• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پارلیمنٹ ڈائری،چوہدری نثار نے خاموشی کے بعدموجودگی کااحساس دلایا

اسلام آباد( محمدصالح ظافر خصوصی تجزیہ نگار) سابق وفاقی وزیر داخلہ اور کسی دور میں پاکستان مسلم لیگ نون کی قیادت کے نفس ناطقہ کے طور پہچان کے حامل چوہدری نثار علی خان نے طویل عرصہ خاموش رہنے کے بعد جمعۃ المبارک کو قومی اسمبلی میں مختصر دورانیے کےلئے اپنےاظہارخیال میں اپنی موجودگی کااحساس دلایا ہے وہ اجلاس میں باقاعدگی سے شرکت کرتے آئے ہیں تاہم ان کی موجودگی محدود وقت کےلئے رہتی، وہ آتے چند ارکان کے ساتھ مصافحہ کرتے اورمختصراً خوش گپیاں کرتے اور یوں ایوان سےرخصت ہوجاتے وہ حکمران پارٹی کے اعلیٰ سطح کے کسی اجلاس میں بھی دکھائی نہیں دیئے یہ واضح نہیں کہ وہ مدعو ہی نہیں ہوتے تھے یا پھر ’’ رضا کارانہ‘‘ طورپر غیر حاضر رہتے تھے یہ تو تقریباً طے ہے کہ پارٹی کے تاحیات قائد سبکدوش وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ ان کی سیاسی ہم آہنگی پارٹی کے نئے سیاسی اسلوب سے برقرار نہیں رہی وہ’’ جن‘‘ کے ساتھ آسانی محسوس کرتے ہیں نواز شریف ان کےلئے شجرممنوعہ کا درجہ رکھتے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی اور آصف زرداری ’’ ان‘‘ کی نئی دریافت ہیں،شاید اس طورپر چوہدری نثار علی خان کے ہمدم دیرینہ عمران خان بھی ان کے اس قدر قریب نہیں رہے۔سیاست کے اس رخ کے پس منظر میں چوہدری نثار علی خان نے رسوائے زمانہ ای سی ایل میں نوازشریف اور ان کے اہل خانہ کا نام ڈالنے کے بارے میں حساس نوعیت کے سوال پر گفتگو میں بطور سابق وزیر داخلہ دخل اندازی کرتے ہوئے تبصرہ آرائی کی جس سے یہ گمان کیاگیا کہ وہ مسلم لیگ نون سے کافی فاصلہ اختیار کرچکے ہیں حالانکہ ان کی گفتگو میں رنگ زیادہ مزاحمتی نہیں تھا، پیپلز پارٹی کے پارلیمانی گروپ لیڈر سید نوید قمر نے رائے ظاہر کی کہ نیب کے بعض مقدمات میں مدعا علیہان کے نام فوری طورپر ای سی ایل کا حصہ ڈال دئیے جاتے ہیں تاکہ وہ بیرون ملک کا سفر اختیار نہ کرسکیں لیکن نواز شریف اور ان کے افراد خانہ کے نام نیب کی سفارش کے باوجود اس فہرست میں نہیں ڈالے گئے ، ای سی ایل کے سلسلے میں یہ دوہرا معیار کیوں ہے؟ اس استفسار کا بہترین جواب وفاقی وزیر داخلہ پروفیسر احسن اقبال یا محمد طلال چوہدری دے سکتے تھے وہ دونوں ایوان میں موجود نہیں تھے جبکہ کسی دوسرے وزیر نے اس بارے میں لب کشائی سے گریز کیا اور پارلیمانی سیکرٹری ڈاکٹر محمدا فضل خان ڈھانڈلہ اس سے عہدہ برآہونے کے لئے کوشاں رہے اسی اثنا میں چوہدری نثار علی خان اچانک اٹھے اور انہوں نے اس معاملے میں ایوان کو طریق کار کی تبدیلی سے ایسے پیرائے میں آگاہ کیا کہ پیپلزپارٹی کے پارلیمانی لیڈر کو اس سے راحت ملتے ہوئے دکھائی دی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2013 سے پہلے ای سی ایل میں نام ڈالنے کےلئے سفارش چلتی تھی اس کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اگر میاں بیوی کا جھگڑا ہوجاتا تو کسی ایک کا نام ای سی ایل میں ڈال دیا جاتا تھا یہاں تک ان کی بات پیپلزپارٹی کےلئے خوش کن نہیں تھی آگے چل کر انہوں نے بتایا کہ میں نے اپنے وزیر داخلہ کے طورپر اپنے دور میں اس پالیسی کو تبدیلی کیا اور اس معاملے میں وزیر داخلہ اورسیکرٹری داخلہ کے کردار کو ختم کردیا۔ اب وزارت داخلہ کی ایک کمیٹی اس بارے میں فیصلہ کرتی ہے کہ نام ای سی ایل میں ڈالا جائے یا نہیں، انہوں نے دعویٰ کیاکہ ان کے دور میں وزارت داخلہ کی یہ کمیٹی میرٹ پر فیصلہ کیا کرتی تھی اور نیب کی سفارش کو سنجیدگی سے لیا جاتا تھا اب اس معاملے میں فیصلہ کمیٹی نے نہیں بلکہ’’ کہیں اور‘‘ سے ہوا ہے۔ انہیں اس’’ اور‘‘ کی وضاحت کرنا چاہیے تھی جو لا محالہ اشارہ وزیراعظم کی جانب ہوگا۔ یقیناً اسٹیبلشمنٹ ان کا روئے سخن نہیں ہو گی۔ یہاں تک بھی بادل نخواستہ چوہدری نثار علی خان کے فرمودات کو دوستانہ گلباری تصور کیا جاسکتاہے لیکن جب تھوڑا سا آگے بڑھ کر انہوں نے یہ بھی کہہ ڈالا کہ سابق وزیراعظم کے معاملے پر بھی کمیٹی نے جائزہ لیا ہوگا اس کی سفارشات ایوان میں پیش کی جائیں، یہ مطالبہ چوہدری نثار علی خان کو زیب نہیں جو شریف برداران کے مقرب اور دمساز ہیں۔
تازہ ترین