پاکستانی لڑکے سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون کے وکیل احمد حسن پاشا کا کہنا ہے کہ سربجیت کور کو اس کی مرضی سے بھارت بھیجا جا رہا ہے۔
سربجیت کور کے وکیل احمد حسن پاشا نے جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فارنر ایکٹ 1946 کے تحت سربجیت کور فی الحال پاکستان میں نہیں رہ سکتی تھی، سربجیت کور بھارت سے اب اسپوس (Spouse) ویزہ پر پاکستان آئے گی۔
وکیل احمد حسن پاشا نے کہا کہ پاکستان آنے کے بعد سربجیت کور مستقل رہائش کے لیے اپلائی کرے گی۔
خیال رہے کہ پاکستانی لڑکے سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون کو ویزہ میعاد مکمل ہونے پر واہگہ بارڈر کے راستے بھارت واپس بھیجا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا پر دوستی کے بعد سربجیت نے اسلام قبول کرکے شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کی۔ دونوں کی دوستی 2016 میں ہوئی، سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئیں، اسلام قبول کیا، جس کے بعد اس کا نام نور فاطمہ رکھا گیا۔
سربجیت نے ناصر حسین سے پسند کی شادی کے بعد پاکستان میں قیام کیا، سربجیت کور کے ویزے کی میعاد 13 نومبر تک تھی لیکن وہ بھارت واپس نہیں گئیں۔