کے دروازے ہر وقت کھلے ہیں جب چاہو اس سے مانگو، وہ فرماتا ہے جب بھی میرا بندہ مجھ سے مانگتا ہے تو مجھے اپنے قریب پائے گا، تو دعائے استخارہ میں اس سے ’’ ولی مرشد‘‘ کی رہنمائی مانگو، رہنمائی کا اشارہ مل جائے گا۔ ’’ ولی مرشد‘‘ عجمی اصطلاح نہیں قرآنی اصطلاح ہے ، سورۃ الکہف پھر غور سے پڑھو، ومن یفلل اللہ فلن تجدلہ ولیاً مرشدا۔ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کرتا ہے تو پھر اس کو کوئی ولی مرشد نہیں ملتا۔ مطلب کیا ہوا، یعنی جب رب تعالی کا خصوصی کرم ہوتا ہے تو پھر آپ کو ’’ ولی مرشد‘‘ مل جائے گا۔ اب نبوت ورسالت کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا، میرے آقا ﷺ نے قصر نبوت کی تکمیل فرمادی ہے، اب مبشرات ہیں مبشرات۔ یہ خوشخبریاں یا آپ کو براہ راست خود ملیں گی یا کسی ایسی شخصیت کے وسیلے اور نسبت سے جس کا دل آنکھوں والا ہے جس کا ’’قلب بینا ‘‘ ہے، ورنہ دنیامیں ایسے بہت سے لوگ ہیں۔
لھم قلوب لایفقھون بھا، ان کے دل ہیں لیکن غور وفکر سے خالی اور عاری ہیں۔ لھم اعین لا یبصرن بھا، ان کی آنکھیں ہیں لیکن دیکھ نہیں سکتے۔ لھم آذان لا یسمعون بھا۔ ان کے کان ہیں لیکن سن نہیں سکتے۔ یعنی ظاہری طورپر ان کے جسمانی اعضا صحیح سالم ہوں گے لیکن درحقیقت وہ مردہ دل وجاں لئے پھرتے ہوں گے جس کی طرف اقبال نے یوں اشارہ کیا ہے:
دل مردہ دل نہیں ہے اسے زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے امتوں کے نقش کہن کا چارہ
تو یہ ’’ قلب بینا‘‘ والے لوگ کیسے دل کی آنکھ سے دیکھ لیتے ہیں۔ ضرور دیکھتے ہیں قرآن کہتا ہے انھا لاتعمل ابصارولکن تعمل قلوب التی فی الصدور ظاہری آنکھیں نہیں بلکہ دل کی آنکھیں کام کرتی ہیں یعنی باطنی آنکھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے۔ میرے آقا کریمﷺ نے اس کی تصدیق یوں فرمائی اتقوافراست المومن فانہ، ینظر بنوراللہ، مومن اللہ کے نور کی معرفت سے دیکھتا ہے۔ اسی نور، اسی دل بینا کی دعا کی تلقین اقبال کرتے کرتے چلا گیا۔
دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں