آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے ایک دوست آج کل ایک عجیب مشکل سے دو چار ہیں، وہ کافی عرصہ پہلے ترک وطن کر چکے تھے اور بیرون ملک اب بہت ہی آسودگی سے زندگی گزار رہے ہیں میرے یہ دوست چند ماہ پیشتر پاکستان آئے اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ سال بھر میں کچھ عرصہ باہر اور باقی وقت وطن عزیز میں گزاریں گے۔ ان کے بیوی بچے بھی اس فیصلہ سے راضی ہیں۔ ان کے ایک بیٹے نے فیصلہ کیا کہ وہ مقابلہ کا امتحان جو اعلیٰ نوکرشاہی میں داخلہ کے لئے ضروری ہے دے گا اور آج کل اس کی تیاری میں مصروف ہے۔ میرے دوست کو تشویش اور پریشانی دوہری شہریت کے حوالہ سے ہے۔ وہ اور اس کا تمام خاندان دوہری شہریت کا حامل ہیں۔ حالیہ دنوں میں سینیٹ کے انتخابات کے موقع پر پاکستان الیکشن کمیشن نے چار سینیٹرز کو حلف لینے سے روک دیا کہ ان کے بارے میں شنید تھی کہ وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ یہ ایک عجیب صورتحال تھی۔ پھر اعلیٰ ترین پاکستانی عدالت کی مداخلت سے ان کو حلف لینے کی اجازت دے دی گئی۔ میرے دوست کو پریشانی تھی کہ اس کا بیٹا کیا پاکستان میں اپنا مستقبل بہتر بنا سکے گا۔ کیونکہ اعلیٰ عدلیہ نو کر شاہی میں دوہری شہریت کے لوگوں کی نشان دہی چاہتی ہے۔ یہ بات تشویشناک نہیں۔ مگر اس معاملہ کے لئے کوئی قانون ہونا بھی ضروری ہے۔
پاکستان میں دوہری شہریت والوں کے لئے کوئی اصول اور قانون وضع نہیں

ہے۔ گزشتہ سالوں میں اس پر عبوری قانون بھی بنا ئے گئے اور ان پر عملدرآمد بھی ہوا اور ان کا دائرہ عوامی نمائندوں تک رہا۔ جب آصف علی زرداری صدر پاکستان تھے ان کے کار خاص سابقہ وزیر داخلہ رحمن ملک بیک وقت پاکستان اور برطانیہ کے شہری تھے اور رحمن ملک پیپلز پارٹی کی جانب سے سینیٹ کے امیدوار تھے تو عبوری قانون کے مطابق پاکستان کے شہری ہی سینیٹ کے رکن بن سکتے ہیں اور پھر رحمن ملک نے اعلان کیا کہ انہوں نے برطانوی شہریت ترک کر دی ہے۔ اور اس کا ثبوت بھی دینا پڑا۔اس حوالہ سے جتنا عرصہ وہ تنخواہ اور مراعات لیتے رہے۔اعلیٰ عدالت نے ان کو اس کی واپسی کا حکم دیا اور جو ابھی تک سابق وزیر داخلہ نے سرکار کو واپس نہیں کیا۔ اب اعلیٰ عدالت نے رحمن ملک کو نوٹس بھی جاری کیا ہے۔ ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانوی شہریت جز وقتی بنیادوں پر ترک کی جا سکتی ہے۔ جس کا فائدہ سابق وزیر داخلہ اور دوسرے اہم لوگ حاصل کر رہے ہیں اور اس سلسلہ میں کوئی اصول وضع نہیں ہے۔
میں نے اپنے دوست کو دلاسا دیا کہ دوہری شہریت اس کے بچے کے مستقبل کے لئے پریشان کن نہیں ہے۔ ہمارے ہاں دوہری شہریت کے سب سے زیادہ لوگ دفتر خارجہ میں ہوتے تھے۔ ہمارا سفارتی عملہ اگر کسی ایسے ملک میں فرائض ادا کر رہا ہے جہاں ایک مخصوص وقت تک قیام کے بعد شہریت مل جاتی تھی تو اکثر لوگ اپنے خاندان کو اس رعایت سے مستفید ضرور کراتے اور کسی کو اعتراض بھی نہ ہوتا۔ پھر پاکستان کے پڑھے لکھے لوگ بھی ترک وطن کرنے لگے اور زیادہ لوگ ان ممالک میں ہی گئے۔ جہاں دوہری شہریت کی اجازت تھی۔ پھر اعلیٰ نوکر شاہی کے لئے مقابلہ کا امتحان بھی کچھ ممالک میں ہونے کے سلسلہ میں کارروائی کی گئی ۔ تو اس کا مطلب تھا کہ دوہری شہریت کے حامل لوگ پاکستان میں ملازمت کے حق دار ہیں۔ صرف عسکری حلقوں میں اسکی گنجائش نہ تھی اور اگر کوئی دوہری شہریت کے حامل خاندان کا فرد عسکری حلقہ میں شامل ہوا تو اس کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور احوال کو صرف نظر کہا گیا۔ مگر اب دوہری شہریت کے معاملہ پر اعلیٰ عدلیہ فکر کر رہی ہے اور اس وجہ سے عام لوگوں میں تشویش اور بے چینی ہے۔
تارکین وطن میں وطن سے تعلق تو ختم نہیں ہو سکتا اور وہ زر مبادلہ کی خطیر رقم سے پاکستان کی معیشت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ مگر حقوق کے معاملہ میں ان کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے۔ وطن واپسی پر ان کا استقبال بھی مناسب نہیں ہوتا وہ زر مبادلہ سے ملک کی مدد کرتے ہیں۔ مگر ان کو کسی بھی رعایت کا حق نہیں دیا جاتا۔ ان کو اب تک ووٹ کا حق بھی نہیں دیا ہے ۔ دوہری شہریت کے حامل پاکستانی ملک کی ترقی کے لئے ہم ملک میں موجود پاکستانیوں سے زیادہ سنجیدہ اور مخلص ہوتے ہیں۔
دوہری شہریت کے معاملہ پر ہماری اشرافیہ اور سیاستدان مکمل طور پر خاموش ہیں۔ ان میں سے زیادہ لوگ دوہری شہریت کی وجہ سے امیر سے امیر ترین بن چکے ہیں۔ ان کے نزدیک پاکستان میں قانون اور عدلیہ بہت ہی پیچیدہ نظام رکھتے ہیں اور ان سے امید رکھنا فضول ہے اور جب ایسا تاثر ہو اور اس معاملہ میں ایسا نظام قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو بظاہر تو جمہوریت کا پرچار کرتا ہے اور کچھ لوگ اس کو جمہوریت کا انتقام کہتے ہیں اور دوسری طرف یہ سب جمہوریت کا حسن ہے۔ انتقام اور حسن کے درمیان یہ جنگ ہماری سیاست کی جنگ بن چکی ہے۔ سیاست دان جس قسم کی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ہماری سیاست عقل اور فہم سے مبرا لگتی ہے۔ حالیہ دنوں میں سینیٹ کے انتخابات کے بعد جمہوریت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ جو لوگ خلاف توقع یہ انتخابات ہار گئے۔ وہ اپنی شکست تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ سب سے زیادہ رد عمل قومی اسمبلی میں نظر آیا۔ جمہوریت کے دعوے دار ان انتخابات پر شک کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان الیکشن کمیشن اس سلسلہ میں کارروائی کا سوچ رہا ہے۔ الیکشن کمیشن ملکی ایجنسیوں کی مدد سے ہارس ٹریڈنگ کا سراغ لگانے کا سوچ رہے ہیں اور اس ہی وجہ سے انہوں نے دوہری شہریت کے حامل چار سینیٹر پر شک کا اظہار کر کے ان کو حلف اٹھانے سے روک دیا تھا جبکہ ان انتخابات میں حصہ لینے والوں کے سلسلہ میں کافی تبدیلیاں بھی کی گئیں ۔ اور بہت ساری ایسی معلومات جو آپ کو شفاف بناتی ہیں۔ ان کو بیک جنبش قلم ختم کر دیا گیا۔ جس سے یہ انتخابات مشکوک نظر آئے۔
دوہری شہریت رکھنے والے پاکستانی جب کسی دوسرے ملک میں ہوتے ہیں تو ان پر کوئی شک اور شبہ نہیں کیا جاتا۔ ایسے بہت سے پاکستانی ۔ برطانیہ میں سیاست میں بھرپور کردارادا کرتے رہے ہیں۔ ان سے کسی نے نہیں پوچھا اور نہ ہی کوئی نیا قانون بنانے کا سوچا گیا۔ اس وقت ہمار ےہاں تقریباًہر شعبہ زندگی میں دوہری شہریت والے لوگ سرگرم عمل ہیں۔ اب یہ بھی واضح نہیں ہے کہ ان کو دوہری شہریت کی وجہ سے کون سے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔
ہمارے سابق وزیر اعظم جناب میاں نواز شریف کے دونوں بیٹے بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور برطانیہ میں کاروبار بھی کر رہے ہیں اور بیرون ملک اداروں اور لوگوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے لئے مشاورت فراہم کرتے ہیں اور ان کی مشاورت قابل اعتماد مانی جاتی ہے۔ دوہری شہریت کے عبوری قانون پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور تارکین وطن کو جلد از جلد ووٹ کا حق دینا بھی ضروری ہے۔ ہمارے ہاں دوہری شہریت کے سلسلہ میں قانونی پیش رفت جلد از جلد ہونی چاہئے۔ اس سے تارکین وطن کی حیثیت مستحکم ہو جائے گی صرف اس بنیاد پر تارکین وطن کو نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں