• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

انجیلا مرکل کی کابینہ میں خواتین کی تعداد تبدیلی لائے گا

انجیلا مرکل کی کابینہ میں خواتین کی تعداد تبدیلی لائے گا

فریڈرک اسٹیڈمین

جرمنی کی نئی حکومت کیچھ ماہ کی تمام تر ہاتھا پائی کیلئے اور ڈرامہ جو اس کی ابتداء کے ساتھ ، مبصرین کو یہ سوچنے پر معاف کردیں گے کہ گزشتہ کی طرح اس بار بھی قابل ذکر نظر آتی ہے۔

چانسلر انجیلا مرکل کی کرسچین ڈیموکریٹس(سی ڈی یو) اور سوشل ڈیموکریٹس کے درمیان اب تک کے ایک اور بڑے اتحاد کو خوش آمدید، دونوں ایک دوسرے کو سیاسی مرکزی میدان میں ایک دوسرے سے مزید بیتابی سے گلے مل رہے ہیں جیسا کہ مارجن میں زیادہ ووٹر کا ڈھیر لگ گیا۔ مثبت بات یہ ہے کہ کچھ پنڈٹ امید کررہےہیں کہ اینگلا مرکل کی چوتھی اور تقریبا آخری مدت میں ان کی انتظامیہ یورپ بھر میں ضروری اصلاحات اور انضمام کو فروغ دے گی۔ اگرچہ جنہیں شک ہے وہ انتظار میں ہیں کہ ارادے کےمحتاط الفاظ پر مبنی بیان پر درحقیقت کیسے عمل ہوتا ہے۔

تاہم ایک ایسا شعبہ موجود ہے جس میں اینگلا مرکل کا اختتامی باب مختلف ہوگا اور وہ ہے صنف۔ آئندہ کابینہ صنفی مساوات کے قریب ترین ہے۔دو اہم جماعتوں نے ان کے محکموں کو مردوں اور خواتین میں یکساں تقسیم کیا ہے۔مجموعی توازن صرف بویریا میں سی ڈی یو کی پارٹنر کرسچیئن سوشل یونین کی جانب سے خراب ہوسکتا ہے،جہاں علاقائی مطالبے کے کارڈ پر چیزیں مختلف طرح سےکی جارہی ہیں۔ وہ کابینہ میں اپنی تین نشستیں مردوں سے پر کررہے ہیں۔( چوتھی، تھوڑی سی جونیئر ریاستی وزیر کی پوزیشن سی ایس یو کی خاتون سے پر کی جائے گی،جو کابینہ کے اجلاسوں میں شرکت کریں گی)۔

جرمن سیاست میں اعلیٰ سطح پر خواتین کی موجودگی میں اضافہ ہوتا ہے جب آپ سی ڈی یو اور ایس پی ڈی میں نئے تصوراتی سربراہوں کا اضافہ کریں گے۔ اینگلا مرکل کی جانشینوں کی فرضی فہرست پر نظر ڈالیں تو اینگرٹ کریمپ-کیرن باؤر ، اینڈریا نہلاس موجود ہیں۔ زیادہ تر موجودہ معاصر میں خواتین خوش قسمت ہیں۔ دفاعی وزیر خارجہ ارسلا وین ڈیر لیین اور زراعت کی وزیر جولیا کلاکارنر کے ساتھ اس وقت اے کے کے قیادت کررہی ہیں

یہ مجموعی طور پر زیادہ پہلے کی نہیں، خاص طور پر سی ڈی یو کے لئے ایک واضح تبدیلی ہے۔ جب سدی بدلنے کے موقع پر اینگلا مرکل نے پارٹی کی قیادت جیت لی تھی، ہیلمٹ کوہل کی آخری کابینہ میں شامل دو خواتین میں سے ایک تھیں، انہوں نے اینڈین معاہدے کی صورت میں ایک خوفناک قوت کا سامنا کیا تھا،سی ڈی یو کے ابھرتے ہوئے ستارے تمام مردوں کے عملے نے چلی کے دورے کے بعد بھائیوں کا ایک بینڈ نما بنادیا( جس کا مختصر نام ہینس تھا)۔ اچھی طرح سے رابطے میں اور حق داری سے بھرپور،ان کی نمایاں تعداد خود کو مستقبل کے چانسلر کے طور پر دیکھتی تھی۔جن میں سے ایک بھی نہیں بن سکا۔ سائیڈ لائن ہونے یا برسلز سے جانے سے قبل چند ہی اعلیٰ عہدوں تک پہنچ پائے۔دیگر نے کاروبار میں پرکشش کیریئرز کی خاطر سیاست سے کنارہ کشی کرلی۔چند ہیں جو فعال نظر نہیں آتے۔

مس کلونکر کیلئے جماعت میں خواتین کی بہتر پوزیشن حالیہ عشروں کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے۔ لندن اسکول آف اکنامکس کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے ایک بار واضح طور پر بات کی تھی کہ کیسے انہوں نے، کوہل کی آبائی ریاست مغربی جرمنی، پرانی سی ڈی یو میں شامل نہیں ہوگی ۔ یہ بہت زیادہ بوڑھے آدمی کا کلب تھا۔اب وہ فکرمند ہیں کہ آئندہ حکومت کو درپیش ہونے والے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک ان کی کامیابیوں حال ہی میں آنے والے سیکڑوں ہزاروں کی تعداد میں مہاجرین اور تارکین وطنوں کا کامیبای سے انضمام کو نادانستہ طور پر دھمکی دی جاسکتی ہے:

صنف کے لئے مختلف ثقافتی رویوں پر خطاب کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ چاہے یہ عوامی مقامات پر خواتین کے ساتھ برتاؤ ہو یا اتھارٹی پوزیشن میں عہدوں پر خواتین کی قبولیت ہو،بہت بڑے مسائل میں سے ایک ہوگا۔

مس کلونکیر نے کہا کہ پناہ گزینوں کے بحران نے جرمنوں کو آئینہ دیکھنے پر مجبور کردیا اور پوچھا کہ کس طرح کے ملک میں نئے آنے والے ضم ہورہے ہیں۔ ان کے ساتھ اور اعلیٰ عہدے کیلئے ان کے ممکنہ حریف وزیر صحت جینز اسپن نے معروف یا رہنام کلچر ’لیٹیکلچر‘ کی ضرورت پر بات چیت کی،اقدار جن کی اسکولوں میں تلیم دی جائے۔

ایک دہائی یا اس سے پہلے لیٹیکلچر (بنیادی کلچر یا عام کلچر)پایک انتہائی لفظ تھا اور اس کی ثقافتی استثناء کی تجاویز صحافیوں کے درمیان اشتعال پیدا کرنے کیلئے کافی تھیں۔

اب زیادہ دور نہیں کہ معاشی اصلاحات، سیکیورٹی اور ڈیجیٹلائزیشن کے ساتھ مزید مسائل کے امکانات ہیں، قطع نظر انچارج کون ہے،جرمن سیاسی زندگی میں آئندہ باب شناخت کے بنیادی سوال کے ساتھ متعلق تیار نظر آرہا ہے۔ یہ ایک وسیع بحث کا وعدہ کرتا ہے۔

تازہ ترین
تازہ ترین