آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہوش پر کبھی جوش کو غالب نہ آنے دیا

 نپولین بونا پارٹ نے اخبارات کی قوت اور معاشرے میں ان کے کردار کا اعتراف کرتے ہوئے کہاتھا،

’’ میں سوسنگینوں کی بہ نسبت ایک اخبار سے زیادہ ڈرتا ہوں‘‘۔

یہی بات شاہ جارج ششم نے ان الفاظ میں کہی تھی

’’ اخبار ٹائمز(لندن) دریائے ٹیمز سے بھی زیادہ طاقت ور ہے‘‘۔

مبالغہ آرائی سے کام نہ لیا جائے تو اخبار جنگ کی ولادت کے اول دن سے اس کی طاقت کا اندازہ ہوگیا تھا ، اس کی بھاری بھرکم، بھرپور طاقت ورآواز کا ہی کاتو اثرتھا کہ تحریک پاکستان کی جدوجہد میں حصہ لینے اور مسلمانوں کے مطالبات کی حمایت کی پاداش میں برصغیر کے انگریز حکم رانوں نےروزنامہ ’’جنگ‘‘ کے بانی، میر خلیل الرحمٰن کو جیل بھی بھیجا، دھمکیاں بھی دیں، مگر ان کے پایہ استقلال میں کوئی کمی نہیں آئی۔ جنگ کا اجرا ایسے وقت میں ہوا، جب خون کی ہولی کھیلی جارہی تھی، لیکن آگ کے دریا کو پار کرنے کی جدوجہد میں میر صحافت، میر خلیل الرحمٰن کے قدم بڑھتے رہے، حکم راں ڈرتے رہے، سامراجی قوتیں سوچتی رہیں کہ جلد یابدیر یہ اخبار بند ہو جائے گا۔ شاید اس سوچ کی وجہ یہ ہوکہ 1823میں اردو میں نکلنے والا اخبار، جام جہاں نما، انگریزوں کا ترجمان ہونے کی بنا پر پانچ سال سے زیادہ نہ چل سکا، تاہم 1836میں نکلنے والا مولوی محمد باقر کا دہلی اخبار،1837میں جاری ہونے والا سید محمد خان کا سید الاخبار اور دوسرے اخبارات نے برصغیر پر انگریزوں کے تسلط کے خلاف رائے عامہ کو اپنے اپنے انداز میں منظم کیا، یہی وجہ تھی کہ1857کی جنگ آزادی کے دوران ان چھ اخبارات کے سوا تمام اردو اخبارات بند کردئیے گئے تھے، جو ہندووں کے زیر انتظام انگریزوں کے حامی تھے، بعدازاں 1875سے اُردو کے روزنامہ اخبارات کا دور شروع ہوا، جن میں سے بعض تو چند ماہ بعد بند ہو گئے تھے، بعض چند سال چلے اور کچھ طویل عرصے تک ایسے زندہ رہے کہ صحافت کی تاریخ میں آج بھی ان کے بانیوں کے نام ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں۔ ان میں برک کی زبان اور میکالے کا قلم رکھنے والے محمد علی جوہر کے جریدے’’ ہم دردوکامریڈ‘‘ میدانِ صحافت و ادب میں مولانا ظفر علی خان کا زمیندار سنگ میل کی طرح تھا۔ تاریخ ساز اخبار، الہلال اور البلاغ‘‘ کے بانی مولانا ابوالکلام آزاد کے قلم کی جولانباں غضب کی تھیں، لیکن صحافت کے یہ ستارے ایک ایسے دور کی پیداوار تھے، جب صحافت دراصل ایک سیاسی مشن تھا۔ ان کا مقصد سیاسی جنگ لڑنا تھا۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے وہ اپنے اخبار کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتے تھے، لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران میر خلیل الرحمٰن نے روزنامہ جنگ کا آغاز کیا تو غالباً اردو صحافت کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے سامراج کو یہ گمان گزرا ہو گا کہ دیگر اخبارات کی طرح یہ اخبار بھی جلد بند ہو جائے گا، لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ دوسری عالمی جنگ کا حرفِ اوّل جنگ گروپ کی صورت میں اردو صحافت کی تاریخ کا حرفِ آخر بن جائے گا۔ جنگ کے بانی میر خلیل الرحمٰن صاحب نے اپنی صحافیانہ زندگی کا آغاز اُس وقت کیا، جب برصغیر کے مسلمان اپنے لیے ایک علیحٰدہ وطن کے حصول کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ قیام پاکستان کی عظیم تر جدوجہد کی لمحہ بہ لمحہ داستان کے وہ ناقابل فراموش باب، جن میں قلم سے جہد مسلسل سنہری حروف میں رقم ہے، میرصاحب کے قابلِ ستائش کردار سے پر ہے۔

کہاجاتا ہے، انسانوں کوجانچنے اور پہچاننے کے بہت سے پیمانے ہوتے ہیں، زاویے ہوتے ہیں، اس کے لیے کبھی ہم اپنی آنکھوں پر اعتبار کرتے ہیں، کبھی اپنے احساسات پر، کبھی اپنوں کی رائے پر، کبھی پرائے لوگوں کے تاثرات پر، میرصاحب کے بارے میں کیا اپنے کیا پرائے، سب کہتے تھے کہ، وہ خبر بننے سے پہلے اسے اڑا لیتے تھے۔اُڑتی چڑیا کے پَر گِننے میں بڑی مہارت رکھتے تھے۔ ستارہ شناس نہ ہونے کے باوجود یہ پتا چلا لیتے تھے کہ ہوا کارخ کس طرف کو ہے اور مستقبل میں کیا حالات پیش آنے والے ہیں۔ اُنہوں نے مخالف طوفانوں کے تھپیڑوں میں جنگ کے چراغ کو مدہم نہ ہونے دیا۔ ان کا دھیما انداز گفتگو، مدلل انداز بیاں مخالف کوبھی اپنی رائے بدلنے پر مجبور کردیتا تھا۔ ان کے مزاج میں حلم، بردباری اور علم پروری ایسی صفات تھیں، جنہوں نے ان کو ہردل عزیز بنادیا تھا ۔ سچ تویہ ہے کہ اُن کی اصول پرستی، راست بازی وراست گوئی میں اقبال کا مردِ مومن نظر آتا تھا ۔ صحافت کے مسلمہ قائد کی حیثیت سے وہ اک جہاں تازہ آباد کرتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پاکستان کی سب سے بڑی صحافتی امپائر بنا ڈالی اور بغیر تقاضائے صلہ وتعریف اپنے کارہائے نمایاں کے ذریعے تاریخ صحافت رقم کرتے چلے گئے۔ میرصاحب کو اخبارات کو کام یاب بنانے کاجوفن آتاتھا ، وہ اُنہوں نے کسی شخص یا ادارے سے نہیں سیکھا تھا، یہ اُن کی غیر معمولی ذہانت، تجربہ اور استقامت تھی کہ وہ عوام کے ذوقِ مطالعہ کو پرکھتے اور پھر جدید وقدیم صحافت،پرانی اقدار اور نئی نسل کے تقاضوں کو سموکر اپنے اخبارات کوتازہ بہ تازہ رکھتے۔ میرصاحب نے صحافت کے تمام شعبوں میں اپنی انفرادیت کے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں، ان کی جدت پسندی نے اردو اور انگریزی صحافت میں نئی نئی راہیں تلاش کیں۔ اُنہوں نے یک دم جست لگانےکے بجائے زینہ بہ زینہ چڑھنے کوترجیح دی۔ وہ تضع سے مبرا،اخباری دنیا کے مردِ میداں تھے۔ جذبات کے تابع نہیں تھے، نہ کبھی ہوش پرجوش کوغالب آنے دیا اور نہ ہی پیشہ ورانہ معمولات میں اپنی ذات ، اپنی انا کو داخل ہونے دیا۔ اُن کا شمار عامل صحافیوں اور صحافت کے محنت کشوں میں ہوتا تھا ۔ ان کی حیثیت ایک تاریخ ساز صحافی کی تھی ۔ وہ خودساز شخصیت تھے۔ انہوں نے کسی مخصوص پارٹی کا نقیب بننے کے بجائے ہمیشہ ملک وملت کا ترجمان بننے کو ترجیح دی ۔ انہوں نے جنگ اخبار کے ذریعے ایک طرف تحریک پاکستان کو آگے بڑھایا اور دوسری طرف قیام پاکستان کے بعدان مقاصد کو ہمیشہ عزیز رکھا، جس کی بنیاد پریہ ملک وجود میں آیا۔ وہ کسی حزب اقتدار اور حزب اختلاف سے وابستہ نہیں ہوئے۔ ان کی وفاداری اس دیس اور اس سرزمین سے رہی۔ ان کا ہاتھ ہمیشہ پاکستان کے عوام کی نبض پررہا ۔ انہوں نے غریبوں کے دلوں کی دھڑکنیں سننے میں بھی کبھی کوتاہی نہیں کی، یہی وجہ ہے کہ آج ان کے لگائے ہوئے پودے خواص کے لیے بھی ہیں اور عوام کے لیے بھی۔ انہوں نے اپنا خون پسینہ اس شجر سایہ دار وثمر آور کی آبیاری میں صرف کیا۔ اللہ نے انہیں جوہر شناس آنکھیں دیں۔  صحافت ہی نہیں، قومی زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی ایسے لوگ خال خال ہی ہوں گے، جو ’’ وژن‘‘ کی نعمت سے میر صاحب کی طرح سر فراز کئے گئے ہوں۔ ان کی زندگی کارناموں کی طویل فہرست سے عبارت ہے۔ ان کی شبانہ روز تگ ودومیں آزادی صحافت کے ایسے سنہری اوراق بھی ہیں،جن پر صرف اورصرف میر صاحب کی مہر ثبت ہے۔ وہ اپنے ماتحتوں میں احساس ذمے داری، محنت کی عادت اور ٹیم اسپرٹ اس خوب صورتی سے پیدا کرتے کہ کارکنوں کے اندر یہ تبدیلیاں رونما بھی ہو جاتیں اور انہیں کوئی جھٹکا بھی نہیں لگتا۔ اُن کے بارے میں کہا جاتا تھاکہ وہ مختلف عادات و اطوار، تصورات و نظریات، اہلیت و استعداد رکھنے والے کارکنوں میں سے ایسی ٹیم پیدا کرلیتے، جوکوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ اُن کی محبت کا محور ’’جنگ‘‘ تھا ۔معروف صحافی، شورش ملک مرحوم نے میر صاحب کے حوالے سے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ میں میر خلیل الرحمٰن اسکول آف جرنلزم کا ایسا گریجویٹ ہوں جس کی صحافتی تربیت اس مشفق استاد نے( میرصاحب) پروف ریڈر، مترجم،سب ایڈیٹر، فیچرر ائٹر،نیوز ایڈیٹر اور ریذیڈنٹ ایڈیٹر تک تمام ترتوجہ اور محنت سے کی۔ میرا اور ان کا تعلق ہمیشہ ایک استاداور شاگرد کا رہا، میں نے ان سے اتنا کچھ سیکھا کہ اگریہ کہوں کہ، میری عمر بھر کا سرمایہ ہے تو اس میں کوئی مبالغہ نہیں۔ میرصاحب ہرکام کو بدرجہ کمال پر دیکھنا چاہتے۔ ان کی ہربات میں ایک درس پنہاں ہوتا، یہی وجہ ہے ہر وہ صحافی، جس نے چند سال بھی ان کے زیر سایہ کام کیا ، بازار میں اس کی قیمت لگ گئی۔ میرصاحب کارکنوں کواپنا سرمایہ سمجھتے ۔ ان کی بہبود، تربیت اور انداز کا ر پر کڑی نظر رکھتے اور باتوں باتوں میں اتنے سبق سکھا جاتے کہ اگر ان پر مکمل توجہ دی جائے تو کوئی کارکن صحافت توکیا کسی بھی شعبہ زندگی میں مار نہیں کھاسکتا۔ انہوں نے ہمیں محنت کا ایسا عادی بنا دیا کہ ہماری زندگیاں بدل گئیں۔ کارکن آرام کرلیتے لیکن میر صاحب ہمہ وقت کام میں مصروف رہتے ،کبھی خبریں بنا رہے ہوتے تو کبھی رپورٹنگ کررہے ہوتے ،کبھی فوٹو گرافی میں مشغول تو کبھی اشتہارات پر نظر اور کبھی اکائونٹ کے اعداد وشمار کا گراف بناتے نظر آتے‘‘۔

یہ میر صاحب کی مردم شناسی تھی کہ انہوں نے بہت سے ممتاز اہل قلم کو جنگ میں لکھنے کی ترغیب دی ۔اللہ نے انہیں یہ خوبی دی تھی کہ وہ کام کے آدمی کو دور سے تاڑ لیتے تھے ۔اہل فن اور اہل کمال کو ہاتھ سے نہیںنکلنے دیتے تھے ۔انہوں نے ایک چراغ سے ہزاروں چراغ جلائے ،جو صحافیوں کے روپ میں پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں ۔

میر صاحب ،صحافت کا ایک تاریخ ساز عہد تھے ۔گزرتے وقت کے ساتھ اُن کی کام یابیاں ،اخلاقی برتری اور ذہانت مسلم ہوتی چلی جائے گی ۔آج میر صاحب کی برسی ہے ۔25جنوری 1992 ء کو وہ دنیا سے رخصت ہوئے۔ جب بھی پاکستان کی تاریخ صحافت مرتب کی جائے گی ،میر صحافت میر خلیل الرحمٰن کانام نہ صرف حرف آغاز ہوگا بلکہ آپ کی ذات اُس کا دور ِشباب بھی ہوگا ،جس نے صحافت کے پیشے کو اس مقام پر لاکھڑا کیا کہ یہ ایک بلند وبالا مینا ر بن گیا، جس سے روشنی پھوٹتی رہتی ہے۔

’’نواب میر خلیل یار جنگ‘‘

بر صغیر پاک وہند ہی میں نہیں ،مغرب میں بھی میر صاحب کے دم قدم سے اردو کی ترویج ہوئی ۔لندن سے نکل کرجنگ اخبار پورے یورپ میں اردو دانوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور وطن کی سفارت کا سامان فراہم کرتا ہے ۔ معروف صحافی، مختار زمن نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ ’’دنیا کی اہم زبانوں میں شاید سب سے کم عمر زبان ’’اردو‘‘ ہے، لیکن ککڑی کی بیل کی طرح پھیلتی جا رہی ہے۔ دلی، لکھنؤ، دکن تو اب تاریخ کا حصہ ہیںلیکن جنوبی ایشیا کو تو چھوڑیے۔ آج اردو بولنے اور سمجھنے والے یورپ، امریکا، کینیڈا سمیت دنیا کے کونے کونے تک پھیلے ہوئے ہیں اور عاشقان اردو کی تسکین کے لئے جنگ ہر جگہ موجود ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی جنگ اخبار نے اردو کی ترویج و ترقی کے لئے جنگی ساز کا کردار اداکیا۔ مورخ تاریخ داستان، اردو میں یہ رقم کرے گا کہ بیسویں صدی ختم ہونے سے پہلے اردو اخبار کی اشاعت لاکھوں تک پہنچ گئی تھی اردو کی جڑیں کئی ملکوں میں پھل گئیں اور یہ میر خلیل الرحمان کی سعی مسلسل کا کرشمہ تھا۔ اگر آج اردو کے عاشق اور اردو کو علوم عالیہ، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میڈیم کی حیثیت دینے والے ایک اور قابل احترام ’’میر‘‘ یعنی میر عثمان علی خان وائی دکن زندہ ہوتے تو روزنامہ جنگ کے صلح پسند مالک و مدیر کو ’’نواب میر خلیل یار جنگ‘‘ کے خطاب سے نوازتے‘‘۔

تاشقند میںپاک بھارت سربراہی کانفرنس اور میر صاحب

1965ء کی پاک بھارت جنگ کے بعد جنوری 1966ء کے اوائل میں تاشقند میں پاک بھارت سربراہی کانفرنس ہوئی، جس میں میر صاحب سمیت تقریبا تین سو سے زائد قومی اور بین الاقوامی صحافیوں نے شرکت کی۔ دس دن کے مذاکرات کے بعد صدرپاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان اور وزیر اعظم بھارت، لال بہادر شاستری نے ایک اعلامیہ پر دستخط کیے، جن کے تحت دونوںممالک نے جنگ کے نتائج کو ختم کرتے ہوئے تعلقات کو معمول پر لانے کا عہد کیا اور کشمیر کےمسئلے پرمذاکرات کے لئے بھارت راضی بھی ہوا۔ اس حوالے سے ابصار حسین رضوی ، جو اُس وقت ایڈیٹر پی پی آئی تھے اور تاشقند سربراہی کی کوریج کے لئے گئے تھےنے، اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا، تاشقند اعلامیے پر دستخط اور کشمیر پر مذاکرات، ایک بین الاقوامی خبر تھی، سب رپورٹر اسٹوری فائل کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ٹیلکس اور ٹیلی فون بوتھوں پر جمع تھے کہ میر صاحب نظر آئے اور کہا بھی، ہم نے تو اسٹوری فائل کر دی ۔ مجھے حیرت ہوئی کہ میر صاحب نے اتنی جلدی اسٹوری فائل کرنے کے لئے محنت کیوں کی۔اگر میرے بعد وہ بھیجتے تو اُن سے کوئی پوچھنے والا تھا۔ میں اُس سے بہت متاثر ہوا۔ یہ اُن میں کام کرنے کی لگن تھی، اسی لئے دوڑ بھاگ کر کے جلد سے جلد اسٹوری فائل کر دی۔

میر صاحب کااسکوپ

اعلان تاشقند پر دستخط ہو گئے اسی رات روسی وزیر اعظم نے ضیافت دی، بعد ازاں روسی اخبارات کی جانب سے ایک اور دعوت ہوٹل تاشقند میں دی گئی۔ رات گئے تک صحافی اپنے ہوٹل واپس آئے پھر کیا ہوا؟ اس حوالے سے ابصار حسن رضوی نے ایک مضمون میں لکھا ’’ہم آدھی رات کے بعد تھکے ہارے ہوٹل میں اپنے اپنے کمروں میں سونے کے لئے لیٹے ہی تھے کہ فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو ایک خاتون اطالوی لہجہ میں کہہ رہی تھی ’’مسٹر رضوی، مسٹر رضوی، مسٹر شاستری از ڈیڈ‘‘۔ میری کچھ سمجھ نہ آیا کہ کیا جواب دوں۔ میں نے ’’بہت بہت شکریہ‘‘ کہہ کر فون بند کر دیا۔ نیند کی حالت میں دوبارہ لیٹ گیا، پھر خیال آیا، شاستری مر گیا، فوراً بیڈ سے چھلانگ لگائی اور کمرے کے دروازے سے باہر ہی نکلا تھا کہ دیکھا ، میر صاحب تھری پیس سوٹ میں تازہ دم لابی میں آرہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی کہنے لگے۔ ’’ارے رضوی تم یہیں کھڑے ہو، ابھی‘‘ میں سمجھ گیا کہ شاستری واقعی مر گیا۔ اب پھر وہی مصیبت کہ جلد سے جلد خبر بھیجی جائے۔ روس کا وقت پاکستان سے کئی گھنٹے پیچھے ہے ، اس لئے پاکستانی اخباروں کی ڈیڈ لائن بھی نکل گئی تھی۔ میں نے پاکستان میں اپنے ایم ڈی اور پی پی آئی کے سربراہ، معظم علی صاحب کو جگا کر خبر لکھوائی، لیکن دوسرے دن خبر صرف میر صاحب کے ’’جنگ‘‘ میں چھپی۔ اس طرح میر صاحب نے ’’اسکوپ‘‘ کیا۔

اسے قسمت نہیں تو کیا کہیں گے

کہتے ہیں عمل اور پیہم سے بہت کچھ بنتا ہے۔ تدبیر کے ساتھ تقدیر کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ میر صاحب کے بارے میں صاحب فہم و فراست کہنا اور مدبر قرار دینا تو عمل کی بات ہے، لیکن مقدر کو کیا کہیں گے، جو میر صاحب کا ساتھ دینا تھا۔اس ضمن میں صرف ایک واقعہ ملاحظہ کیجیے۔ 57ء میں جب شپ یارڈ کی تعمیر شرو ع ہونے اور سنگ بنیاد رکھا جانے لگا تو اس کی بنیادوں میں پاکستان کی معاشرت اور دیگر شعبہ حیات کی ایک ایک چیز بہ طور نمونہ رکھی گئی، اُس وقت اخبار بھی رکھنے کی تحریک ہوئی، چناں چہ ملک سے نکلنے والے سارے اخبارات کی قرعہ اندازی کی گئی ۔ قرعہ فال میر خلیل الرحمٰن کے نام نکلا۔ جنگ اخبار شپ یارڈ کی بنیادوں میں رکھا ہوا ہے۔ اسے قسمت نہیں تو کیا کہیں گے۔

ہم عصروں میں قدر آور

میر صاحب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل گھڑی میں بھی حوصلے کی چٹان بنے رہتے۔ اُنہوں نے کارکنوں کی حماقتوں کے باعث کئی دکھ اٹھائے، لیکن کبھی کسی کارکن پر آنچ نہ آنے دی۔ ایسا کرنا بہت مشکل ہے اورہر کسی کے بس کی بات بھی نہیں۔ یہ صرف بڑے دل کا شخص کر سکتا ہے۔ اس لحاظ سے میر صاحب اپنے ہم عصروں میں سب سے قد آور تھے۔ وہ کارکنوں کے مفادات کی خاطر اپنا فیصلہ بدل لیتے تھے۔ اُنہوں نے ادارے اور اپنی ذات کو کبھی گڈ مڈ نہیں ہونے دیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں